لالہ صحرائی:ایک بے حد شفیق شخصیت

لالہ صحرائی:ایک بے حد شفیق شخصیت

  



بچپن سے گھر میں شعر و ادب کو اہل ِ خانہ کا اوڑھنا بچھونا پایا۔ ہر طرف کتابیں، رسالے اور اخبارات کے ڈھیر۔ ابوجی (انوار فیروز صاحب) شاعر بھی اور صحافی بھی۔ صبح صبح گھر کے برآمدے میں جب اخبار والا سائیکل پر بیٹھے بیٹھے بہت سے اخبارات ایک ساتھ اچھالتا تو اس کی آواز سے ہم سب سوتے سے اُٹھ کر بیٹھ جاتے۔ ناشتہ کرنے سے پہلے سب چھوٹے بڑے اخبار پڑھ کر فارغ ہو جاتے۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا کہ کسی لائبریری میں بیٹھے ہیں،ہر چہرے کے سامنے ایک اخبار ہوتا تھا۔ سکول کالج سے آکر سب اکٹھے ہوتے تو نئی آنے والی کتابیں اور ادبی رسائل ہاتھ میں آجاتے۔ سب بہن بھائی بچپن ہی میں شعر کہنے لگے تھے۔ اخبار رسالے پڑھنے کی وجہ سے سبھی لکھنے والوں کے نام ا زبر تھے۔ ……لالہ  صحرائی کا نام چند بڑے اور معیاری پرچوں میں نظر سے گزرا تھا۔ ابوجی نے بتایا تھا کہ لالہ  صحرائی صاحب اچھے نثر نگاروں میں شمار ہوتے ہیں،خاص بات یہ کہ احمدندیم قاسمی کے بہت اچھے دوست ہیں۔ فنون میں لالہ  صحرائی کی چیزیں چھپتی رہتی تھیں۔ احمد ندیم قاسمی کی وجہ سے ہمیں فنون بہت پسند تھا۔ احمد ندیم قاسمی نے والد صاحب کے ساتھ ساتھ مجھے بھی بہت محبت دی تھی اور زمانہئ طالب علمی میں فنون کے صفحات پر جگہ دے کر میرا مان بڑھایا تھا۔ اس محبت کی وجہ سے ہمیں فنون میں چھپنے والے لوگ بھی اچھے لگتے تھے۔ اس طرح لالہ  صحرائی سے غائبانہ تعارف تھا۔

میری شادی جہانیاں میں ہوئی۔ لالہ  صحرائی بھی جہانیاں ہی میں مقیم تھے۔ کبھی کبھی سسرالی گھر (جہانیاں) میں جانا ہوتا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد مَیں جدہ چلی گئی، جہاں میرے میاں جی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ مَیں اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہوں کہ میرے میاں کو بھی شعروادب سے دلچسپی ہے اور انہوں نے کبھی میری راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش نہیں کی،بلکہ قدم قدم پر ان کا تعاون مجھے ہمیشہ حاصل رہا۔ اس حوالے سے سسرالی ماحول بھی میکے سے کچھ مختلف نہیں تھا۔ میاں سے نہ صرف یہ کہ ادبی حوالوں سے گفتگو ہوتی ہے،بلکہ بعض اوقات وہ مصرع یا اس میں کوئی لفظ تبدیل کرنے کے سلسلے میں مفید مشورہ بھی دے دیتے ہیں۔ ادبی گفتگو ہو اور اس میں لالہ  صحرائی کا نام نہ آئے، یہ کیسے ممکن تھا؟ میرے میاں ان کا ذکر انتہائی عقیدت و احترام سے کرتے اور بتاتے کہ ”میرے دادا اور لالہ  صحرائی کے والد پگڑی بدل بھائی تھے، میرے ابا اور لالہ  صحرائی کی بہت اچھی دوستی ہے اور الحمدللہ یہ دوستی تیسری نسل میں منتقل ہوئی اور لالہ  صحرائی کے دونوں ڈاکٹر بیٹے ڈاکٹر جاوید احمد صادق اور ڈاکٹر نوید احمد صادق میرے بھائیوں جیسے دوست ہیں“۔ یہ بات صرف میرے میاں کے بتانے تک محدود نہ رہی،بلکہ مَیں نے بارہا اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا، کیونکہ ہمارے قیامِ جدہ کے دوران ڈاکٹر جاوید اور ڈاکٹر نوید ہم لوگوں سے ذرا دور طائف شہر میں مقیم تھے اور دونوں گھرانوں کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا لگا رہتا تھا یا پھر مکہ اور مدینہ منورہ میں بھی ملاقات کی صورت نکل ہی آتی تھی۔یہ دونوں بھائی، ان کی بیگمات، بچے سب اپنے گھر کے افراد کی طرح لگتے ہیں کہ اپنائیت اور محبت ان سب میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ان دونوں بھائیوں کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو، ان کا جذبہ ئ احترامِ والدین ہے، جو حقیقی معنوں میں نہ صرف قابل ِ تعریف، بلکہ قابل ِ تقلید ہے۔ والدین کی جتنی عزت مَیں نے ان دونوں بھائیوں کو کرتے دیکھا ہے، وہ قابل ِ ستائش ہے۔

کئی بار لالہ  صحرائی عمرے کے لئے تشریف لائے اور ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جب جب ہم جہانیاں گئے، ان سے ملے بغیر واپس آنے کا تصور ہی مشکل تھا۔ وہ مجھے بہت پیار کرتے اور میرے میاں سے کہتے کہ ”تمہارے حوالے سے یہ اصولاً تو میری بہو ہے، لیکن اس کا درجہ میرے لیے بیٹی جیسا ہے، لہٰذا اب تم داماد کے مرتبے پر فائز ہوگئے ہو“۔ جب بھی ہم لوگوں سے ملتے، مجھ سے اصرار کرکے شعر سنتے اور میرے سُسر کی طرح کھل کر داد یتے……پھر یوں ہوا کہ میرے شوہر کو اللہ تعالیٰ نے خدمت ِ والدین کی سعادت بخشی اور اپنے تینوں بھائیوں کے پاکستان میں ہوتے ہوئے یہ اپنی نوکری چھوڑ کر جدہ سے لاہور آگئے۔ مجھے جدہ بہت پسند تھا، لیکن میاں کا نیک ارادہ دیکھ کر مَیں نے ان کا بھرپور ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ لاہور آکر مَیں سسرال کی خدمت میں ایسی مصروف ہوئی کہ لکھنا لکھانا تو درکنار، کتابیں پڑھنے کا وقت بھی نہ ملتا۔ ایک مہمان آتا، ایک جاتا، کسی کا کھانا، کسی کی چائے۔ایسا لگتا تھا کہ مَیں شاعرہ نہیں ”باورچن“ پیدا ہوئی تھی۔ لکھنے پڑھنے کا وقت برائے نام میسر آتا تھا۔ انہی دِنوں مدینہ منورہ سے آنے والے ایک خط نے مجھے شاد کر دیا۔ خط کھولتے ہی یوں محسوس ہوا کہ اس میں موجود دعائیں سارے گھر میں پھیل گئی ہیں اور مسکرا مسکرا کر کہہ رہی ہیں: ”دیکھو ہم جیسی ہوتی ہیں مقبول دُعائیں“۔ مَیں بار بار وہ خط پڑھتی تھی، آنکھوں سے لگاتی تھی کہ وہ خط مدینہ منورہ سے، میرے پیارے نبی کریمؐ کے شہر مبارک سے موصول ہوا تھا۔ بارہا میرے آنسوؤں سے بھیگا اور خشک ہوا۔ بشارتوں والا، قبولیت والا، برکت اور محبت والا یہ خط لالہ ئ صحرائی کا تھا۔ (جو ایک عرصہ نثر لکھنے کے بعد اچانک نعت لکھنے کی طرف آگئے تھے)…… خط میں انہوں نے تحریر فرمایا تھا کہ ”مَیں پچھلے ہفتے مدینہ منورہ میں تھا، جہاں مَیں نے روضہ رسولؐ پر دعامانگی کہ یااللہ میری بیٹی عروبہ اتنی اچھی غزل کہتی ہے، تو اسے اتنی ہی خوب صورت نعت کہنے کی توفیق عطا فرما دے“۔ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ خط پر جو تاریخ درج تھی، عین اُس دن اور اُس وقت میں لاہور میں اپنی پہلی نعت لکھ رہی تھی:

نصیبہ کاش کہ بارِ دگر تحریر ہوجائے

اور انؐ کا پاک در، اب کے مری تقدیر ہوجائے

اس خط کے متعلق دوسری حیرت کی بات یہ تھی کہ بعد میں لالہ ئ صحرائی نے بتایا کہ وہ خط طائف سے لکھا گیا تھا اور وہیں سے حوالہ ئ ڈاک کیا گیا۔ نہ جانے کیسے وہ مدینہ منورہ پہنچا اور وہاں سے ہمیں لاہور میں موصول ہوا۔1992ء کے ربیع الاوّل میں شروع ہونے والے میرے نعت کے اس سفر کی ابتدا اتنی حسین تھی کہ شاید ہی اور کسی نعت گو کو نصیب ہوئی ہوگی۔ میری پہلی نعت کے مطلع میں مانگی گئی دُعا، میری پیاری امی جی اور لالہ ئ صحرائی کی دُعاؤں سے ایسا رنگ لائی کہ 1997ء میں دوبارہ ہمارے خاندان کو اللہ پاک نے اپنے در پر بُلا لیا اور پچھلے آٹھ سال مسلسل رمضان المبارک کا آخری عشرہ مدینہ منورہ میں گزارنے کا موقع ملتا رہا۔ لالہ ئ صحرائی ان دِنوں تواتر سے نعت کہتے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے کئی نعتیہ مجموعے منظرعام پر آئے۔ یہ سعادت حاصل ہونے کے بعد یکے بعد دیگرے آپ کی متعدد نعتیہ کتب شائع ہوئیں۔ آپ نے غزل کی ہیئت میں بھی نعت رسول مقبولؐ لکھی، نعتیہ نظمیں اور قصیدے بھی تحریر فرمائے۔ بچوں کے لئے نعتیہ شاعری کی۔ ان کے ہاں موضوعات کے تنوع کی اس سے خوب صورت مثال کیا ہوگی کہ آپ نے غزوات کے واقعات کو منظوم کیا۔ ان کے اشعار نبی پاکؐ کی محبت سے مُشک بُو ہیں۔ آپ نے نعت میں احترام کا پہلو بطور خاص مدنظر رکھا۔ غلو سے بچتے ہوئے حُب ِ نبیؐ کا حق ادا کرنے کی سعی کرتے رہے اور اسی جذبہ  عشق ِ رسولؐ نے قلم کی حرمت کو برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ ادب اور قرینے سے کہی گئی نعتیں انہیں نعتیہ ادب میں ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔

وہ کبھی کبھی سرزمین حجاز حاضری کے لئے تشریف لاتے، ہر بار ان سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوتا تھا۔ ایک بار مَیں نے اور میرے میاں خورشید انور نے لالہ ئ صحرائی کو سعودی عرب میں مقیم پاک و ہند کے شعرا سے ملوانے کے لئے ان کے ساتھ ایک ”شام نعت“ سجائی۔ دیارِ غیر میں ایسی تقریبات میں لوگ خوش دلی سے شریک ہوتے ہیں، لیکن یہ ”شام نعت“ حاضرین کے لحاظ سے یادگار تھی کہ لوگ فرمائش کرکر کے اس میں شامل ہوئے۔ یہ لالہ  صحرائی کی معتبر شخصیت کا کمال تھا کہ لوگ انہیں دیکھنے اور سننے کی اس قدر خواہش رکھتے تھے……کسی بھی گھر میں بزرگوں کا وجود باعث برکت ہوتا ہے، ہمیں چند گھنٹوں کے لئے یہ برکت میسر آتی تھی، لیکن ہر بار ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ دعاؤں کے ڈھیر ساری برکت ہمارے گھر میں رکھ جاتے تھے، جو کسی خزانے کی طرح ہمارے ساتھ ساتھ رہتی تھی…… آپ یقین کیجیے کہ آج بھی ان کی دعاؤں کی تاثیر میرے ساتھ ہے۔ ہر نئی نعت لکھتے ہوئے یقین ہوتا ہے کہ مجھے اس نیک کام میں مصروف دیکھ کر لالہ ئ صحرائی خوش ہیں اور اپنی دُعا کی قبولیت پر مسکرا رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم