افسانہ نگار خیرالنساء جعفری کی یاد میں خصوصی لیکچر‘‘ کا انعقاد

افسانہ نگار خیرالنساء جعفری کی یاد میں خصوصی لیکچر‘‘ کا انعقاد

کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیراہتمام ’’سندھی زبان کی معروف افسانہ نگار خیرالنساء جعفری کی یاد میں خصوصی لیکچر‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت اردو زبان کے معروف شاعر کوثر نقوی نے کی۔ مہمان خاص عرفان علی عابدی تھے۔اس موقع پر صدارتی خطاب میں کوثرنقوی نے کہا کہ خیر النساء جعفری کو ادبی حلقوں میں گڈی اور خیرو کے نام سے پکارا جاتاہے آپ کا جنم حیدرآباد میں ۷۴۹۱ میں ہوا آپ نے جس گھرمیں جنم لیا وہ علم و ادب کا گہوارا تھا آپ کے والد پروفیسر احمد علی خواجہ سندھ کے مشہورجانے پہچانے عالم و دانشور تھے۔ آپ ایک طرف اپنی تحریر اور اپنے لیکچرز کی باعث منفرد مقام رکھتی تھیں دوسری طرف فقیرانہ مزاج کی حامل بھی تھیں آپ کی تحریر وں میں افسانے مضامین خاکے تاثرات کتابوں کے پیش لفظ شاموں میں کی گئی تقاریریں انٹرویوز سفر نامے وغیرہ شامل ہیں۔جوبڑی اہمیت کی حامل ہیں۔اس موقع پر عرفان علی عابدی نے کہا کہ خیرالنساء جعفری کا شمار ادبی دنیا میں صاحبِ طرز افسانہ نگار خواتین میں ہوتا ہے خیرالنساء جعفری نے جو شاہکار افسانے تحریر کئے ہیں وہ پاکستان میں سندھی ادبی تاریخ کے روشن باب تصور کئے جاتے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر