پاپا اب گھر چلیں، کوئی پیار نہیں کرتا، اکیلے ڈر لگتا ہے، فیملی کورٹس میں سہمے بچوں کی سسکیاں

      پاپا اب گھر چلیں، کوئی پیار نہیں کرتا، اکیلے ڈر لگتا ہے، فیملی کورٹس میں ...

  



لاہور(رپورٹ،کامران مغل)فیملی کورٹس میں ماں باپ کے جھگڑوں کا خمیازہ بچیوں کو بھگتنا پڑرہا ہے،بچے ڈپریشن اور قید تنہائی کا شکار ہوکر ذہنی مریض بننے لگے ہیں،میا ں بیوی کے ما بین معاشی بدحالی، عدم برداشت،ذاتی انا اور روزمرہ کے تنازعات کے سبب ان کی علیحدگی کانقصان صرف معصوم بچوں کو ہی اٹھانا پڑرہاہے۔ فیملی کورٹس میں روزنامہ ”پاکستان“کے سروے کے موقع پر ملاقاتوں کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے،جہاں بچوں نے اپنے والدین پر دباؤ ڈالا کہ وہ انکی زندگیوں کو تباہ نہ کریں اور ان کی خاطر مصالحت کرکے ان کا مستقبل تاریخ ہونے سے بچائیں،ایک بچی مہوش نے کہاابو جان آپ امی سے صلح کرلیں اور اس کے بھائی سلیم نے کہا پا پا گھر چلیں ہمارا اکیلے دل نہیں لگتا،ایک بچے نعمان نے کہا کہ پاپا اسے مارتے ہیں،کھلونے نہیں دیتے اوروہ اسے پیار بھی نہیں کرتے،وہ والدہ کے پاس رہنا چاہتاہے کیوں کہ ماما بہت اچھی ہیں۔سروے کے دوران انکشاف ہوا کہ ما ں باپ کی ضد کی وجہ سے کمسن بچے تعلیم سے جان چھڑانے لگے ہیں اورآئے روز کی ملاقاتوں کی وجہ سے وہ ذہنی مریض بن کر رہ گئے ہیں۔ بچے دادا،دادی اور نانا،نانی کی طرف جاتے ہوئے ڈپریشن میں اپنی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دے پاتے اور ذہنی طور پر مفلوج ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ روز اس وقت رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے جب بچے والدین کو ملتے وقت صلح کے واسطے دینے لگے تاہم فیملی کورٹ میں درجنوں ایسے بچوں نے اپنے والدین سے ملاقاتیں کیں،جہاں والدین بچوں کے لیے گفٹ کھلونے،کپڑے وغیرہ لائے۔بعض بچوں نے کھلونوں کی طرف نظربھر کربھی نہیں دیکھا اور والدین سے صلح کی دہائیاں دیتے رہے۔ملاقاتوں کے لئے آنے والے لواحقین نے بتایا کہ گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے میاں بیوی کی باہمی ناچاقی کے باعث پہلے اناکا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے اور بعد میں نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے اورپھر ایک دوسرے کے خلاف دعوے دائر کردیئے جاتے ہیں۔اس سارے معاملے میں صرف اور صرف کمسن بچوں کی زندگیاں ہی تباہ وبرباد ہوتی ہیں او روہ احساس کمتری کا شکار ہونے کے ساتھ تعلیمی میدان میں بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ماہر نفسیات ڈاکٹر ریضا بھٹی نے کہا ہے کہ گھریلو ناچاقی،تعلیم کا فقدان،رشتوں کے تقدس سے ناآشنائی اورعدم برداشت میاں بیوی کی آپسی ناچاقی کا باعث بنتی ہے اور پھر اسے اناکا مسئلہ بنا لیا جاتاہے جس کے بعد نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ ماں باپ کے اسی رویہ کے سبب بچے احساس کمتری اورڈپریشن کاشکار ہونے لگ جاتے ہیں۔روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ماہر نفسیات ڈاکٹر ریضا بھٹی نے کہا کہ ماں باپ کی علیحدگی بچے کو مبینہ طور پرذہنی اور جذباتی طور پر غیر محسوس انداز میں دوسرے فریق سے دور کر دیتی ہے۔ اس سوچ سے قطع نظر کہ خلع یا طلاق کے دعویٰ میں ڈگری جاری کرنے کے بعد پیدا ہونے والے محرکات کیا ہوں گے یہ کوئی نہیں سوچتا کہ میاں بیوی کی علیحدگی کے بعد ان کے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا اور وہ معاشرے میں کیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

ڈاکٹر ریضا

سنگل

فیملی کورٹس

مزید : صفحہ اول