امریکی سینیٹرز کا کشمیریوں کی نظر بندی اور مواصلاتی پابندیوں پر اظہار تشویش

امریکی سینیٹرز کا کشمیریوں کی نظر بندی اور مواصلاتی پابندیوں پر اظہار تشویش

  



واشنگٹن(این این آئی)مریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے رواں ماہ کے آخر میں دورہ بھارت سے قبل امریکی سینٹ کے چار اہم ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی اور سیاسی رہنماؤں کی نظر بندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹروں نے بھارتیہ جنتاپارٹی کی حکومت کی طرف سے پاس کیے جانے والے شہریت ترمیمی بل پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ بھارتی حکومت نے کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے انٹرنیٹ معطل کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں خاص طور پر مریضوں، تاجروں اور طلباء کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔ بھارتی حکومت نے شہریت ترمیمی بل سمیت کچھ ایسے پریشان کن اقدامات بھی کیے ہیں جن کی وجہ سے بھارت کی سیکولر شاخت اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق خطرے میں پڑ چکے ہیں۔ خط میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے بعد سے بھارتی حکومت کی طرف سے سیاسی بنیادوں پر حراست میں کشمیریوں کی تعداد کا 30 روز میں جائزہ لے۔سینیٹروں نے کشمیر میں مواصلات پر پابندیوں، آزاد مبصرین، سفارت کاروں اور غیر ملکی صحافیوں کو علاقے میں دی جانے والی رسائی کی حیثیت کا جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

امریکی سینیٹرز

مزید : صفحہ اول