کراچی ، 5وارداتیں ، ٹارگٹ کلنگ میں ایک ہی گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ

کراچی ، 5وارداتیں ، ٹارگٹ کلنگ میں ایک ہی گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ

کراچی(کرائم رپورٹر) شہر قائد میں سیاسی ٹارگٹ کلنگ کی 5 وارداتوں میں ایک ہی گروپ ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، نیو کراچی یو سی آفس پر حملے میں وہی گروہ ملوث ہے جس نے پی ایس پی کے ٹاؤن آفس پر حملہ کیا۔ ذرائع کے مطابق پیر کی شب ایم کیو ایم کے یو سف آفس پر حملے میں ملنے والے خالی خول رضویہ میں ٹان آفس حملے کے خولوں سے میچ کر گئے، نیو کراچی اور رضویہ کے دونوں واقعات میں ایک ہی ہتھیار دونوں جگہ استعمال ہوئے، خالی خول نائن ایم ایم پستول کے ہیں۔ نیو کراچی واقعہ میں دو ہتھیار ایس ایم جی اور نائن ایم ایم استعمال ہوئے تھے جائے وقوع سے ایس ایم جی کے 16 اور نائن ایم ایم کے 13 خول برآمد ہوئے تھے۔ نیوکراچی یو سی آفس پر 3 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 ملزمان نے حملہ کیا جس میں دو حملہ آوروں نے ماسک پہنا ہوا تھا جبکہ رضویہ ٹان آفس پر 6 موٹر سائیکلوں پر سوار 12 ملزمان نے حملہ کیا تھا۔ رضویہ ٹان آفس پر حملے کے لیے آنے والوں میں سے بھی 2 ہی ملزمان نے فائرنگ کی تھی۔ ذرائع کے مطابق یو سی آفس حملے میں ملوث ملزمان علاقے کے ہی ہونے کا شبہ ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق حملے میں ایس ایم جی کا استعمال بتایا ہے کہ حملہ آور دور سے نہیں آئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شبہ ہے کہ گلستان جوہر میں دسمبر میں ایم کیو ایم پاکستان کی محفل میلاد پر بم دھماکا، 23 دسمبر کو رضویہ میں پی ایس پی کے ٹان آفس پر فائرنگ، سابق رکن اسمبلی علی رضا عابدی کا قتل، 28 دسمبر کو لائنز ایریا میں حقیقی کارکن کی ٹارگٹ کلنگ، ڈیفنس میں پی ایس پی کے سیکرٹری میر عتیق تالپور کی گاڑی پر حملہ اور نیو کراچی یو سی آفس پر حملے میں ایک ہی گروپ ملوث ہو سکتا ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ وارداتوں میں 3 سیاسی پارٹیوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے مخالف ایک ہی سیاسی پارٹی ہے، اس پہلو پر بھی تفتیش کی جارہی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...