قومی اسمبلی میں انداز تکلم اور شر م سار جمہوریت

قومی اسمبلی میں انداز تکلم اور شر م سار جمہوریت
قومی اسمبلی میں انداز تکلم اور شر م سار جمہوریت

  



دو روز پہلے قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا اس پر ”شرم ہوتی ہے، حیا ہوتی ہے“ والا جملہ بھی چھوٹا نظر آتا ہے۔ یہ ہے ہمارے ایوان نمائندگی کا معیار، جہاں ذو معنی جملوں کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے کہ گھن سی آنے لگتی ہے۔ یہ تماشا آج سے نہیں، ہمیشہ سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس کے برپا ہونے سے ملک و قوم کی کون سی خدمت ہوتی ہے؟ اس کا جواب کبھی کسی نے نہیں دیا۔ اربوں روپے سالانہ ان ایوانوں پر خرچ ہوتے ہیں، نتیجہ کیا نکلتا ہے؟…… یہی دشنام طرازی، کردار کشی، رقیق جملے، ذاتی حملے، سطحی گفتگو، ذومعنی باتیں اور پھر بائیکاٹ بائیکاٹ کی صدائیں۔ قصور کس کا ہے؟ کوئی ماننے کو تیار نہیں، ابتداء کون کرتا ہے؟ کوئی ذمہ داری نہیں لیتا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری جیسا آکسفورڈ کا پڑھا ہوا نوجوان بھی اسی رنگ میں رنگا گیا ہے، حالانکہ اسے اپنی سوچ اور کردار سے تبدیلی کا احساس دلانا چاہئے تھا۔ کسی زمانے میں تو سپیکر قومی اسمبلی کا کچھ کنٹرول اور رعب داب بھی ہوتا تھا۔ وہ سارجنٹ ایٹ آرمز کے ذریعے ایسے ارکانِ اسمبلی کو باہر نکال دیتا تھا، مگر اب سپیکر کا کردار ایک بے بس مانیٹر کا رہ گیا ہے، جو اور کچھ نہیں کر سکتا، بس اجلاس ملتوی کر دیتا ہے۔ اس کے کہنے سے کوئی اپنی نشست پر بیٹھتا ہے، نہ شور شرابہ بند ہوتا ہے، حتیٰ کہ مار دھاڑ کے مناظر بھی سامنے ہو رہے ہوتے ہیں اور سپیکر کچھ کر نہیں سکتا۔ تو صاحبو! یہ ہے، وہ ایوان جس سے قوم تبدیلی کی امید لگائے بیٹھی ہے، جس کے ذریعے اپنے مسائل کا حل چاہتی ہے اور جس کے لئے نمائندے منتخب کر کے بھیجتی ہے۔

قومی اسمبلی کو ”رنگیلے بادشاہ“ کا دربار کیوں سمجھ لیا جاتا ہے، جہاں سب سے بڑی کامیابی یہ سمجھی جاتی ہے کہ کون سب سے بڑی جگت مارتا یا پھبتی کستا ہے۔ مسائل میں ڈوبے ہوئے ملک کی سیاسی اشرافیہ مسائل پر بات کرنے ان کا حل نکالنے کی بجائے کن کاموں میں پڑی ہوئی ہے؟ صاف لگتا ہے کہ اسے عوام کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔ قومی اسمبلی جیسے فورم پر بھی اعداد و شمار کے ساتھ ایشوز پر آکر بات نہیں ہو سکتی تو پھر کہاں ہو گی؟…… کیا گلی محلوں یا ان کے تھڑوں پر؟ سوال یہ بھی ہے کہ تقریر کرتے کرتے بعض لوگوں کی زبان پھسل جاتی ہے، یا پھر پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت سٹیج ڈرامے جیسے ڈائیلاگ بولے جاتے ہیں۔اب یہ بلاول بھٹو زرداری کی اپنی اختراع تھی یا انہیں سکرپٹ لکھ کر دیا گیا تھا کہ وہ اپنی تقریر میں عمران خان کو چھوٹا آدمی کہیں …… اگر بلاول بھٹو زرداری کو اس بات پر اعتراض تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام احساس کیوں رکھا گیا تو وہ کسی اور طرح بھی احتجاج کر سکتے تھے۔

ملک کے وزیراعظم کو اسمبلی کے فلور پر چھوٹا آدمی کہنے سے شاید ان کے دل کی بھڑاس تو نکل گئی ہو، لیکن اس سے اسمبلی کا ماحول جس طرح خراب ہوا، وہ ایک بہت بڑی قیمت ہے۔ پھر مراد سعید نے جو کہا، وہ بھی غیر معیاری اور غیر اخلاقی تھا،لیکن عبدالقادر پٹیل نے تو حد ہی کر دی اور بدقسمتی سے ان کا خطاب براہ راست نشر ہوتا رہا۔ مَیں یقین سے کہتا ہوں کہ ایسے ڈائیلاگ اگر کسی سٹیج ڈرامے میں بھی ہوتے تو ڈرامے کی مانیٹرنگ کرنے والے ڈرامہ بند کرا دیتے، مگر یہاں کسی کو خیال ہی نہیں آیا کہ کس قدر ذومعنی اور غیر اخلاقی مواد براہ راست نشر ہو رہا ہے اور وہ بھی قومی اسمبلی کے فلور سے جو قوم کے اجتماعی شعور اور ضمیر کی آماجگاہ سمجھی جاتی ہے، سونے پہ سہاگہ وہ لڑائی جھگڑے کے مناظر ہیں، جنہوں نے ایک بار پھر ایوان کو مچھلی منڈی بنا دیا۔

المیہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں ”نہلے پہ دہلا پھینکنے“ کا رواج ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک طرف کی غیر معیاری گفتگو پر دوسری طرف سے صبر کا دامن نہ چھوڑا جائے۔ یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ عوام تماشائی ہیں، انہیں اونچے اور بھڑکیلے مکالمے اور بڑھکیں پسند ہیں، اس لئے اس میں پرفارمنس بہتر دکھائی جائے،حالانکہ خود عوام کے اندر اب ایسے مناظر دیکھ کر غصہ اور اضطراب جنم لیتا ہے۔ ان میں مایوسی بڑھ جاتی ہے اور یہ امید ختم ہونے لگتی ہے کہ ان اسمبلیوں کے ذریعے ان کی حالت بدلنے کا کوئی کام لیا جائے گا؟ وفاقی وزیر عمر ایوب، جو پارٹیاں بدلنے میں ثانی نہیں رکھتے، اسمبلی کے اندر اسی رو میں بہہ گئے۔ اُنہیں کیا ضرورت تھی کہ کسی ٹین پرسنٹ کا تذکرہ کرتے۔ یہاں بچہ بچہ جانتا ہے کہ آصف علی زرداری کے لئے یہ خطاب کتنی مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ کیا وہ سیدھا یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ آصف علی زرداری کے زمانے میں ڈالر ملک سے باہر گئے یا ریکارڈ قرضے لئے گئے…… ”مسٹر ٹین پرسنٹ“ کی اصطلاح استعمال کر کے انہوں نے ایک سوچی سمجھی شرارت کی،جو غالباً بلاول بھٹو زرداری کی اس بات کا جواب تھی جس میں عمران خان کو ایک چھوٹا آدمی کہا گیا تھا۔

اس پر پیپلزپارٹی نے جو ردعمل ظاہر کیا، وہ بھی بچگانہ تھا۔ اس ردعمل سے یہ تاثر گیا کہ مسٹر ٹین پرسنٹ گویا پیپلزپارٹی کی چھیڑ ہے اور اب تک وہ اسے دل سے لگائے بیٹھی ہے۔ سب دیکھ رہے تھے کہ جب بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو چھوٹا آدمی کہا تو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے انہیں اس وقت ٹوکا اور کہا کہ وہ ایسے الفاظ استعمال نہ کریں، کیونکہ عمران خان ملک کے منتخب وزیر اعظم ہیں، انہوں نے غالباً اس لفظ کو کارروائی سے بھی حذف کر دیا۔ میرا خیال ہے، یہ سب کافی تھا، اس سے بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوا تھا، تاہم مراد سعید اور بعد ازاں عمر ایوب نے خواہ مخواہ بات کو بڑھایا، حالانکہ حکومتی جماعت کو اپوزیشن کی باتوں میں آنے کی بجائے ایشوز پر بات کرنی چاہئے تاکہ دونوں کا فرق واضح ہو سکے۔

الزاماتی جمہوریت ایک ایسا کھیل ہے جو ہماری جان نہیں چھوڑ رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اتنی استطاعت ہی نہیں رکھتیں کہ قومی مسائل کا حل نکال سکیں۔ اٹھارہ ماہ سے زیادہ ہونے کو آئے ہیں، کل بھی اسمبلی میں وزراء یہی رونا روتے رہے کہ برے حالات کی ذمہ داری ماضی کے حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے،آج بھی یہی واویلا کر رہے ہیں …… اس الزام کی بجائے اگر آج کے حکمران ان اقدامات کا ذکر کریں جو بہتری کے لئے اٹھائے جا رہے ہیں تو یہ خود حکومت کے لئے بھی سود مند ہوگا، کیونکہ ایک ہی بات کو کب تک دہرایا جا سکتا ہے؟ پھر جب آپ دوسرے پر الزام لگاتے ہیں تو گویا یہ دعوت دے رہے ہوتے ہیں کہ آپ پر بھی حملہ کیا جائے۔ ایک طرف اگر آپ کی پرفارمنس بہتر نہ ہو اور دوسری طرف یہ تاثر بھی پھیل جائے کہ قومی ادارے بھی نہیں چل پا رہے، تو اس کا نقصان اپوزیشن کو نہیں، حکومت کو ہوتا ہے۔ وفاقی وزراء شاید سمجھتے ہیں کہ اونچا بول کر یا ٹھٹھہ مخول کر کے وہ کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دے رہے ہیں، حالانکہ وہ اس تاثر کو گہرا کر رہے ہوتے ہیں کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو گئی ہے۔ ایسی باتیں اس وقت تو شاید اچھی لگیں، جب حکومت کی کارکردگی شاندار ہو، لوگ خوشحال ہو گئے ہوں، امن و امان اور گورننس مثالی ہو، مگر ایک ایسے حال میں کہ جب بحرانوں نے حکومت کی چولیں ہلا رکھی ہوں، عوام کے لئے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہو، بنیادی اشیاء ان کی دسترس سے باہر ہو گئی ہوں، تو ایسی باتیں ”کھسیانی بلی کھمبا نوچے“ کے مترادف نظر آتی ہیں …… یہ ذمہ داری اپوزیشن اور حکومت دونوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کو بد حالی کی دلدل سے نکالیں، مگر یہاں تو سوکنوں کی طرح ایک دورسے پر گھٹیا الزام تراشی اور پھکڑ پن کے جملوں کو ہر مسئلے کا حل سمجھ لیا گیا ہے:

ناطقہ سربہ گریباں ہے اسے کیا کہئے

مزید : رائے /کالم