آئل ٹینکر چوری کیس‘ جمشید دستی کی 20فروری تک حفاظتی ضمانت منظور

آئل ٹینکر چوری کیس‘ جمشید دستی کی 20فروری تک حفاظتی ضمانت منظور

  



ملتان‘ مظفر گڑھ (کوٹ ادو‘ بیورو رپورٹ‘ تحصیل رپورٹر) ہائیکورٹ ملتان بنچ کے جج جسٹس مشتاق احمد نے جمشید دستی کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر وکلاء دلائل سننے کے بعد ملزم کی حفاظتی ضمانت 20 فروری تک منظور کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دیا جس پر (بقیہ نمبر43صفحہ7پر)

ملزم کی موقع پر ہی ہتھکڑی کھول دی گئی۔ وا ضع رہے کہ عوامی راج پارٹی کے سربراہ و سابق ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی کو پولیس تھانہ مظفرگڑھ نے آئل ٹینکر چوری اور عملہ اغواء کیس میں گرفتار کررکھا تھا۔جس پر جمشید دستی کے وکلاء نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا۔گزشتہ روز جمشید دستی کو عدالت میں پیش کیا تو سرکاری وکیل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چوہدری ذوالفقار علی سدھو نے دلائل پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ جمشید دستی پر 1992 سے 29 مقدمات درج ہیں، جمشید دستی کے ہمراہی ملزمان سے آئل ٹینکر برآمد کر لیا گیا ہے، اس لئے جمشید دستی کی گرفتاری بالکل قانون کے مطابق ہے۔ دوسری جانب جمشید دستی کے وکلاء نے دلائل پیش کئے کہ جمشید دستی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جمشید دستی نے پشاور ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کر رکھی تھی لیکن اسکے باوجود پولیس نے گرفتار کر لیا تھا جو کہ بدنیتی ہے، وکلاء نے کہا کہ جمشید دستی عوامی راج پارٹی کے سربراہ ہیں، پولیس نے عوامی راج پارٹی کے تمام کارکنوں پر مقدمات درج کر رکھے ہیں۔ملزم کے وکلاء شیخ جمشید حیات، باصر خان سکھانی نے عدالت عالیہ میں مزید دلائل دیے کہ جمشید دستی جاگیردارروں کے خلاف الیکشن لڑتے ہیں، اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے جمشید دستی کو پولیس نے جلد بازی میں گرفتار کرکے غیر قانونی حراست میں رکھا ہے۔اسلیے فوری طور پر رہا کیا جائے، عدالت عالیہ نے مظفر گڑھ علاقہ مجسٹریٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جمشید دستی کی حفاظتی ضمانت 20 فروری تک منظور کرکے احاطہ عدالت میں ہتھکڑیاں کھلوا دیں۔عدالت سے ضمانت پر رہائی کے بعد کارکنوں نے جمشید دستی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، اور آزاد عدلیہ کے حق میں نعرہ لگائے۔ اس موقع پر جمشید دستی کا کہنا تھا کہ آج حق اور سچ کی فتح ہوئی ہے، حکومت انتقامی کارروائی کر رہی ہے، وزیر اعظم اور وزیر اعلی انتقامی کارروائی کر رہے ہیں۔سمگلروں کو میرے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ عدالت نے پولیس کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ اس حکومت نے تاریخ کا سب سے بڑا انتقام لیا ہے، جس پر حکومت کو شکست ہوئی ہے۔دریں اثنا جمشید دستی مظفرگڑھ میں قنوان چوک پر گرنے والی 3منزلہ مارکیٹ کے مقام پر پہنچے اور متاثرین سے تعزیت کی۔جمشید دستی کا مزید کہناتھا کہ مارکیٹ سے ہونے والی ہلاکتوں کی وجہ سے پورا مظفرگڑھ صدمے میں ہے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وزیراعلی کو اس حادثہ کے بعد مظفرگڑھ آنا اور متاثرین کے لئے امداد کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔حکومت اور انتظامیہ نے اگر متاثرین کی امداد نہ کی تو احتجاج کروں گا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر