جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے مقبول بٹ شہید کی 35 ویں برسی

جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے مقبول بٹ شہید کی 35 ویں برسی
جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے مقبول بٹ شہید کی 35 ویں برسی

  



ریاض (وقار نسیم وامق) جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے مقبول بٹ شہید کی 35 ویں برسی کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا گیا ،مقبول بٹ کو گیارہ فروری 1984 کو ہندوستان کے دارلحکومت دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دیکر شہید کر دیا گیا تھا جنہیں جیل کے اندر ہی دفن کر دیا گیا تھا۔ سالانہ برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی راجہ محمد حنیف نے کہا کہ کشمیر ایشو میں پاک بھارت کے مابین اصل فریق کشمیری ہیں کشمیریوں کو حق خودارادیت ملے گا تو کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ کر پائیں گے، جے کے ایل ایف نے ہمیشہ خود مختار کشمیر کا نعرہ لگایا ہے، اگر کشمیری عوام نے اکثریت رائے کے ساتھ الحاق پاکستان کو ووٹ دیا تو ہم اس فیصلے کو دل و جان سے مانیں گے، اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے اندر لچک پیدا کرکے اپنی فوجیں پیچھے لے جا ئیں اور اقوام متحدہ کی امن فوج کی زیر نگرانی الیکشن کروایا جائے تاکہ کشمیری اپنی الگ شناخت کے تحت اپنی حکومت قائم کریں۔ راجہ حنیف نے آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اختیارات سے عاجز حکومت کسی کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہے، بہتر ہوگا کہ آزاد کشمیر حکومت کو اختیارات ملیں اور اس کا فارن ایجنڈا ہو اور وہ بذات خود بھی کشمیر کامقدمہ لڑ سکے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کو ہم ایک پلڑے میں نہیں دیکھ سکتے کیونکہ پاکستان کے زیر سایہ آنے والے کشمیر میں پھر بھی حکومت ہے، امن ہے اور لوگ بہتر سہولیات کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں ،یہاں ہمارا اختلاف صرف حکومت کو اختیارات نا ملنے پر ہے مگر دوسری جانب بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں جس طرح ظلم و جبر روا رکھا جا رہا ہے، اس کی تو دنیا میں کہیں کوئی مثال نہیں ملتی،مقبوضہ کشمیر میں روزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں اور لوگوں کو بندوق کی نوک پر چپ کروایا جا رہا ہے، بھارت کو کشمیریوں کا قتل عام بند کرکے حق خودارادیت دینا چاہئیے۔

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ ریاض ریجن کے صدر انجنئیر عامر چشتی کا کہنا تھا کہ مقبول بٹ ایک عظیم لیڈر تھے، ان کی شہادت کسی ایک گروپ،کسی ایک قبیلے یا کسی ایک خاص علاقے کے لئے نہیں تھی بلکہ ان کی شہادت پوری کشمیری قوم کے لئے تھی اور یہی ایک فلسفہ ہے جو لبریشن فرنٹ لیکر چل رہا ہے،آج بھی مقبوضہ کشمیر کے اندر لبریشن فرنٹ اور حریت رہنما یسین ملک کو آئے روز زیر حراست رکھا جاتا ہے،ان کو جیلوں میں قید وبند کی تکلیف سے گررنا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم کشمیری آزادی کے خواہاں ہیں، آزادی ہمارا حق ہے اور ہم اس حق سے دستبردار کبھی بھی نہیں ہوسکتے۔ تقریب سے راشد منیر، راجہ انوار کمال، سہیل پیرزادہ، راجہ اجمل، راجہ عاطف، راجہ مظفر، انتظار تقوی، ابرار مغل، سید امجد، مظہر اللہ خان، عرفان شارب، فیصل آکاش، محمود بٹ، نثار قادری، برکات حیدری، شکیل الرحمان،نوید اجمل اور طارق ایوب نے بھی خطاب کیا ،اس موقع پر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے بھارت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ مقبول بٹ شہید کا جسد خاکی پارٹی کے حوالے کیا جائے تاکہ ہم اپنے قائد کو کشمیر کی وادی میں مدفن کر سکیں

مزید : عرب دنیا