قومی اسمبلی میں مشیر خزانہ کا خطاب

قومی اسمبلی میں مشیر خزانہ کا خطاب

  



قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر عمر ایوب کی جانب سے ”مسٹر10پرسنٹ“ کہنے پر پیپلزپارٹی کے ارکان مشتعل ہو گئے اور شدید ہنگامہ آرائی کی۔ حکومتی ارکان کے ساتھ ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی،ارکان ایک دوسرے کو دھکے دیتے اور للکارتے رہے۔پیپلزپارٹی کے ارکان نے عمر ایوب کا گھیراؤ کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں،اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ درست اقدامات نہ کئے تو ہم بھی ناکام ہو جائیں گے، کوئی بھی آئی ایم ایف خوشی سے نہیں جاتا، حالات مجبور کرتے ہیں،شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ غلط فہمی میں نہ رہیں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تو جگہ نہیں ملے گی، حقائق بہت تلخ ہیں۔ یہ حکومت پانچ سال پورے کرگئی تو قرضہ دوگنا ہو جائے گا،قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئی ایم ایف کے معاہدے کی ایک شق کے تحت جولائی تا دسمبر کی کارکردگی پیش کرتے ہوئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ رضا باقر نے پاکستان کے لئے آئی ایم ایف کی نوکری چھوڑی، ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ20ارب ڈالر سے اب12ارب ڈالر پر ہے، آئندہ ایک دو ماہ میں اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور مستحکم ہوں گی۔معیشت کے استحکام کے لئے داخلی سلامتی ضروری ہے، پاکستان کی تاریخ کا بڑا المیہ یہ ہے کہ72 سال میں ایک بھی وزیراعظم اپنی مدت مکمل نہیں کر سکا،میری کوشش ہو گی کہ ہم ایک دوسرے کی بات سنیں،کیونکہ جو بھی ہماری معیشت میں ہو رہا ہے اس کے اثرات براہِ راست لوگوں پر پڑ رہے ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے آگے جانا ہے اور ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کھڑے ہونا ہے تو ہمیں اپنے لوگوں پر دھیان دینا ہو گا، 72سال میں پاکستان ٹیکس وصولی میں کامیاب نہیں ہو سکا،اور ہمیشہ دوسرے ممالک پر انحصار کرتے رہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حفیظ شیخ نے جو اچھی باتیں کیں، شاید اسمبلی کے اندر بھی اُن کو توجہ سے نہیں سُنا گیا،کیونکہ ارکان آپس میں گتھم گتھا تھے اور ہاتھا پائی ہونے میں بس ایک آنچ کی کسر باقی رہ گئی تھی، پارلیمانی رپورٹنگ میں اب ساری توجہ ہنگامہ آرائی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کو ہائی لائٹ کرنے پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے اور اگر کوئی رکن یا مشیر، وزیر کوئی سنجیدہ اور لائق ِ غور بات کرتا ہے تو اسے توجہ سے نہیں سُنا جاتا، تقریر کے دوران شور شرابہ کیا جاتا ہے یا ڈیسک بجا کر مقرر کی باتوں سے توجہ ہٹائی جاتی ہے۔حفیظ شیخ اگر ایوان کو یہ خبر دے رہے تھے کہ ایک دو ماہ میں مہنگائی کم ہو جائے گی تو اس کا جواب اگر اپوزیشن یہ دیتی کہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث ایسا ہوتا نظر نہیں آتا، کیونکہ مہنگائی کم کرنے کے لئے جو اقدامات ضروری ہیں وہ نہیں کئے جا رہے، اور ریلیف کے نام پر جو پیکیج دیا جا رہا ہے اس سے بہت کم لوگ مستفید ہو سکیں گے تو ہنگامہ کرنے سے بہتر تھا اخبارات میں حساب لگا کر بتایا گیا کہ44ہزار لوگوں کے لئے ایک یوٹیلیٹی سٹور ہے،ظاہر ہے یہ سارے لوگ ایک ہی وقت میں تو کسی سٹور پر ہلہ نہیں بول دیں گے،لیکن اگر یہاں اشیا واقعتا مارکیٹ کے حساب سے سستی دستیاب ہوئیں اور ان کا معیار وہی ہوا جو مارکیٹ میں ملنے والی اشیا کا ہوتا ہے تو لوگ اس طرف رجوع کریں گے۔دیہات میں جہاں 70 فیصد سے زیادہ آبادی رہتی ہے، ایک بھی یوٹیلیٹی سٹور نہیں، ظاہر ہے یہ لوگ کرایہ خرچ کر کے کسی شہر میں یوٹیلیٹی سٹور سے اشیا خریدنے اسی صورت جائیں گے جب اُنہیں معقول بچت ہو،اگر اُن کے خرچ اور بچت کا حساب برابر ہو تو انہیں کیا ضرورت ہے کہ ایک رائیگاں سفر کریں،اِس لئے حکومت جو دو ہزار یوتھ سٹورز کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے اس کے لئے دیہی آبادی کو ترجیح دینی چاہئے۔ یہ سٹورز ایسے دیہات اور قصبات میں کھولے جائیں جہاں یہ سہولت پہلے سے موجود نہیں ہے،بیروزگاری بھی دیہات میں زیادہ ہے اور دیہات سے تعلق رکھنے والے جو لوگ پڑھنے لکھنے کے لئے شہروں میں آتے ہیں، تعلیم کے بعد وہ بھی وہیں بس جاتے ہیں، جس کی وجہ سے دیہی آبادی کے شہروں کو منتقل ہونے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں اربنائزیشن کا عمل پورے ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ وجہ یہی ہے کہ دیہات میں سہولتیں دستیاب نہیں یا بہت کم اور ناکافی ہیں اِس لئے نوجوانوں کو برسر روزگار کرنے کے لئے دیہات ہی کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے،جس کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرنا ہو گی، شہروں میں تو یوٹیلیٹی سٹورز پہلے سے موجود ہیں اور جن لوگوں کو یہاں سے خریداری کا شوق ہے وہ وہاں چلے بھی جاتے ہیں۔ دیکھنا ہو گا کہ اگلے پانچ ماہ کے لئے جو ریلیف پیکیج دیا گیا ہے اس سے عوام کو کیا فائدہ ہوتا ہے اور مہنگائی سے کتنی ریلیف ملتی ہے۔

ان حالات میں ڈاکٹر حفیظ شیخ اگر اگلے دو ماہ میں مہنگائی کم ہونے کی نوید دے رہے ہیں تو ممکن ہے وہ کوئی ایسے اقدامات کرنے جا رہے ہوں،جس کی وجہ سے مہنگائی کم ہو جائے،لیکن بظاہر ایسا نہیں لگتا،کیونکہ ابھی چند روز پہلے انہوں نے کہا ہے کہ دوسال میں 22لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں کس حد تک بار آور ہیں۔اگر دو سال میں 22لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ سے یہ سلسلہ رُک گیا ہے یا ابھی جاری رہے گا۔لگتا یوں ہے کہ بے روزگاری مزید بڑھے گی، کیونکہ جی ڈی پی کی شرح افزائش کم ہو رہی ہے اور رواں سال کا ٹارگٹ بھی حاصل ہوتا نظر نہیں آتا۔بے روزگاری کم کرنے کے لئے ماہرین کے خیال میں جی ڈی پی کی شرح نمو7فیصد ہونی چاہئے،جس کا موجودہ حالات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،کیونکہ اس وقت صنعتی شعبے کی شرح افزائش منفی میں جا چکی ہے اور اسے مثبت میں لانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور صنعتی مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں ایسے میں حفیظ شیخ کی مہنگائی کم ہونے کی خبر دِل کو تسلی دینے کے لئے کافی ہے، ویسے تو خود وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک بڑی خوشخبری دی ہے کہ ریکوڈک سے نکلنے والے سونے سے ہم ملکی قرضے اتاریں گے۔ بہتر تھا کہ وہ ساتھ یہ بھی بتاتے کہ یہ سونا کب نکلنا شروع ہو گا،کیونکہ کمپنیوں کا جو کنسورشیم سونا نکالنے کا کام کر رہا تھا اُسے تو بھگا دیا گیا،کیونکہ خیال یہ تھا کہ کوئی دوسری کمپنی یہ کام زیادہ بہتر طریقے سے کر سکے گی اور جلد از جلد سونا نکال کر پاکستان کے حوالے کر دے گی،جس کمپنی کو نکالا گیا اس نے عالمی فورم پر مقدمہ کر دیا اور پاکستان کو بھاری جرمانہ کر دیا گیا، اب اس کے خلاف اپیلوں وغیرہ کا سلسلہ جاری ہے، لیکن یہ امر یقینی نہیں کہ کوئی ریلیف مل سکے گا۔اگر مل گیا تو واقعی خوشی کی بات ہو گی،لیکن اگر یہ جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا تو قرضوں کے بوجھ تلے دبے ملک کے لوگوں پر یہ ایک اور بڑا بوجھ ہو گا،جو حکمرانوں کی بے تدبیریوں کی وجہ سے ان پر لد جائے گا۔ان حالات میں جب سونا نکالنے کا کوئی ٹھوس پروگرام سامنے نہیں وزیراعظم عمران خان کی اس خوشخبری پر خوش ہونے کی گنجائش کم ہے ویسے تو انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ برسر اقتدار آ کر ایک ہفتے کے اندر اندر200ارب ڈالر بیرون ملک سے لائیں گے،جو چوری کر کے وہاں لے جائے گئے ہیں جس سے ایک سو ارب ڈالر کے قرضے اتار دیئے جائیں گے اور باقی رقم غریبوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی۔ایک اور خوشخبری کراچی کے قریب سمندر سے تیل نکالنے کی بھی سنائی گئی تھی،لیکن ان کنوؤں پر ساری سرمایہ کاری غارت گئی اور تیل نہ ملا،کہا جا رہا تھا کہ لوگ نوکریاں لینے پاکستان آئیں گے اب تک تو وہ دو سو ماہرین بھی نہیں آئے،جنہوں نے پاکستان کی قسمت سنوارنی تھی، اِن حالات میں حفیظ شیخ اگر دو ماہ میں مہنگائی کم کرنے کی خوشخبری دے رہے ہیں تو خوشی کی بات ہے دو ماہ گزرتے کون سی دیر لگتی ہے؟

مزید : رائے /اداریہ