احسن اقبال اور خاقان عباسی کی گرفتار ی بنیاد ی حقوق کی خلاف ورزی: اسلام آباد ہا ئیکورٹ

        احسن اقبال اور خاقان عباسی کی گرفتار ی بنیاد ی حقوق کی خلاف ورزی: اسلام ...

  



اسلام آباد(آئی این پی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نارووال اسپورٹ سٹی اسکینڈل کیس میں سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کی ضمانت بعد از گرفتاری درخواست کی سماعت 20فروری تک ملتوی کر تے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ چیئرمین نیب کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیارات کتنے ہیں، اس پر بھی فیصلہ ہونا چاہئے، نیب عدالت کو احسن اقبال کی گرفتاری کی ٹھوس وجوہات بتائے، کسی شخص کو ٹھوس ثبوتوں کے بغیر گرفتار کرنابنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس لبنی سلیم پرویز پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت شروع کی تو نیب کے وکیل جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ پیراوئز کمنٹس جمع کرادیئے ہیں۔ احسن اقبال کے وکیل نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس میں اختیارات کے ناجائز استعمال پر نئی تعریف کردی گئی اب اختیارات کے ناجائز استعمال سے مالی فائدہ لینے پر نیب کارروائی کرسکتا ہے، تاہم احسن اقبال پر کوئی مالی فائدہ لینے کا الزام نہیں،اگر کسی شخص کو بھرتی کرنے کیلئے پیسے نہ لئے گئے ہوں تو وہ جرم نہیں ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیب نے احسن اقبال پر اختیارات کے غلط استعمال کا الزام لگایا،کریمنل سزا تب ہوگی جب کوئی کریمنل جرم ہوا ہو،نیب کی ترمیم غیر ضروری قسم کی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اگر احسن اقبال کیس انکوائری اسٹیج پر ہے تو احسن اقبال کو گرفتار کیوں کیا؟کس نے احسن اقبال کے وانٹ جاری کئے۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں احسن اقبال کے وارنٹ گرفتاری کی کاپی پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب نے احسن اقبال کے وارنٹ جاری کئے، گرفتاری کے بغیر تحقیقات نہیں ہو سکتی تھیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو گرفتار کرنا اس کی تضحیک ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نیب عدالت کو مطمئن کرے کہ احسن اقبال کو کیوں گرفتار کیا گیا۔ آج تک کسی عدالت میں اس پر بات نہیں ہوئی کہ چیئرمین نیب کے پاس وارنٹ گرفتاری کا کس صورت میں اختیار ہے، جرم ثابت ہونے تک ملزم بیگناہ ہوتا ہے، گرفتاری سے شہری کی آزادی اور عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔نیب احسن اقبال کو گرفتار کرنے کی وجہ بتائے کہ کیا مجبوری تھی۔کیا کوئی ایسا فیصلہ ہے کہ بنیادی حقوق کو تلف کرکے نیب ہر کسی کو گرفتار کر سکتا ہے؟ کوئی ایسا فیصلہ بتائیں کہ نیب پسند نا پسند کی بنیاد پر گرفتاری کر سکتا ہے؟،نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ احسن اقبال کے فرار ہونے کا خدشہ تھا، احسن اقبال کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا۔ مذید سماعت 20فروری تک ملتوی کر دی گئی۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست کی سماعت بھی 20 فروری تک ملتوی کر تے ہوئے حکومت سے ایل این جی کے نئے ٹھیکوں کے حوالے سے 20 فروری تک بنائے گئے قوائد و ضوابط کی تفصیلات طلب کر لی ہیں، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ کیا لوگوں کو گرفتار کرنے سے کرپشن ختم ہو جائے گی؟ نیب شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کرنے کی کوئی وجہ بتا ئے۔ جسٹس اطہر من اللہ کے سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت شروع کی تو نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی اور پرائیویٹ کمپنیز کے روابط کا ریکارڈ موجود ہے۔ دوران سماعت شاہد خاقان عباسی کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے بتایا کہ شاہد خاقان عباسی کے شریک ملزم مفتاح اسماعیل اور شیخ عمران الحق کی ضمانت ہوچکی، شاہد خاقان عباسی کو بھی رہا کیا جائے کیونکہ ایل این جی ٹرمینل میں ایک پیسہ بھی حکومت کا نہیں لگا بلکہ فائدہ ہوا ہے، اگر ایک پیسہ نہیں لگا تو پھر قومی خزانے کو نقصان کیسے پہنچا۔عدالت نے پراسیکیوٹر نیب سے استفسار کیا کہ آپ جب کسی کو گرفتار کرکے تذلیل کرتے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟20فروری تک بتائیں کیا حکومت انہیں قواعد و ضوابط پر نیا ایل این جی ٹھیکہ دے رہی ہے۔پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شاہد خاقان عباسی اور پرائیویٹ کمپنیز کے روابط کا ریکارڈ موجود ہے،اسی دوران شاہد عباسی کے بنک اکانٹ میں ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کا اپنا بڑا کاروبار ہے،وہ پانچویں بڑے ٹیکس ادا کرنے والے پاکستانی ہیں وہ رقوم ان کے ذاتی اکانٹ کی ہیں۔ عدالت نے اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا نیب نے اس رقم سے متعلق تفتیش کی ہے، نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ہم نے شاہد عباسی سے کہا ہے کہ ہمیں اس رقم کی ٹرانزیکشن کی کوئی مطمئن کن وجہ بتا دے، بتایا جائے کہ کیا شاہد عباسی کیس کی تفتیش میں نیب سے تعاون کر رہے ہیں؟ انہیں کوئی سوالنامہ دیا گیا؟ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ انہوں نے اس کا عمومی سا جواب دیا، عدالت نے نیب تفتیشی افسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ شاہد عباسی مان لے وہ درست جواب ہو گا۔اس درخواست کی بھی مذید سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر