کیا واقعی تحریک انصاف کی حکومت نے دوائیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا، انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی اس تصویر کی اصل حقیقت سامنے آگئی

کیا واقعی تحریک انصاف کی حکومت نے دوائیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا، ...
کیا واقعی تحریک انصاف کی حکومت نے دوائیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا، انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی اس تصویر کی اصل حقیقت سامنے آگئی

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیس بک پر ایک تصویر زیر گردش ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت میں پاکستان میں ایک اینٹی بائیوٹک دوائی کی قیمت 80 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ یہ تصویر ہزاروں بار شیئر کی جاچکی ہے لیکن اس میں کیا جانے والا دعویٰ بالکل جھوٹ پر مبنی ہے۔ تصویر میں نظر آنے والی دونوں بوتلیں تو اصلی ہیں اور ان کی قیمتیں بھی اصل ہیں لیکن ان میں موجود ادویات کی ڈوزبالکل مختلف ہے ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ تصویر پہلی بار مردان نیوز نامی فیس بک پیج پر 30 جنوری 2019 کو شیئر کی گئی تھی۔ اس تصویر میں دو ایک جیسی بوتلیں نظر آرہی ہیں جن پر قیمتیں مختلف درج ہیں۔ ایک بوتل پر دائرے میں 170 روپے قیمت جبکہ دوسری بوتل کی قیمت 305 روپے نظر آرہی ہے۔ یہ تصاویر پوسٹ کرنے والے والے نے لکھا ” دوائی کو غریب کی پہنچ سے دور رکھیے“۔

فوٹو: فیس بک

اگر ہم تصویر میں نظر آنے والی بوتلوں کی تیاری کی تاریخ کا جائزہ لیں تو کم قیمت والی بوتل فروری 2018 میں تیار ہوئی جبکہ زیادہ قیمت والی دوائی کی بوتل اگست 2018 میں تیار ہوئی ہے۔ اگر ان دونوں بوتلوں میں ادویات مختلف نہ بھی ہوں تو بھی موجودہ حکومت کو قیمت میں اضافے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ عمران خان کی حکومت سے پہلے کی تیار شدہ بوتلیں ہیں۔ خیال رہے کہ عمران خان نے 18 اگست 2018 کو بطور وزیر اعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصویر کی حقیقت کا جائزہ لینے کیلئے غیر ملکی خبر ایجنسی نے اسلام آباد کے ایک میڈیکل سٹور سے دونوں بوتلیں لیں اور ان کا جائزہ لیا۔ جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جس بوتل کی قیمت 305 روپے ہے اس میں دوائی کی ڈوز250 ملی گرام ہے جبکہ 175 روپے والی بوتل میں مقدار 125 ملی گرام ہے۔ جائزے کیلئے حاصل کی گئی دونوں بوتلیں نومبر 2018 میں تیار ہوئی ہیں جس کا واضح مطلب ہے کہ اگر ان پر قیمت زیادہ ہوتی تو اس کی ذمہ داری تحریک انصاف حکومت پر ہوتی لیکن قیمت تو تبدیل ہی نہیں ہوئی تو پھر حکومت کے خلاف پراپیگنڈا کیوں کیا جارہا ہے؟۔

فوٹو: اے ایف پی

مزید : ڈیلی بائیٹس