پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی افادیت سندھ میں نظر آتی ہے: مرتضی وہاب

پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی افادیت سندھ میں نظر آتی ہے: مرتضی وہاب

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی مشیر قانون و ماحولیات اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ سماجی زندگی کے بیشتر شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی عملی افادیت صرف صوبہ سندھ نے میں اثر پذیر نظر آتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج محکمہ تعلیم و خواندگی کے جانب سے منعقدہ کردہ ورکشاپ سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنا ایک مکروہ معاشرتی رویہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے تو کم ہے مگر ہمارے سماجی زندگی ہی ہراسانی کے واقعات پر رویوں میں بڑھتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سب اپنا معاشرتی فریضہ احسن انداز سے سر انجام دیں تو اس طرح کی رویوں کا سدباب کیا جاسکتا ہے۔ہراسگی کا عنصر صرف کام کرنے والی جگہوں پر نہیں بلکہ اس کا اطلاق پورے معاشرے پر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ میں موجودہ حضرات اپنی آرا سے ہمیں نوازیں تو اس معاملے کو بہترین قانون سازی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔محکمہ تعلیم کو سفارشات کی جائیگی کے مناسب میں اس موضوع کو شامل کیا جائے۔تقریب کے بعد صوبائی مشیر نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نااہل حکومت کے خلاف عوامی ردعمل کا پلان بنا رہے ہیں جس کی یادداش میں انہیں نیب کی جانب سے نوٹس جاری کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے کراچی کے تین بڑے ہسپتالوں کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے ہیں مگر تحریک انصاف کے رہنما عوام میں ان ہسپتالوں کے متعلق کنفیوژن پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا حکومتی معاملات علیم عادل شیخ اور خرم شیر زمان طے کریں گے؟انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی باتوں کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے مگر عوام کے ریلیف کے لئے ایک پیسے کا کام نہیں ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ حکومت کسی معاملے پر فیصلہ کر رہی ہے تو عدالتیں حکم امتناعی جاری کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے معاملات التوا کا شکار ہوجاتے ہیں اور عوامی بہبود میں رکاوٹ پیش آتی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر