بڈگا م میں بھارتی ریاستی دہشتگردی ، 2کشمیری نوجوان شہید، نجی سکول میں دھماکہ ، 28طلباء زخمی ہڑتال ، احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا

بڈگا م میں بھارتی ریاستی دہشتگردی ، 2کشمیری نوجوان شہید، نجی سکول میں دھماکہ ...

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی فوجی دہشت گردی کے دوران ضلع بڈگام میں بھارتی فورسز نے مزید 2 نوجوان شہید کر دیئے، ادھر مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بدلنے کی سازش کیخلاف مشترکہ حریت قیادت کی اپیل پر 2 ر و ز ہ ہڑتال جاری ہے ، وادی کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں ،احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی کی بھاری نفری تعینات ہے،جبکہ ضلع پلواما کے ایک سکو ل میں دھماکے میں 28طلبا زخمی ہوگئے، پانچ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جبکہ المناک واقعہ کیخلاف اہل علاقہ نے شدید احتجاج کیا ، بھا ر تی پولیس نے حریت رہنما ظفر اکبر بٹ کوسرینگر کے علاقے نوگام کے دورے کے دوران گرفتارکرلیاجبکہ جموں وکشمیر کے پہاڑی قصبے کر گل کے عوام نے قابض انتظامیہ کی طرف سے علاقے کیساتھ امتیازی سلو ک کیخلاف شدید سردی کے باوجودگزشتہ روزمسلسل پانچو یں دن بھی احتجاج جاری رکھا۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال سید علی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی ہے جبکہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر، کشمیر سینٹر فار سوشل اینڈ ڈویلپمنٹ سٹڈیز اور کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سمیت متعد سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ ہڑتال کے پہلے دن تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ بیشتر سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی، اس موقع پر پوری مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز کی بھاری تعداد کو تعینات کیاگیا تھا۔ دھربھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع بڈگام میں 2 اورکشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ فوجیوں نے نوجوانو ں کو ضلع کے علاقہ چاڈورہ میں تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔شہید نوجوانوں کی شناخت ہلال احمد اور شعیب احمد کے طور پر ہوئی ہے۔حریت رہنماؤں اور تنظیموں سیدعلی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق ، محمد اشرف صحرائی ، شبیراحمدڈر ، عبدالصمد انقلابی ، محمد اقبال ،جموں وکشمیر مسلم لیگ اور امت اسلامی نے اپنے الگ الگ بیانات میں شہید کشمیری نوجوان ہلا ل احمد راتھراور دیگر شہداء کو زبردست خراج عقید ت پیش کیا۔ سیدعلی گیلانی نے کہاعالمی طورپر تسلیم شدہ تنازعہ کشمیر کے بارے میں بھارت کے ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ سے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام اور تباہی کا بازار گرم ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار صحافت کے طا لبعلم عادل فاروق کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھرضلع پلوامہ کے علاقہ کاکہ پورہ کے علاقہ نارہ پل میں ایک نجی سکول کے اندر پراسرار د ھما کے سے 28طالب علم زخمی ہوگئے ، جن میں پانچ کی حالت تشویشناک ہے، زخمی طلبا کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ جائے وقوعہ پر ریسکیو کا کام جاری ہے،سکول میں ہونیوا لے دھماکہ کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں،سکیورٹی اداروں نے سکول کے اطراف کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔فوری طور پر دھماکہ کی ذمہ داری کسی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی ،پولیس کے مطابق دھما کہ ہینڈ گرنیڈ کا لگتا ہے اور معلوم پڑتا ہے کوئی سکول میں گرنیڈ لے کر داخل ہوا تھا۔المناک واقعے کیخلاف علاقے کے لوگوں نے زبرد ست مظاہرے کیے۔ بھارتی فورسز نے مظاہر ین کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے بعد مظاہرین اور فورسز اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔دوسری جانب حریت رہنمامختار احمد وازہ نے ضلع کولگام کے علاقے قیموہ میں ایک شہید نوجوان کے گھر جاکر سوگواروں سے خطاب کرتے ہوئے بھارت پر زوردیا کہ وہ کشمیر کے حوالے سے جارحانہ رویہ ترک کرے۔

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول


loading...