وہ جانور جس کے زہر سے ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے

وہ جانور جس کے زہر سے ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے
وہ جانور جس کے زہر سے ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ذیابیطس کے مریض ہمیشہ کے لیے انسولین کے انجکشنز کے مرہون منت ہو کر رہ جاتے ہیں تاہم اب امریکی سائنسدانوں نے سمندری گھونگھے کے زہر سے اس مرض کا علاج دریافت کرنے کی خوشخبری سنا دی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یونیورسٹی آف اوٹا ہ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”سمندری گھونگھے سے ایسی انسولین حاصل کی جا سکتی ہے جو شوگر کے مریضوں کے لیے موجودہ انسولین سے زیادہ تیز ہو گی اور اس سے اس مرض کا زیادہ بہتر علاج ممکن ہو سکے گا۔“

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ اسسٹنٹ پروفیسر ہیلینا صفوی ہیمامی کا کہنا تھا کہ ”سمندری گھونگھوں میں 200سے زائد کمپاﺅنڈز پائے جاتے ہیں جن کے ذریعے یہ مختلف طریقوں سے مچھلیوں اور دیگر جانوروں کو اپناشکار بناتے ہیں۔ ان زہریلے کمپاﺅنڈز میں سے ایک انسولین ہے۔ ہم نے تین اقسام کے سمندری گھونگھوں کے زہر کا تجزیہ کیا ہے اور حیران کن طور پر تینوں اقسام کے گھونگھوں کے زہر میں ایک دوسرے سے قدرے مختلف قسم کی انسولین موجود ہے، لیکن ہم نے دیکھا کہ یہ تینوں طرح کی انسولین مروجہ انسولین سے زیادہ تیز تھی، کیونکہ اس میں انسانی انسولین میں پایاجانے والا ’بی چین‘ (B Chain)نامی جزو بہت کم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اس میں ’اے چین‘ (A Chain)نامی جزو زیادہ پایا جاتا ہے جو زیادہ دیر تک بلڈشوگر کا لیول مستحکم رکھ سکتا ہے۔“

مزید : تعلیم و صحت