بجلی 7.5سینٹ فی کلو واٹ کی جائے ورنہ کاروبار بند، ہو زری ایسوسی ایشن

  بجلی 7.5سینٹ فی کلو واٹ کی جائے ورنہ کاروبار بند، ہو زری ایسوسی ایشن

  



لاہور(کامرس ڈیسک) پاکستان ہوزری مینو فیکچرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے بجلی کا ریٹ7.5 سینٹ فی کلو وا ٹ انڈسٹری کو فراہم نہ کیا توہوزری اور دیگر متعلقہ بزنس کو فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار پی ایچ ایم اے کے وائس چیرمین شفیق بٹ نے ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران سے خطاب کرتے ہو ئے کیا، اجلاس میں ممبران کی جانب سے سڑکوں کو بلاک کرنے اور ملوں کو فوری طور پر بند کرنے کی بھی دھمکی دی گئی، پی ایچ ایم اے کے چیرمین شفیق بٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا پاور ڈویژن کی جانب سے انڈسٹری کو بجلی کی سپلائی پر بے جا ٹیکس، سرچارجز اور فیول ایڈجسٹمنٹ عائد کر دیے گئے ہیں جسکی وجہ سے پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ سے ہماری برآمدی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں دیگر ممالک کی قیمتوں کا مقابلہ کی سکت نہیں رہی، انہوں نے اس بات کا خدشہ طاہر کیا کہ اگر وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے ایکسپورٹ انڈسٹری کو دی جانے والی رعائت پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ملک کی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے انہو ں نے جو خواب دیکھا تھا کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔

، لہذا وزیر اعظم ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے دی جانے والی سہولتوں پر عمل درآمد کیلئے پاور ڈویژن کی جانب سے بڑھائے گئے ٹیرف کو فوری طور پر واپس لینے کیلئے فوری اقدامات کریں، اجلا س میں اس بات پر زور یا گیاکہ اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ فناشنل کاسٹ سرچارج،نیلم جہلم سرچارج،ٹیکسز، فکس سرچارج، کوآرٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ زیرو ریٹڈ سیکٹر سے وصول نہیں کیا جائے گا، لیکن پاور منسٹری نے اس کے برعکس13سینٹ فی یونٹ بڑھا کر ای سی سی ے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں بھارت اور بنگلہ دیش میں بجلی کا انڈسٹری کیلئے ریٹ7سے9سینٹ کلو واٹ،چائنہ میں 7سے5سینٹ کلو واٹ ہے اس کے مقابلے میں پاکستان کا ریٹ13سینٹ کلو واٹ ہے لہذا ہماری انڈسٹری کو13سینٹ کلو وآٹ بجلی کا ریٹ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے،اگر حکومت ملکی ایکسپورٹ کو بڑھانے چاہتی ہے تو فوری طور پر پاور ڈویژن کی جانب سے عائد کئے گئے ٹیکسز، فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگر سرچارجز فوری پر واپس لیے جائیں، بصور ت دیگر ملک بھر میں متعلقہ انڈسٹری کو بند کر دیا جائے گا۔

مزید : کامرس