اسلام آباد ہائیکورٹ نے سکولوں میں تشدد پر پابندی عائد کردی

  اسلام آباد ہائیکورٹ نے سکولوں میں تشدد پر پابندی عائد کردی

  



اسلام آباد (مانٹیرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی سکولوں میں بچوں پر تشدد پر پابندی عائد کر دی۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کے لیے گلوکار شہزاد رائے کی درخواست پر سماعت کی۔ وکیل شہزاد رائے نے موقف اپنایا کہ شہزاد رائے زندگی ٹرسٹ کے زیر اہتمام 2 سکول چلا رہے ہیں، بچوں پر آج بھی تشدد ہوتا ہے اور جسمانی سزا دی جاتی ہے، کچھ روز پہلے لاہور میں نجی سکول کے حنین بلال پر تشدد کیا گیا۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ قومی اسمبلی نے بل بھی پاس کیا تھا۔وکیل شہزاد رائے نے کہا کہ سیاسی معاملات کی وجہ سے قانون سازی نہیں ہو پا رہی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں بچوں پر تشدد روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا وزارت داخلہ بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لئے اقدامات کرے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 مارچ تک ملتوی کر دی۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد رائے نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا بچوں پر تشدد سے متعلق تاریخی فیصلہ ہے، سندھ میں بچوں پرتشدد کے خلاف قانون موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی بہترین ریسرچ ہے کہ تشدد سے تشدد میں اضافہ ہو جاتا ہے، بچے کی پٹائی کی جاتی ہے جو خلاف آئین ہے، بچوں کو مارنا ان کی ذہنی نشونما کے لیے نقصان دہ ہے، عدالتی فیصلے کے بعدکوئی ٹیچر بچوں کو مار نہیں سکتا۔

جسمانی تشدد

مزید : صفحہ آخر