ایک اورامریکی شہر میں بھارت کے متنازع قانون کیخلاف قرارداد منظور

ایک اورامریکی شہر میں بھارت کے متنازع قانون کیخلاف قرارداد منظور

  



نیویارک(آئی این پی)بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف امریکا کے ایک اور شہر نے قرارداد منظور کرلی۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی طاقتور ترین کونسلز میں سے ایک سیٹل سٹی کونسل کے بعد اب ریاست میساچیوسٹس کے شہر کیمبرج کی سٹی کونسل نے بھی بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف قرارداد منظور کی ہے۔کیمبرج سٹی کونسل میں یہ قراداد متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں بھارتی وزیراعظم مودی کی حکومت کو نسل پرستانہ اور حکومتی پالیسیوں کو جابرانہ قرار دیتے ہوئے ان پالیسیوں کو شہری اقدار کے منافی کہا گیا ہے۔سٹی کونسل کی قراداد کا جنوبی ایشیائی کمیونٹیز اور تمام مذاہب کی جانب سے خیر مقدم بھی کیا گیا ہے۔کیمبرج سٹی کونسل نے زور دیا کہ اس کا کانگریس وفد امریکی کانگریس میں بھارت میں اس طرح کی پالیسیوں کے نفاذ کو روکنے کے لیے ہونے والی قانون سازی میں مدد کرے گا۔امریکی شہروں میں یہ قراردادیں ایسے وقت میں منظور کی گئیں جب امریکی صدر ٹرمپ جلد بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ متنازع شہریت بل 9دسمبر 2019کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا)سے منظور کروایا گیا اور 11دسمبر کو ایوان بالا(راجیہ سبھا)نے بھی اس بل کی منظوری دے دی تھی۔بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے بل پیش کیا گیا جس کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔ تارکین وطن کی شہریت سے متعلق اس متنازع ترمیمی بل کو ایوان زیریں (لوک سبھا)میں 12گھنٹے تک بحث کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔ایوان زیریں کے بعد ایوان بالا (راجیہ سبھا)میں بھی اس متنازع بل کو کثرت رائے سے منظور کیا جا چکا ہے۔متنازع شہریت بل بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد باقاعدہ قانون کا حصہ بن گیا ہے۔

قرارداد منظور

مزید : صفحہ آخر