پاک افغان سرحدی گزرگاہوں پر جدید استقبالی مراکز بنائینگے،چین

پاک افغان سرحدی گزرگاہوں پر جدید استقبالی مراکز بنائینگے،چین

اسلام آباد،واشنگٹن (صباح نیوز) چین، پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہوں پر جدید استقبالیہ مراکز، پینے کے پانی اور کولڈ سٹوریج کی سہولیات کی تعمیر کیلئے سرمایہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔چین کے اس پراجیکٹ کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان روزانہ ہزاروں افراد کی آمد و رفت اور تجارتی قافلوں میں آسانیاں پیدا کرنا ہے جس سے دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔بیجنگ کے دونوں ملکوں کیساتھ اچھے سفارتی اور اقتصادی تعلقات ہیں اور وہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدہ رابطوں کو بہتر بنانے کیلئے انکی حوصلہ افزائی کر رہا ہے، تاکہ افغان جنگ کے خاتمے کیلئے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کسی سیاسی سمجھوتے تک پہنچنے کیلئے یہ دونوں ملک مل کر کام کر سکیں۔اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف مشن زہو لی جیان نے امریکی نشریاتی ادارے کو ایک تفصیلی انٹرویو میں بتایا کہ کابل میں تین ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اعلی سطحی مذارات میں سرحدی گزرگاہوں کو ترقی دینے کے پر وگرام پر اتفاق ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان منصوبوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اور بالآخر اس کے نتیجے میں افغانستان میں امن اور ترقی لانے میں مدد ملے گی۔لی جیان نے سرحدی گزرگاہوں پر جدید سہولتوں کی فراہمی کے اپنے منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کولڈ سٹویج کی سہولت دونوں ملکوں کے درمیان مصروف ترین بارڈر کراسنگ طورخم اور چمن میں فراہم کی جائے گی، جب کہ پانی کا منصوبہ شمالی وزیرستان کی گزرگاہ غلام خان خیل ٹرمینل میں لگایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں چھوٹے تاجر طورخم اور چمن کے راستے آتے جاتے ہیں۔ اگر ان مقامات پر کولڈ اسٹویج موجود ہوں تو وہ اپنے پھلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کا استعمال کر سکیں ہیں۔ اسی طرح سرحدی گزرگاہوں پر اگر بہتر استقبالی مراکز قائم ہوں اور وہاں پینے کے پانی کی سہولت بھی موجود ہو تو آنے جانیوالوں کیلئے آسانیاں پیدا ہوں گی۔

مزید : صفحہ آخر