نو مسلم لڑکی کیس،شوہر کے موبائل فون کی فرانزک رپورٹ غیر تسلی بخش قرار

نو مسلم لڑکی کیس،شوہر کے موبائل فون کی فرانزک رپورٹ غیر تسلی بخش قرار

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے نومسلم سکھ لڑکی عائشہ اور اس کے شوہر حسان کوہراساں کرنے کیخلاف دائر درخواست پرحسان کے موبا ئل فون کی فرانزک رپورٹ کوغیر تسلی بخش قراردیتے ہوئے ڈائریکٹر فرانزک سائنس ایجنسی کوریکارڈ سمیت طلب کرلیا،عدالت نے نومسلم لڑکی کی ہمشیرہ کو دارالامان لاہور میں اس سے ملاقات کی اجازت بھی دیدی، عدالت میں لڑکی کے بھائی منموہن سنگھ نے بتایا ان کی بہن سے اس کے والد نے عدالتی حکم پر ملاقات کی تھی لیکن وہ اپنی بیٹی کو مطمئن نہیں کر سکے، والدہ سفر کرنے کے قابل نہیں، بھائی نے استدعا کی کہ بڑی بہن کواس سے ملاقات کی اجازت دی جائے، درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ ننکانہ صاحب کی جگجیت کورنے اسلام قبول کرکے نام عائشہ رکھاہے اور حسان سے پسند کی شادی کی ہے،ان کیخلاف اغوا ء کا بے بنیاد مقدمہ درج کردیاگیاہے جبکہ اس کے شوہر کیخلاف فون پر دھمکیاں دینے کے الزام میں بھی کارروائی کی جارہی ہے،گزشتہ روز عدالت کے روبرو ڈپٹی ڈائریکٹر فرانزک سائنس اتھارٹی رضوان صابر نے اپنی رپورٹ میں ٹیلی فونک گفتگو کو منفی قرار دیدیا ا و ر عدالت کو بتایا کہ مدعی حسان کے فون میں تمام ڈیٹا موجود ہے تاہم عدالت نے اس رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر فرانزک سائنس ایجنسی کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ ریکارڈ سمیت 17فروری کو عدالت میں پیش ہوں۔عدالت نے اس روز ڈپٹی ڈائریکٹر فرانزک سائنس ایجنسی رضوان صابر کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

نومسلم لڑکی

مزید : صفحہ آخر