خرم شیر زمان کی قیادت میں وفد کی چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات

        خرم شیر زمان کی قیادت میں وفد کی چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)،صدر پی ٹی آئی کراچی خرم شیر زمان کی قیادت میں اراکین سندھ اسمبلی کے وفد کی چیف سیکریٹری ممتاز علی شاہ سے ملاقات۔سندھ کے مختلف مسائل پر بات چیت۔ ملاقات میں میں لوکل گورنمنٹ، سندھ پولیس، ہیلتھ ڈپارٹمنٹ، ایس بی سی اے، کے ڈی اے، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے، واٹر بورڈ کی پانی کی تقسیم کے مسائل زیر غور آئے۔پی ٹی آئی وفد کی امن و امان، سگ گزیدگی، ایکسائز ڈپارٹمنٹ، 39 ڈپارٹمنٹس کے سیکریٹریز جو پانچ سالہ دور میں تبدیل ہوئے انکی کارکردگی پر بات بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔وفد میں پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری ورکن سندھ اسمبلی سعید آفریدی، راجہ اظہر، شہزاد قریشی، عباس جعفری،ملک شہزاد اعوان، کریم بخش گبول پی ٹی آئی رہنما عمران صدیقی اور دیگر موجود تھے۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ جب عوامی نمائندے اس نوعیت پر پہنچ جائیں کہ اسمبلی سے باہر آکر چیف سیکریٹری آفس آجائیں اسکا مطلب معاملات خراب ہیں۔ہم دیکھنے آئے تھے چیف سیکریٹری کرکیا رہے ہیں۔وزیراعلی سندھ صوبے کا نظام چلانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ ہم نے چیف سیکریٹری سے ملاقات میں پوچھا کہ آپ وزیراعظم کو جواب دینے کے پابند ہیں کہ نہیں۔سٹیزن پورٹل پر شکایتیں موصول ہوتی ہیں، ہمیں بتایا گیا 51000شکایات پینڈنگ ہیں جس میں کتے کاٹنے اور دیگر اہم شکایات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے ہسپتالوں کے علاوہ پورے سندھ میں کہیں دوائیں نہیں ہیں۔ لاڑکانہ میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہیں۔سندھ کے تمام وزراء نالائق ہیں۔ شہر میں غیرقانونی عمارتیں ہزاروں کی تعداد میں ہیں، شہر کے بلدیاتی مسائل کے ذمہ دار ناصرشاہ، شرجیل میمن اورجام خان شورو ہیں انکو جیل میں ڈالا جائے۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ کے فورسمیت بلدیاتی اداروں کے مسائل ہیں۔ 965ارب روپے کے آڈٹ پر ہمیں تحفظات ہیں،حکومت سندھ کیا کررہی ہے۔ یہ سرکاری پیسہ برباد ہوا چیف سیکریٹری جواب دیں۔ سندھ میں صحت تعلیم سمیت کئی محکموں کی حالت خراب ہے۔ خزانہ وزیراعلی نے اپنے پاس رکھا ہواہے۔وزیراعظم سے گذارش کررہے ہیں کہ چیف سیکریٹری کام نہیں کررہے ہیں۔پیپلزپارٹی والے کان کھول کرسن لیں ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔آپ کوسمجھ تو آگیا ہوگا آئی جی کے معاملے پر آپ کا کیاحشر ہوا ہے۔قبلہ درست نہ کیا گیا توسخت ایکشن ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میئرکا اراکین قومی اسمبلی کو فنڈز دینے پر اعترازبلاجواز ہے۔ان کو اجلاس میں آکربات کرنی چاہئے۔اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری و رکن سندھ اسمبلی سعید آفریدی کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنرز کا رویہ اراکین اسمبلی کے ساتھ انتہائی نامناسب ہے۔زمینوں پر قبضوں اورناجائزمنافعہ خوری روک نہیں سکتے۔ لوگوں کوپکڑتے ہیں کہتے ہیں عمران خان کا حکم ہے۔قبرستان تک قبضہ کرلئے گئے ہیں۔ سندھ میں پورا سسٹم بگڑا ہوا ہے۔ حکومت سندھ نے ہر محکمے میں اپنی من مانیاں کر کے انہیں تباہ کردیا ہے۔ پی ٹی آئی سندھ کے شہریوں کے مسائل پر کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر