دنوں کا سردار دن جمعتہ المبارک!

دنوں کا سردار دن جمعتہ المبارک!

  



فرحان الٰہی خان

٭…… جمعہ کا دن سب دنوں کا سردار ہے اور اس کا مرتبہ و مقام عیدالفطر اور عیدالاضحی سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے اور یہ ہفتہ واری عید کا دن ہے۔

(احمد، ابن ماجہ)

٭…… جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے جس میں ہر جائز دُعا قبول ہوتی ہے۔

(بخاری و مسلم)

٭…… یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر نماز جمعہ کے مکمل ہونے تک ہے۔

(مسلم، ابو داؤد)

٭…… یا یہ گھڑی نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک اور بالخصوص اس کی آخری گھڑی ہے۔

(احمد، ابو داؤد، نسائی، حاکم)

٭…… محققین علماء نے عصر کے بعد کی روایت کو زیادہ قوی قرار دیا ہے۔

(مرعاۃ المفاتج، 424-424/4)

٭…… جمعہ کا دن گناہوں کی مغفرت اور بخشش کا دن ہے۔ (بخاری)

٭…… نماز جمعہ ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہونے والے صغیرہ گناہوں کی مغفرت و بخشش کا ذریعہ ہے۔ (مسلم، ترمذی)

٭…… اچھی طرح باوضو ہو کر نماز جمعہ میں حاضری دینا اور بغور خطبہ سننا اور خاموش رہنا مزید تین دنوں کا کفارہ ہے۔(مسلم،ابو داؤد)

٭…… بلا عذر شرعی نماز جمعہ ترک کرنے والوں کو ان کے گھروں سمیت جلا دینے کے سلسلے میں رسول اللہﷺ سے سخت وعید وارد ہے۔

(مسلم)

٭…… مسلسل تین جمعہ ترک کرنے والوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نفاق کی مہر لگا دے گا اور وہ لذت ایمان سے محروم ہو کر غفلت پسندوں میں شمار کیا جائے گا۔ (مسلم، نسائی،ابو داؤد، ترمذی)

٭…… جمعہ کے دن نماز کے لئے آنے سے پہلے غسل کرنا چاہئے۔ (بخاری،مسلم)

٭…… جمعہ کے دن بہترین،صاف ستھرے، بالخصوص سفید لباس پہن کر نماز کے لئے جانا چاہئے۔(ابو داؤد، احمد، ترمذی، بیہقی،حاکم)

٭…… اگر مسلمان کے پاس استطاعت ہو تو عام کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ جمعہ کے لئے مخصوص لباس بنوا لینا چاہئے۔(ابو داؤد،ابن حبان)

٭…… جمعہ کے دن مسواک اور خوشبو وغیرہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔(مسلم۔ بن ماجہ)

٭…… نماز جمعہ کے لئے سویرے اور جلدی نکلنا باعث ثواب ہے اور تاخیر سے جمعہ کے لئے ثواب سے محرومی کا باعث ہے، کیونکہ فرشتے جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر آنے والوں کو لکھتے رہتے ہیں اور جب امام منبر پر آ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر سمیٹ لیتے ہیں۔ (بخاری،مسلم)

٭…… نماز جمعہ کے لئے انتہائی سکون و وقار کے ساتھ دیگر نمازوں کی طرح جانا چاہئے۔ اگر پیدل چل کر جائے تو زیادہ بہتر ہے۔(بخاری، مسلم)

٭…… جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہونے کے بعد دورکعت تحیتہ المسجد مختصر ادا کئے بغیر نہیں بیٹھنا چاہئے، چاہے امام خطبہ ہی کیوں نہ دے رہا ہو۔(بخاری و مسلم)

٭…… دوران خطبہ لغو و عبث کام کرنا اور باتیں کرنا جمعہ کے ضائع ہو جانے کا سبب ہے اور بغور خطبہ اور خاموش رہنا مغفرت کا باعث و ذریعہ ہے۔(مسلم، ابو داؤد)

٭…… دوران خطبہ دو آدمیوں کے درمیان زبردستی گھسنا اور تفریق پیدا کرنا، کسی کو اپنی جگہ سے سرک جانے پر مجبور کرنا یا کسی کو اس کی جگہ سے اُٹھا کر خود بیٹھنا درست و جائز نہیں ہے۔(بخاری و مسلم)

٭…… دوران خطبہ احتباء کی شکل (ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر پکڑ کر اس کے سہارا بیٹھنا) منع ہے۔ (ترمذی)

٭…… پیاز، لہسن یا اس طرح کی دیگر بدبودار، تکلیف دہ چیزیں (جیسے سگریٹ، بیڑی، تمباکو وغیرہ)استعمال کر کے مسجد میں آنا منع ہے۔

(مسلم، ترمذی، نسائی)

٭…… اذان جمعہ کے بعد لین دین اور خریدو فروخت کرنا حرام ہے۔ (سورۃ جمعہ9:)

٭…… صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا بعد میں روزہ رکھے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (بخاری، مسلم)

٭…… نماز جمعہ کے بعد دو رکعت یا چار رکعت سنت ادا کرنا چاہئے۔ (بخاری، ترمذی)

٭…… نماز جمعہ سے پہلے کوئی بھی سنت نہیں ہے، البتہ خطبہ سے پہلے نفل ادا کر سکتا ہے۔

(مرعاۃ المفاتیح)

٭…… جمعہ کے دن نبی اکرمﷺ پر بکثرت درود بھیجنا مستحب ہے۔ (ابو داؤد،حاکم، ابن حبان)

٭……نماز جمعہ کی پہلی رکعت میں سورۃ الجمعہ یا سورۃ الاعلیٰ اور اسی طرح دوسری رکعت میں سورۃ المنافقون یا سورۃ الغاشیتہ کی تلاوت کرنا سنت سے ثابت ہے۔(مسلم، ابو داؤد،نسائی)

٭…… خبطہ ئ جمعہ مختصر اور جامع ہونا چاہئے اورنماز جمعہ لمبی ہونی چاہئے۔ (مسلم)

٭…… اگر امام کے ساتھ نماز جمعہ کی صرف ایک رکعت ہی ملی تو دوسری رکعت امام کے سلام پھیرنے کے بعد مکمل کرنا چاہئے۔(نسائی،ابن ماجہ)

٭……نماز جمعہ اگر چھوٹ جائے تو ظہر کی نماز پڑھ لینی چاہئے۔ (دار قطنی)

مندرجہ بالا احادیث و آثار عام مہینوں کے جمعتہ المبارک کے بارے میں ہیں۔ رمضان المبارک کی فضیلتوں اور برکات کے باعث تو اس روز کی اہمیت و افادیت اور برکات و تبرکات کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہیں، جبکہ جمعتہ الوداع کی اپنی ایک شان ہے،کیا معلوم آئندہ کس کو رمضان اور جمعتہ الوداع یا رمضان المبارک کے ایام نصیب ہوں کہ نہ ہوں! اِس لئے آج ہی رب کے حضور جی بھر کر گڑگڑا لیں اور اپنی جھولیوں کو اللہ کی رحمت و برکات سے بھر لیں۔

مزید : ایڈیشن 1