بیوہ و مطلقہ خواتین کی پنشن کا مجوزہ ادارہ

بیوہ و مطلقہ خواتین کی پنشن کا مجوزہ ادارہ
بیوہ و مطلقہ خواتین کی پنشن کا مجوزہ ادارہ

  



محلے کے اُس بہتر سالہ بابے نے ایک دن ایکا ایکی اپنابتیس پینتیس لاکھ کا مکان بغیر قبضہ دیئے بائیس لاکھ میں بیچا، بالوں مونچھوں کو خضاب لگایا، کراچی کا ٹکٹ لیا، ایک فلیٹ خریدا اور چند ہی دنوں میں ایک بنگالی لڑکی سے شادی کر لی۔ میری اہلیہ بتا رہی تھیں کہ جب یہ مکان بن رہا تھا تو بابے کی بیوی اینٹوں کا چولہا بنا کر مزدوروں کو چائے بنا کر دیا کرتی تھی،اس نے اپنا زیور اور جوانی بھی اس مکان میں جھونک دی۔ بیٹے بیٹیاں اپنے اپنے گھروں والے ہو گئے،جوان پوتے،پوتیاں، نواسے،نواسیاں کالجوں، یونیورسٹیوں میں جانے لگے تو ستر سال کی عمر میں اس کے سر کی سفید چاندی کے اوپر طلاق کا بدہیئت طلائی تمغہ سج گیا۔مَیں اس بحث میں کبھی نہیں پڑا اور نہ کسی اور کو پڑنا چاہئے کہ طلاق مرد کی غلطی کے باعث ہوئی یا اس کی ذمہ دار عورت ہے؟ یہ اود بلاؤ کی ڈھیری کی طرح وہ لاینحل مسئلہ ہے جس کا کوئی اور ہے نہ چھور، مسئلہ کچھ اور ہے! دنیا بھر کی ازدواجی زندگی میں بیوی شوہر کے زیرکفالت ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ اور مغربی ممالک نے سماجی بہبودکے دائرے کو کچھ اس طرح وسعت دے رکھی ہے کہ نکاح طلاق، حتیٰ کہ موت فوت کے مواقع پر بھی عورت کے دال دلیے پر مطلقاً اثر نہیں پڑتا۔ ان ملکوں میں سوشل سیکیورٹی کا ادارہ بعض اوقات بیوہ یا مطلقہ کو اس کی ازدواجی زندگی سے کہیں بہتر وسائل بہم پہنچاتا ہے۔ مسئلہ تو ہمارے مسلمان اور دیگر ترقی پذیر اور پسماندہ معاشروں کا ہے، جن میں بیوگی اور طلاق کی صورت میں عورت کو صحرائے زیست کی تنہائی میں چلچلاتی دھوپ کی رفاقت ہی میسر ہوتی ہے۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے، آمین۔

شریعت کی تعلیم حاصل کرنے کا باعث اس پر سوچنا شروع کیا۔ بیوہ، مطلقہ اور یتیم کو اس کا باپ بھائی سنبھالے تو سنبھالے، لیکن جن کے باپ بھائی نہ ہوں، وہ کہاں جائیں؟ پھر سنبھالنے والے اور ان کی والیاں جن شرائط پر سنبھالتی ہیں، وہ الگ سے ایک تمغہئ شرمندگی ہے،چنانچہ اس معاشرتی بے بسی کے سبب ملک اور معاشرے کا کوئی قابل ِ رشک تعارف سامنے نہیں آتا۔ دوسری طرف ان تلخ داستانوں اور حقائق کی تجارت کرنے والیاں کوئی ایک دو نہیں، ملک بھر میں این جی او کی شکل میں ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ایک طرف ہمارا دینی طبقہ ہے، جس کے نزدیک اسلام مکمل ضابطہ ئ حیات ہے۔ ”جی! زکوٰۃ کا نظام کلی طور پر رائج ہو جائے تو کسی کو سوالی بننے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی“۔ گویا یہ نظام جب تک رائج نہیں ہو گا، عورت کی بے چارگی کی داستانیں ہم سنتے ہی رہیں گے۔ ادھر ان داستانوں کی تجارت کرنے والیاں، عورتوں اور مردوں کے ایک جم غفیر کا پہلے پہل تو جذباتی استحصال کرتی ہیں اور جب اس کا حل پیش کرتی ہیں تو یاد کیجئے، گھریلو تشدد کے نام پر انہوں نے پنجاب میں مرد کو آہنی کڑا تک پہنا دیا۔ عورتوں کے حقوق کے نام پر ان کے مجوزہ قوانین نکال کر ذرا پڑھ لیں، سنتے پڑھتے ہوئے گھن آتی ہے۔ ”جی! عورت کاحق ہے کہ جب جی چاہے، جہاں چاہے جائے،اور جب جی چاہے اس کی مرضی ہے واپس آئے، اس پر کوئی روک ٹوک پابندی نہیں ہو سکتی“۔ گویا دینی طبقے کے پاس تو کوئی ٹھوس حل نہیں ہے،اس کے برعکس والے طبقے کے پاس جو حل ہے، وہ پورے معاشرتی تانے بانے میں بارودی سرنگیں لگانے کے مترادف ہے، رہی عورت تو وہ ہے تصویر حسرت!

سوال ابھی تک میرے سامنے سوالی بنا کھڑا ہے،بیوہ، مطلقہ اور دیگر یک و تنہا خواتین کہاں جائیں؟ ہمارے اسی محلے میں ایک اور خاتون کہیں عام سی ملازم تھی۔ شادی ہو گئی تو شوہر نے ملازمت چھڑوا دی۔ دو سال بعد طلاق ہو گئی۔ اب وہ بے چاری نہ اِدھر کی رہی اور نہ اُدھر کی۔ کچھ سوچ بچار کے بعد مَیں نے مدتوں پہلے اس کا ایک جزوی سا حل نکالا اور صوبہ خیبر میں اس وقت کی متحدہ مجلس عمل کی حکومت کو وہ حل پہنچا دیا،جو اس کی ترجیحات میں جگہ نہیں پا سکا۔ مسئلہ اتنا بڑا ہے کہ مختصر کالم میں اس کا حل پیش کرنا خاصا دشوار کام ہے۔ کوشش کروں گا کہ آج اس کی طرف توجہ دلا دوں۔ اس رائے کو یوں بھی تقویت ملی کہ چند ہفتے پہلے ایک خاتون پی ایچ ڈی کے موضوع کی تلاش میں ملنے آ گئیں،تو مَیں نے اس طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اسی پر کام کریں گی۔

قارئین کرام! سرکاری ملازمین کو پچھلی عمر میں زندگی بھر پنشن ملتی رہتی ہے۔ نجی شعبے کے ایک بڑے حصے کے ملازمین کو پنشن دینے کے لئے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن کے نام سے ایک ادارہ موجود ہے، جو صنعتی اور تجارتی اداروں کے ملازمین کو پچھلی عمر میں پنشن وغیرہ دیتا رہتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں ایسا ہی ایک ادارہ خالصتاً خواتین کے لئے بھی ہونا چاہئے۔ میری یہ تجویز نہ تو حرفِ آخر ہے اور نہ ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے،مَیں بس توجہ دلا رہا ہوں۔امید ہے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، اسلامی نظریاتی کونسل، سینیٹ اور تمام اسمبلیوں کے ارکان اس طرف توجہ کریں گے۔ اس کام کو پایہئ تکمیل تک پہنچانے کے لئے فرد نہیں،ٹیم ورک کی ضرورت ہے۔سرکاری ملازمین اور صنعتی و تجارتی اداروں میں سرکار یا آجر (Employer) اپنے ہر ملازم کی تنخواہ کاکچھ فیصد تناسب پنشن کنٹری بیوشن کے طور پر جمع کر کے رکھ لیتا ہے۔ یہی رقم بڑھتے بڑھتے اور مزید حکومتی امداد کے ساتھ تیس پینتیس سال میں اتنی ہو جاتی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے وقت ملازم کو پنشن ملنا شروع ہو جاتی ہے۔میری رائے میں یہی کام خواتین کے ضمن میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ اوّل اوّل تو نکاح کے دن ہی سے شوہر اپنی مالی و معاشرتی حیثیت کے مطابق اپنی بیوی کا ویسا ہی پنشن کنٹری بیوشن خواتین کے لئے قائم اس ادارے کو دینا شروع کرے، جس کا نام ویمن پنشنری بینیفٹ انسٹیٹیوشن رکھا جا سکتا ہے۔

نسبت تناسب کے فارمولے پر اس میں حکومت بھی اپنا حصہ ڈالے۔ ادارے کی یہ جمع شدہ رقم بڑھتے بڑھے چند سال میں اربوں کھربوں روپے ہو جائے گی اور مزید کسی مالی تگ و دو کی حاجت ہی نہیں رہے گی، کیونکہ90 فیصد کے لگ بھگ شادیاں کامیابی سے چلتی ہیں۔ شوہر کی وفات پر عورت کو اگر کوئی اور فیملی پنشن ملے تو یہ پنشن اسے نہیں ملے گی،ورنہ ہر بیوہ اور مطلقہ خاتون کے سر سے شوہر کی چھتری ہٹتے ہی اس ادارے سے پنشن ملنا لازم ہو جائے۔ سرکاری ملازمین کی طرح اس ملازم عورت کو بھی دوبارہ ملازمت شروع کرنے کا حق ملنا چاہئے،جسے شوہر کے کہنے پر،یا اپنی ازدواجی مصروفیت کے باعث ملازمت چھوڑنا پڑی ہو۔ ظاہر بات ہے، ازدواجی زندگی کے عرصے میں شوہر بیوی کا پنشن کنٹری بیوشن دینے کا پابند ہو گا۔ زندگی کے کسی حصے میں، لیکن 60سال سے قبل، طلاق یا بیوگی ہو جائے تو سرکاری ملازمین کی طرح اس عورت کے پاس بھی ملازمت پرواپس جانے کا حق (Lien) ہونا چاہئے۔یوں 60سال پورے ہونے پر اسے معمول کے مطابق خود اپنی پنشن ملنا شروع ہو جائے گی اور ادارے پر بوجھ کم ہو جائے گا۔ اس دوسری صورت میں بیوہ ہونے پر عورت اگر ملازمت پر واپس چلی جائے اور ساتھ ہی اسے شوہر کی فیملی پنشن ملنا شروع ہو تو وہ ملتی رہے گی، کیونکہ اوّل الذکر پنشن عورت کی اپنی ہو گی۔

کوئی موٹروے بنائے یا سستی روٹی کے تنور، معتر ضین کا ایک ہجوم ”اللہ جرمن کی توپوں میں کیڑے پڑیں“ کی گردان کے لئے تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ اس تجویز پر بھی ایک بڑا اعتراض ممکن ہے۔ مغرب میں طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک سبب وہاں کا سوشل سیکیورٹی کا نظام ہے۔اگر یہ تجربہ یہاں کیا گیا تو کسی حد تک یہاں بھی یہی کچھ ممکن ہو سکتاہے۔ یقینا اس کا امکان ایک سطح پر موجود ہے، لیکن اس کا فی صد تناسب مغرب کے مقابلے میں بہت ہی کم ہو گا۔ مغرب میں سوشل سیکیورٹی کی وجہ سے عورت کو ممکنہ سہارا حاصل ہوتا ہے۔ اس سہارے کے طفیل وہ ازدواجی زندگی کی زیادہ پرواہ نہیں کرتی۔ جب گھرانے میں دراڑ پڑتی ہے تو اس کی مرمت اور دلجوئی کا سب سے بڑا ادارہ خاندان پہلے ہی وہاں بڑی حد تک معدوم ہو چکا ہے۔ پاکستان اور مسلم معاشرت میں یہ صورت حال مطلق موجود نہیں ہے۔ ہمارے ہاں خاندان اور اس کے متعلقات ملکی آبادی کی بہت بڑی اکثریت کی زندگی میں دخیل ہیں، اس لئے یہ امکان بہت کم ہے کہ عورت کی ازدواجی زندگی اس نئی مجوزہ سہولت کے باعث ختم ہو گی۔امکان یقینا موجود ہے، لیکن ”گاؤں بسا نہیں، اُچکے پہلے آ گئے“ کو ذرا نظرانداز کر دیں۔اگر اس مفروضے کو مان لیا جائے، تب بھی اس میں خیر کا ایک بہت بڑا پہلو موجود ہے۔ وہ خواتین جو سسرال اور شوہر کے تشدد یا ظالمانہ برتاؤ کا شکار ہوں اور مالی بے چارگی کے باعث اس جہنم میں رہنے پر مجبور ہوں، اس ادارے کے سبب انہیں چھٹکارا حاصل کر کے نئی زندگی شر وع کرنے کا موقع حاصل ہو گا۔ اسی کے پہلو بہ پہلو، قانون جب عورت کو یہ ڈراؤنا حق دے گا تو یقین کیجئے گھریلو تشدد میں خاصی کمی واقع ہو گی۔ یوں مرد کو کڑے پہنا کر اس کی تذلیل کرنے والی خواتین سے بھی ہمیں چھٹکارا ملے گا…… اگر ہم اس امکان کو پیش نظر رکھ بھی لیں تو یہ کوئی دانش مندانہ رائے نہیں ہے کہ ممکنہ طور پر دو چار دس فیصد خواتین کی وجہ سے ملک کی نوے پچانوے فیصد خواتین بے گھر اور بے یارومددگار ہوں اور ہم اللہ پر توکل کی مالا جپتے رہیں۔

مرد اپنا طلاق کا حق بے مہار طریقے سے استعمال کریں اور عورتیں میکے میں بھابھیوں کے ہاں برتن کپڑے دھو کر ان کی دست نگر ہوں۔ مذہبی طبقے اور خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والوں اور والیوں سے مَیں یہ درخواست بڑی دِل سوزی سے کروں گا کہ اگر اس تجویز میں وہ کوئی وزن محسوس کریں تو سب مل جل کر اور اپنے اختلافات اس مظلوم عورت کی خاطر نظرانداز کر کے کام کریں۔مَیں حکومت کو یقین دلاتا ہوں کہ اس مجوزہ ادارے کے قیام پر کوئی اربوں روپے خرچ نہیں ہوں گے۔ آغاز میں اس کے کچھ انتظامی اخر اجات ضرور ہوں گے۔ اس کے بعد یہ ادارہ حکومت کی آمدنی کا ایک ذریعہ ہو گا، کیونکہ ملک کے تمام کروڑوں شادی شدہ مرد اس ادارے کو مالی وسائل ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ سو کے مقابلے میں بمشکل10 فیصد خواتین اس سے فائدہ حاصل کریں گی، باقی 90 فیصد اپنی ازدواجی زندگی سے لطف اندوز ہوتی رہیں گی۔ ان90 فیصد خواتین کے شوہروں کی ادا شدہ رقم چند سال میں اربوں کھربوں میں ہو جائے گی،جہاں سے حکومتیں قرض لے کر دیگر مفیدکا موں پر اسے خرچ کر سکیں گی۔یوں یہ ادارہ آگے چل کر ملک کی اقتصادی ترقی میں بھی معاون ہو سکتا ہے۔ بہت آگے چل کر شاید حکومت کو اس ادارے کے باعث ظالمانہ ٹیکسوں میں کمی کا موقع بھی مل سکتا ہے۔امید ہے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، اسلامی نظریاتی کونسل،سینیٹ اور تمام اسمبلیوں کے ارکان اس طرف توجہ کریں گے۔

مزید : رائے /کالم