حسن اخلاق احادیث کے آئینے میں

حسن اخلاق احادیث کے آئینے میں

  



سیدنا علیؓ بیان فرماتے ہیں کہ حسن اخلاق تین چیزوں میں ہے: (1) محرمات سے اجتناب کرنا۔ (2) حلال طلب کرنا۔ (3) اہل و عیال کے ساتھ عمدہ برتاؤ کرنا۔ (احیاء العلوم)۔

سیدنا عبداللہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں کہ ”اخلاق خندہ پیشانی یا چہرے کی شگفتگی اور قولی و فعلی بھلائی کی کوشش کرنے اور قولی و فعلی تکلیف دینے سے رک جانے کو کہتے ہیں“ (جامع العلوم والحکم)۔

جناب ماوردیؒ فرماتے ہیں کہ ”حسن اخلاق یہ ہے کہ انسان نرم مزاج‘ رحم دل اور خوش دل اور خوش طبع ہو‘ بے گانگی اور دوری نہ رکھتا ہو‘ نیز یہ کہ شائستہ گفتگو کرنے والا ہو“ (ادب الدنیا)۔

امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ ”حسن خلق یہ ہے کہ تو غصہ سے اجتناب کر اور کینہ اور بغض نہ رکھ“ (جامع العلوم والحکم)۔

حسن اخلاق افضل مومن کی نشانی ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”مومنوں میں افضل ترین مومن وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے“ (صحیح الجامع)۔

حسن اخلاق کامل ترین مومن کی نشانی ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومنوں میں ایمانی اعتبار سے اکمل وہ ہیں جن کا اخلاق اچھا ہے‘ جو اپنے پہلوؤں کو لوگوں کیلئے جھکانے والے ہیں اور لوگوں سے محبت کرتے ہیں اور لوگ ان سے محبت کرتے ہیں۔ اس آدمی میں بھلائی نام کی کوئی چیز نہیں جو نہ لوگوں سے محبت کرتا ہے اور نہ ہی لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں“ (صحیح الجامع)۔

حسن اخلاق والا روزے دار اور تہجد گزار کے اجر کا ہم پلہ ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انسان اپنے اچھے اخلاق کے سبب رات کا قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کے درجات کو حاصل کرلیتا ہے“ (صحیح الجامع)۔

حسن اخلاق محبت الٰہی کی دلیل ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو تمام بندوں سے محبوب ترین بندہ وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے“ (صحیح الجامع)۔

حسن اخلاق شادی کا بہترین معیار ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس ایسا آدمی آ جائے جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس کی شادی کردو (یعنی اپنی بیٹی کا نکاح دے دو) وگرنہ زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو جائے گا“ (صحیح الجامع)۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک لوگوں کو حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں دی گئی“ (صحیح الجامع)۔

حسن اخلاق نامہ اعمال میں سب سے بھاری چیز ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ترازو میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ بھاری ہوگی تو وہ حسن اخلاق ہے“ (صحیح الجامع)۔

حسن اخلاق قیامت کے دن قرب نبویؐ کا سبب ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”قیامت کے روز تم میں سے مجلس کے اعتبار سے میرے قریب وہ ہوگا جس کا اخلاق بہتر ہوگا“ (صحیح الجامع)۔

حسن اخلاق اعلیٰ جنت کا باعث ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس آدمی کو جنت کے کنارے (چبوترے) میں گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑوں کو چھوڑ دیتا ہے اور جنت کے درمیان میں گھر کا ضامن ہوں جو اپنے مزاح میں بھی جھوٹ کو چھوڑ دیتا ہے اور جنت کے اعلیٰ مقام میں گھر کا ضامن ہوں جس کا اخلاق اچھا ہے“ (صحیح الجامع)۔

جناب ماوردیؒ فرماتے ہیں کہ جب انسان کا اخلاق اچھا ہو جاتا ہے تو اس سے مصافحہ کرنے والے زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس کے دشمن کم ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اس پر مشکل ترین کام آسان ہو جاتے ہیں اور غمگین دل اس کیلئے مہربان ہو جاتے ہیں“ (ادب الدنیا والدین)۔

”اے اللہ! جس طرح تونے میری خلقت کو اچھا بنایا ہے میرے اخلاق کو بھی اچھا کردے“ (صحیح الجامع)۔

”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں برے اخلاق سے‘ برے اعمال سے‘ بری خواہشات سے اور بری بیماریوں سے“ (صحیح الجامع)۔

مزید : ایڈیشن 1