قومی اسمبلی خزانہ کمیٹی میں انسداد منی لانڈرنگ کیلئے ٹیکس قوانین بل منظور

        قومی اسمبلی خزانہ کمیٹی میں انسداد منی لانڈرنگ کیلئے ٹیکس قوانین بل ...

  



اسلام آ باد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے منی لانڈرنگ کے تدارک اور ایف اے ٹی ایف کے تقاضے پورا کرنے کیلئے ٹیکس قوانین (دوسری ترمیمی) آر ڈ یننس 2019 کی متفقہ طور پر منظوری دی، کمیٹی نے ڈاکٹر رمیش کمار کی سربراہی میں ٹیکسٹائل کے تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے15دن میں سفارشات کی تیاری کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی اور وزارت خزانہ سے نان ٹیکس ریونیو اور صوبوں سے این ایف سی ایوارڈکے تحت ملنے والا حصہ کی تفصیلات بھی طلب کر لیں جبکہ کمیٹی کو وزارت خزانہ اور ایف بی آ ر کے حکام نے آ گاہ کیا کہ رواں سال کا بجٹ خسارہ 7.5فیصد تک رہنے کی توقع ہے، ایف بی آر کے محصولات کے ہدف میں کمی کو نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ سے ریلیف ملے گا، تر قیاتی بجٹ ترجیح ہے کو شش ہے اس میں کٹ نہ لگے، سود کے اخراجات بجٹ میں دئیے گئے تخمینہ سے کم ہوں گے،سول حکومت کے7ماہ میں 220ارب کے اخراجات کئے، جو بجٹ میں دئیے گئے تخمینہ سے بھی 30ارب بچت کی ہے، پرائمری بیلنس کی صورتحال کافی بہتر ہے،آئی ایم ایف سے معاملات پر ابھی بات چیت جاری ہے،رواں مالی سال کے 7ماہ کے دوران قابل تقسیم محصول 2596ارب روپے رہا، این ایف سی ایوارڈ فارمولہ کے مطابق 1501ارب روپے صوبوں کو منتقل کردئیے گئے ہیں، سٹریٹ ٹرانسفر کی مد میں 100ارب روپے میں سے 64ارب صوبوں کو منتقل کئے جا چکے ہیں۔جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی چیئرمین فیض اللہ کاموکا کی صدارت میں ہوا، کمیٹی نے مولانا عبد اکبر چترالی کی جانب سے سود کے خاتمہ کیلئے سود کے خاتمہ کا بل 2019پر اسٹیٹ بینک کو اپریل کے پہلے ہفتہ تک حتمی جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی، سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے کمیٹی کو آ گاہ کیا اسلامی بینکاری کے فروغ کیلئے کام کر رہے رہیں، اس کیلئے ایک روڈ میپ کی تیاری،سکالرز کی مشاروت سے مسودہ پر کام جاری ہے، اجلاس میں ایف بی آ ر کے حکام نے کمیٹی کو بتا یا ٹیکسٹائل کے تاجروں کے ریفنڈز جاری کر رہے ہیں، اس میں بہت بہتری آئی ہے، 37ارب کے کلیمز میں سے 29 ا ر ب ادا کردئیے ہیں، ٹیکسٹائل کے تاجر تنٖظیموں کے نمائندوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا حکومت نے بجلی اور گیس کے ریٹ کا مسئلہ حل نہ کیا تو فیصل آباد بند ہوجائے گا، رمیش کمار نے کہا دھمکی آمیز رویہ نہیں چلے گا، جائزہ مطالبات پورے ہونے چاہیے، قیصر احمد شیخ نے کہا شناختی کارڈ کا معاملہ ڈیڑھ سال سے التوا کا شکار ہے، جعلی انوائسنگ کا مسئلہ بھی حل کیا جائے، اجلاس میں چیئرمین کمیٹی فیض اللہ کاموکا اور ایف بی آ ر کے حامد عتیق کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، حامد عتیق نے کہا شناختی کارڈز سے کاروبار نہیں رکا، اس کو فروری سے لاگو کریں، ٹیکس کا ریٹ کم کرنے کیلئے تیار ہیں،ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح9.95فیصد تک آگئی ہے جو بہت کم ہے، اگر ٹیکس نہیں لینا تو پارلیمنٹ فیصلہ کرے، چیئرمین کمیٹی نے کہاپارلیمنٹ کو اس طرح مخاطب نہ کیا جائے، اگر اس فورم کو فضول سمجھا جا رہا ہے تو پھر کام چھوڑ دیتے ہیں،بعدازاں کمیٹی نے ڈاکٹر رمیش کمار کی سربراہی میں ٹیکسٹائل کے تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے سفارشات کی تیاری کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی۔جو 15دن میں مسائل کے حل کیلئے سفارشات تیار کرے گی۔بعدازاں کمیٹی نے وزارت خزانہ سے نان ٹیکس ریونیوکی تفصیلات اور صوبوں کے وزارت خزانہ کے حکام کو این ایف سی کے تحت حصہ کی وصولی اور اخراجات کی تفصیلات طلب کرلیں۔

قائمہ کمیٹی خزانہ

مزید : صفحہ آخر