پاکستان میں طبی آلات کو جراچیم سے پا ک کرنے کا کوئی نظا م نہیں: ماہرین

        پاکستان میں طبی آلات کو جراچیم سے پا ک کرنے کا کوئی نظا م نہیں: ماہرین

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)بین الاقوامی اور ملکی ماہرین ِ صحت نے کہا ہے کہ پاکستان کے چھوٹے اسپتالوں میں طبی آلات کو جراثیم سے پاک کرنے کا کوئی نظام موجود ہے نہ ہی انہیں آلات کو انفیکشن کے اثرات سے پاک کرنے کا معیاری طریقہ معلوم ہے،آلات کو جراثیم سے پاک کرنے کے ساتھ ماحول کو صاف رکھنا نہایت اہم ہے تاکہ ان جراثیم کو پنپنے کا موقع نہ مل سکے، یہ باتیں ان ماہرین نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اوجھا کیمپس میں "کلیننگ اینڈ اسٹرلائزیشن پراسیس اِ ن ہیلتھ کیئر فیسیلیٹیز کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہیں، ان مقررین میں ڈاؤ یونیورسٹی کی پروو ائس چانسلر پروفیسر زرناز واحد، انڈیاس شائندر، مسز پیٹرالبونٹ ہیڈ آف کلینکل اکیڈیمی،شوکت علی اور محمد رضوان شامل تھے۔سیمینار میں شہر بھر کے سرکاری اور نجی اسپتالوں کے متعلقہ 300سے زائد اسٹاف کو مدعو کیا گیا تھا۔ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان چونکہ ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے اور صحت عامہ کی سہولیات بھی عام لوگوں تک اچھے انداز سے نہیں پہنچائی جاتی، اس کی وجہ لوگوں میں شعور کی کمی اور ان سے ہونے والے نقصانات میں آگاہی کا نہ ہونا شامل ہیں، ماہرین کا کہنا تھا کہ بڑے اسپتالوں کے علاوہ اسپتالوں میں آلات کو جراثیم سے پاک کرنے کا صحیح طریقہ استعمال ہی نہیں جاتا،پاکستان میں کوئی اسپتال انفیکشن ریٹ بھی جاری نہیں کرتاجس بنا پر پتہ لگایا جاسکے کہ کون سے مراحل پر ان سے جراثیم کو ختم کرنے میں کوتاہی ہورہی ہے، طبی آلات کیونکہ ری پروسس کیے جاتے ہیں، اسلیے ایسے تیکنیکی عملے کو ان کے درست طریقے سے متعارف ہونا لازمی ہے، ماہرین نے مزید کہا کہ طبی آلات کی ری پروسسنگ کا یک S.O.P(ایس اوپی) ہونا چاہیے، جوکہ وزراتِ صحت سے منظور شدہ ہواور اِسے چیک کرنے کا باقاعدہ ہراسپتال میں دورہ کرے اور اس اسپتال کوکام کی اجازت دے یا اس کے کام کو جب تک روکے جب کہ وہ مطلوبہ سہولیات فراہم نہیں کرتا، تاکہ وہ معیار جو منسٹری آف ہیلتھ نے بنایا ہے اس پر عمل کیا جائے اور جراثیم اور بیماریوں کی روک تھام میں مدد ملے،ماہرین نے کہا کہ ہیلتھ کئیر میں اسٹرلائزیشن سروسز کا سرجری میں انتہائی اہم کردار ہے، اسپتال میں دوبارہ استعمال ہونے والے طبی آلات اسی ڈیپارٹمنٹ میں ری پروسس ہوتے ہیں، جسے سی ایس ایس ڈی (C.S.S.D) کہا جاتاہے، کسی بھی اسپتال میں ہونے والی تمام سرجری کا دارو مدار ان آلات پر ہی ہوتاہے، اسی لیے ہم نے آج ان ماہرین کے لیے یہ سیمینار منعقد کیا ہے، تاکہ تمام متعلقہ اسٹاف اپنے کام میں مہارت حاصل کرلے، اسی لیے اس ڈیپارٹمنٹ کی ٹریننگ بہت اہم ہے، دنیا بھر میں اس ڈیپارٹمنٹ کے تمام افراد انتہائی مہارت رکھتے ہیں، جو عام طورپر ڈپلومہ ہولڈر ہوتے ہیں، بدقسمتی سے پاکستان میں ہیلتھ کئیر اسٹرلائزیشن پر نہ ڈپلومہ ہوتا ہے نہ ٹریننگ پروگرام،لیکن سندھ اور پنجاب کے نجی اسپتالوں میں ٹریننگ کورس کا آغاز ہوچکا ہے،جو ناکافی ہے، اس فیلڈ میں شارٹ کورسز کا آغاز کیا جانا چاہیے، جبکہ امریکن کالج آف سرجن نے 1940میں ہی اس بات کا فیصلہ اور ڈیپارٹمنٹ کا قیام کیا گیاتھا،ماہرین نے کہا کہ اس ڈیپارٹمنٹ میں او ٹی اور نرسنگ اسٹاف نے بہت خدمات سرانجام سی ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ڈیپارٹمنٹ کی اہمیت کے باوجود کوئی خاص اہمیت اِ سے نہیں دی گئی، نہ ہی اس میں پیش رفت ہوئی، اسی وجہ سے پاکستان میں اس ڈیپارٹمنٹ کے افراد کو معاوضہ بھی کم دیا جاتاہے، جس کی وجہ سے اس ڈیپارٹمنٹ کا مستقبل تابناک نہیں، ماہرین نے مزید کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں بھی یہ ڈیپارٹمنٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو، گورنمنٹ کی سطح پر کوئی تعلیم، ڈپلومہ یا ٹریننگ پروگرام متعارف کرایا جائے تاکہ ہم بین الاقوامی معیار پر اپنے ورکرز کی معیار کو پہنچاسکیں، اگر ہم نے اس ڈیپارٹمنٹ کی طرف توجہ نہ دی تو ہم "انفیکشن فری پاکستان"کوکبھی نہیں بناسکیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر