قومی اسمبلی،غیر ضروری، غیر متعلقہ، ہنگامہ!

قومی اسمبلی،غیر ضروری، غیر متعلقہ، ہنگامہ!
قومی اسمبلی،غیر ضروری، غیر متعلقہ، ہنگامہ!

  



گذشتہ دو دِنوں کے دوران قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا اگرچہ یہ کچھ نیا تو نہیں، لیکن جن حالات میں یہ اجلاس ہو رہا اور جو مسئلہ زیر بحث آیا وہ بڑی سنجیدگی کا متقاضی ہے،لیکن ہمارے اراکین قومی اسمبلی نے اس کی پرواہ نہ کی اور نہ صرف آپس میں الجھتے رہے،بلکہ ناگوار اور ناشائستہ فقرے بازی کرتے رہے، حتیٰ کہ بدھ کے اجلاس میں تو نوبت ہاتھا پائی تک آ گئی یہ سلسلہ منگل کو شروع ہوا جب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مہنگائی پر بات کرتے ہوئے، وزیراعظم عمران خان پر تنقید کی،اسے ناروا سمجھتے ہوئے تحریک انصاف کے اراکین نے مداخلت کی اور شور شرابا ہوا،اس کے بعد جو ہونا تھا، ہوا اور کیپٹن کے بااعتماد کھلاڑی مراد سعید نے فلور سنبھالا اور پھر سے وہ سب کچھ کہہ دیا جو انہوں نے بلاول کے بارے میں یاد کر کے رکھا ہوا ہے،اس کھلاڑی کو یہی فرض سونپا گیا کہ وہ گلی میں وکٹوں کے قریب فیلڈ کرے اور کوئی گیند باہر نہ جانے دے اور جب بھی موقع ملے وکٹوں کو ہی توڑنے کی کوشش کرے۔ مراد سعید نے پرچی کے ذریعے چیئرمین بننے والی بات تو کرنا ہی تھی اور کی، تاہم ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ وہ(مراد سعید) حرام کی کمائی سے پرورش پا کر یہاں نہیں آئے، بلاول بھٹو غالباً اسی صورت حال سے بچنے کے لئے تقریر کے بعد ایوان سے چلے گئے تھے۔ بہرحال مراد سعید کی تقریر نے جواب بھی طلب کیا جو بعدازاں قادر پٹیل نے دیا۔

جہاں تک بلاول بھٹو کا تعلق ہے، تو ہمارے خیال میں اس نوجوان کو ایسی تنقید ہی سے گریز کرنا چاہئے تھا اور ملک کے22کروڑ عوام کو ضرر پہنچانے والی مہنگائی بہت ٹھوس تقریر کرنا چاہئے تھی،وہ اعداد و شمار سے بات کرتے اور بلا شک بزبان انگریزی اپنا موقف پیش کرتے تاہم ان کی تقریر خوبصورت الفاظ کا مرقع ہونا چاہئے تھی۔ بہرحال اس کے باوجود انہوں نے جو تقریر کی اور وزیراعظم پر تنقید کی وہ ایسی نہیں تھی کہ ان کو ”سوتن“ طرز کے طعنے دیئے جاتے۔بہرحال بلاول تو تقریر کر کے چلے گئے پھر مراد سعید کو روکنے والا کوئی نہیں تھا،سپیکر نے بھی ان کو بولنے کا بھرپور موقع دیا اور وہ قریباً45منٹ تک بولتے چلے گئے، ان کے جواب میں قادر پٹیل نے جو ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں دلیل بھی محبت کے انداز میں دی جاتی ہے تو انہوں نے ملفوف الفاظ میں محترم وزیر کو بہت کچھ کہہ دیا،جس کی وضاحت ضابطہ تحریر میں نہیں لائی جا سکتی تاہم قادر پٹیل تجربہ کار ہیں اور انہوں نے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے، بغیر غیر پارلیمانی گفتگو کر ڈالی، اس روز تو معاملہ نمٹ گیا۔ایوان کا ماحول جم نہ سکا، تاہم خیر گذری اور اگلے روز پر بات ٹل گئی۔

اگلے روز بھی کارروائی سنجیدگی کی متقاضی تھی اور خصوصی طور پر اپوزیشن کے لئے ایک موقع بھی فراہم ہو گیا تھا، کہ وہ پھر اعداد و شمار سے بات کر سکتی، لیکن بھلا ہو طنزیہ انداز کا کہ پھر سے ہنگامہ ہو گیا۔بہرحال ہم نے جو سنا، جو دیکھا اور پھر جو پڑھا اس سے اندازہ ہوا کہ اپوزیشن نے ایک بڑا موقع بھی گنوا دیا ہوا یہ کہ بدھ کے اجلاس میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو خصوصی طور پر ایوان میں آ کر معاشی حالات پر گفتگو کی دعوت دی گئی تھی اور ایک غیر منتخب مشیر نے منتخب ارکان کو ملکی معیشت پر طویل لیکچر دے ڈالا،ان کا جواب ایوان میں موجود سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دیا۔انہوں نے بہرحال اعداد و شمار کا سہارا لے کر بات کی اور حفیظ شیخ کی تقریر کے حوالے سے بہت کچھ کہہ گئے۔ تاہم بات اس وقت بگڑی جب وزیر برقیات عمر ایوب نے فلور سنبھالا اور بجلی کے حوالے سے وضاحت دینا شروع کی۔انہوں نے ملکی وسائل پر بھروسہ کرنے کی بجائے، بیرونی ممالک کی کمپنیوں سے مستعار لینے کا معاملہ چھیڑ دیا اور اسی دوران ملبہ سابقین پر ڈالتے ہوئے ”ٹین پرسنٹ“ کا ذکر کر دیا،اس پر جیالے مشتعل ہو گئے اورمذکورہ وزیر پر جھپٹے اور نوبت ہاتھا پائی تک آ جاتی، لیکن بیچ بچاؤ کرا دیا گیا۔یوں سنجیدہ موضوعات بھی محاذ آرائی ہی کی نذر ہو گئے اور مہنگائی پر انفرادی بات ہوئی،لیکن مجموعی طور پر کچھ نہ ہو سکا،حالانکہ اہم مسائل پیش ہوئے تھے۔بعدازاں بلاول نے شکوہ بھی کیا کہ ایوان میں بات نہیں کرنے دی جاتی۔بہرحال ایک امر تو واضح ہے کہ پی ٹی وی کے پارلیمینٹ چینل نے اپوزیشن کے دونون رہنماؤں بلاول بھٹو زرداری اور شاہد خاقان عباسی کی تقریروں کو سنسر کی نذر کر دیا۔یوں قومی اسمبلی کا ماحول خراب ہوا اور اہم ترین عوامی موضوع پر کوئی بات نہ ہو سکی، جس جس نے بھی جو کچھ کہا وہ ہوا میں تحلیل ہو گیا۔

ہم نے اپنے پارلیمانی رپورٹنگ کے دور میں بڑے بڑے ہنگامہ خیز اجلاس دیکھے اور رپورٹ بھی کئے،لیکن جو ماحول آج کے ایوانوں میں ہے ایسا کبھی نہیں تھا کہ نوک جھونک اور ہنگامہ آرائی بھی ہوتی تھی، لیکن مسائل پر بات ہو جاتی تھی۔ یہاں تو اہم ترین مسئلہ مہنگائی زیر بحث تھا اس کا مطالبہ بھی بلاول بھٹو زرداری نے ہی کیا تھا۔ ہماری کم از کم تمام پارلیمانی لیڈروں سے توقع ہے کہ وہ بھی اخلاق کا دامن تھامیں گے تاکہ عوام کی بات بھی ہو سکے۔ایوان میں اہم کارروائی وقفہ سوالات بھی ہوتا ہے،بلکہ ہے اس سے اراکین بھرپور فائدہ اٹھاتے اور عوامی مصائب پر بات کرتے تو لوگوں کی تسلی ہوتی جو اس کارروائی کو غور سے دیکھتے اور سنتے ہیں، شاید ان کو اپنے ووٹ کی اہمیت کا احساس ہو جاتا۔ اللہ کرے ان صاحبان کو درد مندی سے بات کرنے اور تحمل سے برداشت کی بھی عادت ہو۔

مزید : رائے /کالم