صدر ٹرمپ پاک بھارت ثالثی کی پیشکش کو حقیقت کا روپ دیں: پاکستان

  صدر ٹرمپ پاک بھارت ثالثی کی پیشکش کو حقیقت کا روپ دیں: پاکستان

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہاہے کہ پاکستان، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے حوالے سے پرامید ہے اور عالمی برادری میں پاکستان کے پارٹنرز اس سلسلے میں مدد کے خواہاں ہیں۔گزشتہ روز لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے دو مقدمات میں مجموعی طور پر 11 سال قید کی سزا سنائی تھی۔امریکا نے پاکستان کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا تھا اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کے نام کے اخراج میں معاون ثابت ہو گا۔ایف اے ٹی ایف کا اجلاس رواں ماہ بیجنگ میں ہو گا جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالا جائے یا نہیں۔جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی کئی مرتبہ پیشکش کی گئی، اب اس پیشکش کو حقیقت کا روپ دیا جانا چاہئے۔توقع ہے کہ اپنے دورہ ہندوستان میں امریکی صدر نریندر مودی سے اس مسئلے پر بات کریں گے۔انہوں نے کہاکہ امریکا کی طرف سے بھارت کو فضائی دفاع کے ہتھیاروں کے مربوط نظام کی فروخت کا فیصلہ پہلے سے مسائل کا شکار خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ بھارت کو ایسے جدید ہتھیاروں کی فروخت سے خطے میں اسٹریٹیجک توازن بگڑے گا کیونکہ اس کے پاکستان اور خطے کی سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکا اور بھارت کے درمیان دفاعی تعلقات جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کی صورتحال میں عدم استحکام کا باعث ہیں۔ عالمی برادری پاکستان کیخلاف بھارت کی جارحانہ پالیسی، عزائم اور بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت کے دھمکی آمیز بیانات سے بخوبی آگاہ ہے۔اس موقع پر انہوں نے بھارت کی جانب سے جعلی آپریشن کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے دورہ پاکستان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے موقع پر بھارت کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی قسم کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی ترکی میں مبینہ موجودگی کے حوالے سے سوال کے جواب میں عائشہ فاروقی نے کہا کہ وزارت داخلہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے کہ وہ کہاں ہے۔

دفتر خارجہ

مزید : صفحہ اول