پاکستان، ترکی کی دوطرفہ تعلقات کو متحرک تجارتی اقتصادی شراکت داری میں بدلنے ایک دوسرے کے مفادا ت اجاگر کا عزم، اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے پر اتفاق

    پاکستان، ترکی کی دوطرفہ تعلقات کو متحرک تجارتی اقتصادی شراکت داری میں ...

  



 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان اور ترکی نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط،متحرک تجارتی اوراقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے ،ایک دوسرے کے اہم قومی مفادات کے امور اورتعلقات کے پوٹینشل کی اہمیت اجاگر کرنے پر بھی اتفاق کیا اور کہاکہ پاکستان اور ترکی کو قریبی طور پر مل کر اسلامو فوبیا سمیت مسلم امہ کو درپیش دیگر تمام چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کام کرناہوگا۔یہ اتفاق رائے جمعرات کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب اردگان کے درمیان ایوان صدر اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔دونوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط،متحرک تجارتی اوراقتصادی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ترک ہم منصب طیب اردگان کا گرمجوش خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان کثیرالطرفہ اور بڑھتے روابط کی سطح پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس دوران دونوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط،متحرک تجارتی اوراقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے ایک دوسرے کے اہم قومی مفادات کے امور اورتعلقات کے پوٹینشل کی مکمل اہمیت اجاگر کرنے پر بھی اتفاق کیا۔صدر عارف علوی نے کہا کہ اعلیٰ سطحی تذویراتی تعاون کونسل کا چھٹا اجلاس پاکستان اور ترکی کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ عارف علوی نے طیب اردگان کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین ہوتی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا اور مسئلہ کشمیر پر دوٹوک اور اصولی مؤقف اپنانے پر ترک صدر کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر پاکستان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے مطابق دونوں صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ترکی کو قریبی طور پر مل کر اسلامو فوبیا سمیت مسلم امہ کو درپیش دیگر تمام چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کام کرناہوگا۔قبل ازیں ایوان صدر آمد پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صدر طیب اردگان اور ان کی اہلیہ کا پرتپاک استقبال کیا۔دریں اثناء صدر مملکت کی جانب سے ترک ہم منصب رجب طیب اردگان،ان کی اہلیہ آمینہ اردگان اور ان کے ہمراہ وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ دریں اثناء ترک صدر رجب طیب اردگان،ان کی اہلیہ آمینہ اردگان اور وفد کے دیگر ارکان جب اسلام آباد کے نورخان ایئربیس پہنچے تو وزیراعظم عمران خان نے خود ان کا ریڈکارپٹ استقبال کیا اور خود ہی گاڑی ڈرائیو کرکے ایئربیس سے وزیراعظم ہاؤس لائے جہاں معززمہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیاگیا۔۔ترک صدر کی آمد کے موقع پر نور خان ایئربیس پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور نور خان ایئر بیس سے لے کر ریڈ زون تک سیکیورٹی ہائی الرٹ رہی۔اس موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں استقبالی پوسٹرز بھی آویزاں کیے گئے واضح رہے کہ صدر اردگان،وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر یہ دورہ کررہے ہیں۔صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ کابینہ کے ارکان اور حکومت کے اعلی عہدیداروں پر مشتمل ایک وفد کے علاوہ ترکی کی صف اول کی کارپوزیشنوں کے سربراہ اور چیف ایگزیکٹو افسران بھی ہیں۔دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان اور صدر اردوان معاونین کے بغیر ملاقات کرینگے جس کے بعد وہ مشترکہ کابینہ اجلاس کی طرز پر پاکستان ترکی اعلی سطح کی تذویراتی تعاون کونسل کے چھٹے اجلاس کی مشترکہ صدارت کرینگے۔ اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کئے جائیں گے۔ اس موقع پر کئی اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔ دونوں رہنما مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کرینگے۔صدرطیب اردوان آج دن گیارہ بجے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔صدراردوان اوروزیراعظم عمران خان پاکستان ترکی بزنس اورسرمایہ کاری فورم سے بھی خطاب کریں گے جودونوں ممالک کے نمایاں سرمایہ کاروں اور کاروباری افرادکواکٹھاکرے گا۔ترکی مقبوضہ کشمیرکے عوام کے حق خودارادیت کے نصب العین کی حمایت کرتاہے۔صدراردوان کادورہ پاکستان ترکی تذویراتی شراکت داری مزیدمستحکم اوروسیع کرنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔دریں اثنا پاکستان میں ترکی کے سفیر مصطفی یرداکل نے خبررساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رجب طیب اردوان کا دورہ اسلام آباد ایک تاریخی موقع اور دونوں برادر ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری تکمیل کے مراحل میں ہے اور ترکی اس منصوبے کے تحت قائم ہونے والے خصوصی اقتصادی زونز کا حصہ بننے میں د لچسپی رکھتاہے

طیب اردوان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،آئی این پی) پاکستان،ترکی کے مابین دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مستحکم کرنے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ براڈ اسٹریٹجک معاشی فریم ورک کے اجلاس میں ابتدائی ٹائم فریم میں ہوائی جہازوں کی بحالی، تربیت اور ہوائی اڈوں کے کاموں کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے،قومی ہوا بازی پالیسی 2019 کی روشنی میں ہوائی نقل و حمل اور فضائی خدمات کے معاہدے کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی راستوں کی تلاش پر باہمی اتفاق کیا گیا۔ جمعرات کو پاکستان اور ترکی کے مابین دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مستحکم کرنے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ براڈ اسٹریٹجک معاشی فریم ورک کا اجلاس ہوا۔سینئر جوائنٹ سکریٹری ایوی ایشن ڈویژن عبد الستار کھوکھر اور ڈپٹی ڈی جی (ریگولیٹری) سول ایوی ایشن اتھارٹی ائیر کموڈور سید ناصر رضا ہمدانی نے پاکستان،ترکی مشترکہ ورکنگ گروپ کے چوتھے اجلاس کو پی آئی اے اور پیگاسس کے مابین کوڈ شیئرنگ معاہدے سے متعلق آگاہ کیا۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ترک جہازوں کے ذریعہ اضافی پروازوں کی درخواست پر کارروائی کی گئی ہے۔دونوں فریقوں نے ابتدائی ٹائم فریم میں ہوائی جہازوں کی بحالی، تربیت اور ہوائی اڈوں کے کاموں کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔قومی ہوا بازی پالیسی 2019 کی روشنی میں ہوائی نقل و حمل اور فضائی خدمات کے معاہدے کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی راستوں کی تلاش پر بھی باہمی اتفاق کیا گیا۔دریں اثناجمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے دورہ پاکستان کے موقع پر، وزارت تجارت و تجارت ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان نے پاکستان ترکی بی ٹو بی نیٹ ورکنگ سیشن کا انعقاد کیا جس میں تر کی کے انجینئرنگ، توانائی، سیاحت، تعمیرات، دفاع، آٹوموٹو، کیمیکلز، آئی ٹی سمیت دیگر شعبوں کے اہم کاروباری نمائندوں نے شرکت کی، صدر ایف پی سی سی آئی اور پاکستان ترکی بزنس کونسل کے چیئرمین نے خطابات بھی کیے ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے نیٹ ورکنگ تقریب کا دورہ کرکے تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ جمعرات کوجمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے دورہ پاکستان کے موقع پر، وزارت تجارت و تجارت ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان نے جمعرات کواسلام آ باد کے مقامی ہوٹل میں پاکستان ترکی بی ٹو بی نیٹ ورکنگ سیشن کا انعقاد کیا۔ اس اقدام کا مقصد ترکی اور پاکستان کے تاجروں کو ایک ہی چھت کے نیچے لانا تھا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے طریقوں کو تلاش کیا جاسکے۔ترک بزنس کے وفد میں انجینئرنگ، توانائی، سیاحت، تعمیرات، دفاع، آٹوموٹو، کیمیکلز، آئی ٹی سمیت سیکٹروں کے اہم کاروباری نمائندے شامل تھے۔ پاکستانی ہم منصب کے سیکٹروں، ایف پی سی سی آئی، ایس سی سی آئی، آئی سی سی آئی، پی بی سی وغیرہ جیسے اہم تجارتی اداروں اور پاکستان کی طرف سے پی بی آئی ٹی، ٹی ڈی سی پی، پی ٹی ڈی سی اور ترکی کی طرف سے ٹمسائڈ، ڈی ای ای کے، پاکستان ترکی دوستی ایسوسی ایشن وغیرہ سمیت سرکاری تنظیموں جیسے 200 سے زائد نمایاں تاجر۔ اس موقع پر موجود تھے۔ ٹی ڈی اے پی نے اپنے کاروباری ہم منصبوں کے ساتھ ترک بزنس وفد کی نتیجہ خیز بی ٹو بی میٹنگز کا انعقاد کیا۔اس تقریب کا باقاعدہ افتتاح سیکرٹری تجارت، سردار احمد نواز سکھیرا نے کیا جس کے بعد صدر ایف پی سی سی آئی اور پاکستان ترکی بزنس کونسل کے چیئرمین کے خطابات کیے۔ سکریٹری کامرس نے مندوبین کا استقبال کیا اور پاکستان اور ترکی کے مضبوط تعلقات کے بارے میں گرم جوشی سے بات کی۔وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے نیٹ ورکنگ تقریب کا دورہ کیا اور تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مختلف ترک مندوبین، چیمبروں اور ایسوسی ایشنوں سے بھی ملاقات کی اور دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے ممکنہ طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔تمام مقررین نے دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور معاشی تعلقات میں اضافے کے حوالے سے بڑے جوش و خروش کا اظہار کیا اور وفد کے اس دورے کو عموما پاکستان اور ترکی کے مابین تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات میں باہمی تعاون کی بہترین راہوں کے افتتاحی سنگ میل کی حیثیت سے یاد کیا گیا۔

اہم معاہدے

مزید : صفحہ اول