کے الیکٹرک نے آگاہی چمپئن شپ 2020‘ کاآغاز کر دیا

  کے الیکٹرک نے آگاہی چمپئن شپ 2020‘ کاآغاز کر دیا

  



کراچی(پ ر) کے الیکٹرک نے اسکولوں میں ’تحفظ کے بارے میں آگاہی مہم،2020 کا آغازایک مقامی ہوٹل میں افتتاحی تقریب کے دوران کیا جس میں تعلیمی اداروں کے سربراہان، سینئر سرکاری عہدیداروں، میڈیا کے نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اس سیفٹی مہم کے تحت کراچی میں 100,000 سے زائداسکولوں کے طلباء کو عمومی تحفظ، بجلی سے حفاظت، بجلی چوری کے خطرات اوربجلی کی بچت کے فوائد کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے گی جس کا مقصد 8 سے 16سال کی عمر کے طلباء کو انٹرنل کوئز کے مقابلوں، تحفظ کے بارے میں آگاہی کی سرگرمیوں اور مشقوں سمیت متعدد سرگرمیوں کے ذریعے تربیت فراہم کرنا ہے۔ پاور یوٹیلیٹی نے اِس سرگرمی کا آغاز اس امید کے ساتھ کیا ہے کہ ہمارے قومی نصاب میں سیفٹی کورسز اور تربیتی سیشنز کی عدم موجودگی کے خلاء کو پرُ کیا جا سکے۔افتتاحی تقریب کے موقع پر کے الیکٹرک کے ترجمان نے کہا،”ہم سمجھتے ہیں کہ حفاظت ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔محفوظ اور مستحکم شہروں کی تشکیل اقوام متحدہ کی پائیدار ترقی کا ایک اہم مقصد ہے۔ ہم ذاتی اور عوام کی حفاظت کی بارے میں شعوراجاگر کرنے اور اونرشپ کو فروغ دینے میں رہنمائی کرتے ہوئے، معاشرے میں تبدیلی لانے کیلئے کوشاں ہیں اور مستقبل کے معمار کے طور پر ان طلباء کو اس معاشرتی تبدیلی کی قیادت کرنی ہے۔ ہم اس مہم کو زیادہ سے زیادہ پرُاثر بنانے کیلئے تمام اسکولوں کی انتظامیہ، حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شراکتیں قائم کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔“ہم اس مہم میں حصہ لینے والے تمام اسکولوں کی انتظامیہ کے ساتھ شراکت داری کیلئے پرعزم ہیں اور اس اقدام میں حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی معاونت درکار ہے تاکہ اس مہم کو زیادہ سے زیادہ پرُاثر بنایا جاسکے۔ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی، ارشاد علی سودھرنے بطور مہمان خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”محفوظ اور مستحکم کمیونٹی کو یقینی بنانے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا کردار نہایت اہم ہے جو پائیدار ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ ہم اس بات کی اہمیت کو سمجھنے اورسیفٹی ڈرائیو2020 شروع کرنے پر کے الیکٹرک کے کردار کو سراہتے ہیں۔ اسکولوں کے طلباء کو تبدیلی کے رہنماؤں کی حیثیت سے شامل کرکے ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ضروری صلاحیتوں اور شعور سے آراستہ ہوں تاکہ وہ تحفظ اور بچاؤکے سفیر بن کر اس پیغام کو وسیع پیمانے پر اپنے اہل خانہ اور دوستوں تک پہنچا سکیں۔“

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر