شہباز شریف کی ضمانت سے مایوسی ہوئی ، نظام ہمارا منہ چڑھا رہاہے کہ امیروں کوپکڑ کردکھاﺅ :فواد چودھری

شہباز شریف کی ضمانت سے مایوسی ہوئی ، نظام ہمارا منہ چڑھا رہاہے کہ امیروں ...
شہباز شریف کی ضمانت سے مایوسی ہوئی ، نظام ہمارا منہ چڑھا رہاہے کہ امیروں کوپکڑ کردکھاﺅ :فواد چودھری

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہاہے کہ شہبازشریف کی ضمانت سے قوم پر منفی اثر پڑے گا، اس ضمانت سے لوگ مایوسی اور ہم بھی مایوس ہیں ،نظام ہمارا منہ چڑھا رہاہے کہ آﺅ میں امیر ہوں مجھے پکڑ کردکھاﺅ،پاکستان میں امیر اورغریب کیلئے الگ الگ نظام ہیں ، احتساب کاعمل ناکامی سے دوچار کیوں ہو رہاہے ، اس پر چیئرمین نیب قوم کواعتماد میں لیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہاہے کہ پاکستان مسلم امہ کوجوڑ رہاہے جس سے ہمارے احترام میں اضافہ ہواہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں جو کردار ادا کیاہے ، یہ ایک گیم چینجر واقعہ ہے ، طالبان امریکہ مذاکرات اب پاکستان میں ہونگے جس سے افغانستان میں استحکام کا امکان ہے ، یہ استحکام دنیا کے سرمایہ کاروں کو اس خطے کی طرف راغب کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان سے پاکستان میں جو سرمایہ کاری ہونے جارہی ہے ، یہ سرمایہ کار پچھلے دس سالوں میں ہونیوالی تمام سرمایہ کاری کے برابر ہوگی، سعودی عرب 8ارب ڈالر کی صرف آئل ریفائنری لگائے گا، محمد بن سلمان کے دورے سے پاکستان دنیا کہ لئے اوپن ہورہاہے ، وزیر اعظم عمران خان سعودی ولی عہد کااستقبال ائیر پورٹ پر خود کریں گے ،محمد بن سلمان کو 21توپوں کی سلامی دی جائیگی، اپنے دورہ کے دوران سعودی ولی عہد اہم ملاقاتیں کریں گے ،سعودی ولی عہد کے ساتھ اہم کاروباری افراد بھی آرہے ہیں، پاکستان اس وقت سرمایہ کاری کے لئے اہم ملک ہے ، پاکستان کو خارجہ محاذ پر اہم کامیابیاں ملی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ ہواہے کہ صنعتی زونز میں گیس اور بجلی فوری طور پر لگائی جائیگی ، پی ایس او کانیا بورڈ مقرر کیا گیا ہے ، ظفر عثمانی پی ایس بورڈ کے نئے چیئر مین ہونگے ،زرعی ترقیاتی بینک کا چیئر مین عدنان غنی کو لگایا گیا ہے ، یہ اوور سیز پاکستانی ہیں ، اس سے حکومت کی اوور سیز پاکستانیوں کیلئے کمٹمنٹ ظاہر ہوتی ہے ، اسٹیٹ لائف انشورنس کو از سر نو بحال کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے ہسپتال وفاق کوواپس دیئے جانے کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے اور اس فیصلے پر غورکیا گیاہے ۔ ، پمز کیلئے بورڈ کی منظوری دی گئی ہے ، اب تک کابینہ کے 26اجلاس ہوئے جن میں0 44فیصلے کئے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوموار کووزیر اعظم قومی اسمبلی میں جائیں گے ، اس بات کو کنفرم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دیگر مصروفیات بھی ہوسکتی ہیںلیکن ان کے قومی اسمبلی میں جانے کاامکان ہے ۔شہباز شریف کی ضمانت کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ شہباز شریف جیل میں تھے ہی کب؟ بلکہ ہم توان کو اسلام آباد کی سڑکوں پر فراٹے بھرتے دیکھ رہے تھے ، پاکستان میں دو نظام ہیں ، امیر کیلئے الگ نظام ہے اور غریبوں کیلئے الگ نظام ہے ، یہ لمحہ فکریہ ہے ، ہم نے اس نظام کوتبدیل کرناہے ، شہباز شریف کی ضمانت ہوگئی ہے لیکن وہ مرغیاں بیچنے والا بیچار ا سواسال سے جیل میں سڑ رہاہے ، پتہ نہیں کہ اس کی ضمانت ہوئی ہے یا نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام ہمارا اور پاکستان کے لوگوں کامنہ چڑھا رہاہے کہ آجاﺅ کہ میں امیر ہوں مجھے پکڑ کر دکھاﺅ، انہوں نے کہا کہ نیب کو اپنا نظام دیکھنا چاہئے اور اپنا مقدمہ لوگوں کے سامنے رکھنا چاہئے کہ کیوں وہ بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈال کر مقدمہ منطقی انجام تک پہنچا نہیں پاتے ، یہ فیصلہ نظام کا منہ چڑھا رہاہے ، نیب کے چیئرمین کو لوگوں کو اعتماد میں لینا چاہئے کہ احتساب کاعمل کیوں ناکامی سے دوچار ہورہاہے؟ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی ضمانت سے قوم پر منفی اثر پڑے گا ، نیب کو شہباز شریف کی ضمانت چیلنج کرنی چاہئے اور امید ہے کہ نیب شہباز شریف کی ضمانت کوچیلنج کرے گا ، ان کی ضمانت سے بے گناہی ظاہر نہیں ہوتی۔

فواد چودھری نے کہا کہ تحریک انصاف کی لڑائی نظام بدلنے کیلئے ہے ،یہ نظام بدلا جائے گا ، آصف زداری کی جے آئی ٹی کی تفتیش دیکھ کر کولمبیاکے سمگلروں کی کارروائیاں بھول جاتی ہیں، نظام بدلنا حکومت کا وعدہ ہے اورہم اس نظام کو بدلیں گے اور ان کوکٹہرے میں لیکر آئیں گے ، یہ جو ضمانتیں ہورہی ہیں ، ان پر قوم مایوس ہے اور ہم بھی مایوس ہیں،سعودی ولی عہد کے انڈیا جانے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہے ، سعودی ولی عہد کے بھارت جانے سے ہمیں بھی فائدہ ہوگا ، ہمارے سعودی عرب سے تعلقات کے کئی پردے ہیں، اگر سعودی عرب کے تعلقات ہونگے تو اس کا فائدہ آخر کار ہمیں بھی ہوگا ۔

مزید : اہم خبریں /قومی