نجی و کالت پر پابندی، ایڈووکیٹ جنر ل پنجاب کا پرائیویٹ پریکٹس جاری رکھنے کا انکشاف

  نجی و کالت پر پابندی، ایڈووکیٹ جنر ل پنجاب کا پرائیویٹ پریکٹس جاری رکھنے کا ...

  



لاہور(سعید چودھری)ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سرداراحمد جمال سکھیرا نے نجی وکالت پرپابندی کے باوجود پرائیویٹ پریکٹس نہ چھوڑی،وہ پرائیویٹ مقدمات سے دستبردار ہونے کی بجائے ان میں مسلسل عمومی التواء لے رہے ہیں،جس کے باعث لاہورہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں درجنوں مقدمات کی سماعت رکی ہوئی ہے،ان مقدمات میں ٹیکس کے معاملات بھی شامل ہیں جن میں انہوں نے بطور وکیل پیش ہوکرحکم امتناعی بھی لے رکھاہے۔اپریل2019ء کو جس وقت سردار احمد جمال سکھیرا نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا عہدہ سنبھالا وہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں زیرسماعت متعدد مقدمات میں وکیل تھے،قانونی اور آئینی طور پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پرائیویٹ پریکٹس نہیں کرسکتے،انہوں نے نجی مقدمات چھوڑنے کی بجائے ان میں جنرل ایڈجرنمنٹ کی درخواست دے کر انہیں التواء میں ڈال رکھاہے،جن میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی،اٹک ریفائنری لمیٹڈ،پاکستان آئل فیلڈزلمیٹڈ، اٹک پٹرولیم، کسٹم اور ایف بی آر کے علاوہ ایک بڑی کھاد کمپنی اور ان کا ذاتی کیس سرداراحمد جمال سکھیرا بنام گورنمنٹ آف پاکستان بھی شامل ہیں،وہ ان مقدمات میں وقفے وقفے سے عمومی التواء لے رہے ہیں، انہوں نے التواء کی آخری درخواست 11جنوری 2020ء کو دی اوران مقدمات میں 29فروری تک التواء لے لیا،اس سے قبل انہیں 18ستمبر2019ء کو 31دسمبر 2019ء تک ان مقدمات میں التواء دیا گیاتھا،پھر انہوں نے 31جنوری تک بھی التواء حاصل کئے رکھا۔سرداراحمد جمال سکھیرا نے جنرل ایڈجرنمنٹ کے لئے لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو جو درخواستیں دیں ان میں خود تسلیم کیا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل140(3) کے تحت پرائیویٹ مقدمات میں پیش نہیں ہوسکتے اس لئے ان کے مقدمات کی سماعت ملتوی کی جائے،اس حوالے سے لاہورہائی کورٹ کے متعلقہ ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل)سید شبیر حسین شاہ نے ان کی جنرل ایڈجرنمنٹ کی درخواست پریہ نوٹ بھی دے رکھاہے کہ ایڈووکیٹ جنرل کی عمومی التواء کی درخواست کے حوالے سے رولز خاموش ہیں تاہم ایڈووکیٹ جنرل نے اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ان کی جنرل ایڈجرنمنٹ منظور کئے جانے کے اقدام کو بطور نظیر پیش کیاہے،اس سلسلے میں ایڈیشنل رجسٹرار سے رابطہ کیا گیاتو انہوں نے کہا کہ جنرل ایڈجرنمنٹ کی منظوری سینئر جج یا چیف جسٹس دیتے ہیں،معلوم ہواہے کہ ان کے زیرالتواء مقدمات میں 2011ء کے کیسز بھی شامل ہیں،ہائی کورٹ رولز کے تحت جب کسی وکیل کی جنرل ایڈجرنمنٹ کی درخواست منظور ہوجاتی ہے تو اس کے تمام مقدمات کی سماعت متعلقہ تاریخ تک التواء میں ڈال دی جاتی ہے۔

انکشاف

مزید : صفحہ اول