ایس ایس پی لاپتہ کیس، خواتین، گھریلو ملازمین سمیت 21افراد گرفتار، گاڑی شاپنگ مال سے بر آمد

ایس ایس پی لاپتہ کیس، خواتین، گھریلو ملازمین سمیت 21افراد گرفتار، گاڑی شاپنگ ...

  



لاہور(رپورٹ،یونس باٹھ) پولیس نے نواب ٹاؤن سے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے ایس ایس پی مفخر عدیل کی بازیابی کیلئے گھریلو ملازمین اور متعدد خواتین سمیت 21افرادکو حراست میں لیکر تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جبکہ شہباز نامی شخص اور ایک خاتون منظر عام سے غائب ہوگئے ہیں جن کی گرفتاری کیلئے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔پولیس کی تحقیقات میں مفخر عدیل کی زندگی کے کئی پہلو سامنے آئے ہیں جن کے مطابق وہ ایک شوقین آدمی ہے اور اس نے سی ایس ایس کی تیاری کے حامل افراد کی اکیڈیمی بھی بنا رکھی تھی جہاں آنیوالی ایک سٹوڈنٹ لڑکی سے کچھ عرصہ قبل محبت کی دوسری شادی رچالی تھی جس سے ایک بیٹا ہے جبکہ اس کے پہلی بیوی سے 3بچے ہیں۔ مفخر عدیل نارووال کا رہائشی اور ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے جبکہ نجی ڈانس پارٹیوں میں جانے کا بھی شوقین تھا۔پہلی شادی نارووال میں ہوئی جسے طلاق دے کر بچے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیموں نے مفخرعدیل کے اہل خانہ، محلے داروں سے معلومات اکھٹی کرکے جائے وقوعہ اور اردگرد کے علاقوں سے سی سی ٹی وی کی مدد سے ویڈیو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے موبائل فون کا ریکارڈ اور جن دوستوں سے ان کی گفتگو ہوئی ہے ان سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔مفخر عدیل چند روز قبل نصیر آباد سے اغوا ہونے والے سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ شہبازاحمد تتلہ کے مقدمہ کی پیروی بھی کر رہا تھا لیکن اس کے تین دن بعد خود لاپتہ ہو گیا ہے۔ مفخر عدیل اور شہباز احمد تتلہ میں گہرے مراسم بتائے جاتے ہیں،یہ دونوں افراد نارووال کی ایک سیاسی شخصیت کے بھی دوست تھے۔ مفخر کی پوسٹنگ نارووال میں وہ ہی سیاسی شخصیت کراتی رہی ہے۔ فرانزک ٹیم نے تین خواتین سمیت پانچ افراد کے بیانات قلمبند کے ہیں۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ لاپتہ ہونے کی رات وہ فیصل ٹاؤن میں کرائے کے ایک گھر میں ”خفیہ پارٹی“ میں بھی شریک تھا۔ پولیس نے اس پارٹی میں شریک تمام افراد کوبھی اپنی تفتیش کا حصہ بناتے ہوئے وہاں سے غائب ہونے والے شہباز نامی شخص اور ایک خاتون کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ایس ایس پی مفخر عدیل اغواء یا خود غائب ہوئے،پولیس حکام تاحال کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے ہیں۔ جبکہ ایس ایس پی کی بیوی کی جانب سے اغوا کی درخواست بھی جمع نہیں کرائی گئی اور نہ تین روز گزرنے کے باوجود مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مفخر عدیل کی گاڑی نجی شاپنگ مال کی پارکنگ سے برآمد ہوئی ہے۔ موبائل کی آخری لوکیشن بھی جوہر ٹاؤن کی ٹریس ہوئی ہے۔پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ حالات اغوا کے بجائے خود غائب ہونے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ آئی جی پولیس پنجاب کے مطابق آپریشن اور انویسٹی گیشن ونگ کی علیحدہ علیحدہ ٹیمیں تفتیش کر رہی ہیں۔ گزشتہ روزپولیس کی ایک ٹیم نارووال میں اس کی دوسری بیوی اور دیگر رشتہ داروں سے تفتیش کیلئے بھی روانہ کی گئی ہے۔رابطے پر سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمیدنے کہا ہے کہ ایس ایس پی مفخر عدیل نے چند روز قبل فیصل ٹاون کے علاقے میں ایک گھر کرائے پر لیا۔اہل علاقہ کے مطابق ان کی سرکاری گاڑی اکثر آتی جاتی دکھائی دیتی تھی۔یہ مکان آٹھ دن پہلے کرائے پر لیا گیا۔جس گاڑی کا نمبر انہوں نے بتایا وہ گاڑی ایس ایس پی مفخر عدیل کو ہی الاٹ کی گئی ہے۔اہل محلہ کے مطابق8 فروری کو کچھ لوگ آئے تھے اور 10 فروری کو اس گھر سے عجیب سی بدبو آنے لگی۔ تعفن پھیلنے پر پورے گھر کی دھلائی کی گئی جب اہل علاقہ نے ان کے ایک ملازم سے اس ’بدبو‘ کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا کہ ’یہاں باربی کیو کیا گیا تھا۔ اگلے روز اہل محلہ نے پولیس کو اطلاع دی کہ اس گھر میں کوئی مشکوک افراد آتے جاتے ہیں۔کچھ دیر بعد پولیس اور فرنزِک ٹیمیں اس گھر پر پہنچ گئیں اور شواہد اکھٹے کرنے شروع کر دئیے۔

مفخر عدیل

مزید : صفحہ اول