سارک ریجن میں جی دی پی کی عالمی شرح 3فیصد قابل تشویش، ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز

سارک ریجن میں جی دی پی کی عالمی شرح 3فیصد قابل تشویش، ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز

  



فیصل آباد(اے پی پی)پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سہیل پاشا نے کہاہے کہ یورپی یونین میں اقتصادی ترقی کی شرح 65 فیصد، آسیان ریجن میں 25 فیصد،سارک ممالک میں صرف 5فیصد ہے جبکہ 1.7 ارب کی آبادی کے باوجود سارک ریجن میں جی ڈی پی کی عالمی شرح 3فیصد ہونا باعث تشویش ہے لہٰذاعالمی تجارت میں ریجن کا شیئر 2فیصد سے بڑھانے کیلئے علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہو گا۔

اے پی پی سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہاکہ جنوب ایشیائی خطے میں موجود ممالک کے ساتھ صنعتی، کاروباری، تجارتی، درآمدی، برآمدی روابط بڑھا کر پاکستان اپنے معاشی مقاصد حاصل کرتے ہوئے اقتصادی طورپر مستحکم ہو سکتاہے۔انہوں نے کہاکہ مختلف ممالک کے درمیان مضبوط تجارتی روابط خطے میں خوشحالی کا باعث بنیں گے اسلئے حکومت کو اس جانب سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نیپال کے ساتھ بھی کاروباری روابط بڑھا کر اس کی منڈیوں سے استفادہ کرسکتاہے لہٰذا اس طرح جہاں سارک ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے وہیں باہمی اعتماد کی فضابھی مضبوط ہو گی۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے جنوبی ایشیائی ممالک ایک دوسرے کی خدمات سے استفادہ نہ کرپا رہے ہیں جس سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ سے جہاں خطے کی معاشیات میں مثبت تبدیلی آئے گی وہیں ان ممالک کے درمیان تنازعات کے حل میں بھی مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک پاکستان کے ساتھ باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے فروغ کے ذریعے بہتر معاشی فوائد حاصل کر سکتے ہیں جبکہ اقتصادی و تجارتی شعبوں میں باہمی تعاون ان ممالک کی ا ولین ترجیح ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات بہتر کوالٹی اور مناسب قیمت کے باعث پوری دنیا میں منفرد مقام رکھتی ہیں اور یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی کے بعد پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے خطہ کے ممالک کے تاجروں کے درمیان روابط کے فروغ کیلئے تجارتی وفود کے باہمی تبادلے پر بھی زور دیا۔

مزید : کامرس