وزیراعظم کا مہنگائی، اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کا نوٹس، صوبائی حکومتون کو سخت اقدامات کی ہدایت

وزیراعظم کا مہنگائی، اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کا نوٹس، صوبائی حکومتون کو ...

  



اسلام آ باد (سٹاف رپورٹر،آ ئی این پی) وزیراعظم پاکستان عمران خان کی زیر صدارت تمام صوبائی حکومتوں کا اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں تمام صوبوں میں خود ساختہ مہنگائی، ذخیرہ اندوزوں اور اشیائے خوردو نوش میں ملاوٹ کے خلاف کئے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، چیف سیکرٹری سندھ، چیف سیکرٹری بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ ایک قومی مسئلہ ہے جس سے نہ صرف مختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں بلکہ بچوں کی نشوونما پر بھی مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اُنہوں نے چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر اشیائے خوردو نوش میں ملاوٹ کی روک تھام کیلئے تفصیلی حکمت عملی مرتب کریں جس کے بعد مسئلے سے نمٹنے کیلئے ملکی سطح پر حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ دودھ، گوشت، دالوں جیسی روزمرہ کی اشیا میں ملاوٹ کسی صورت قابل قبول نہیں، ملاوٹ کرنے والے عناصر عوام اور خصوصاً ہمارے بچوں،جوکہ ہمارا مستقبل ہیں، کی صحت سے کھیلتے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی،وزیرِ اعظم نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کوہدایت کی کہ آٹے کی قیمت پر قابو پانے کے حوالے سے فوری اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کے خلاف انتظامی اقدامات کو موثر بنایا جائے، ملک میں اشیائے ضروریہ مثلاً گندم، چینی و دیگر فصلوں کی طلب و رسد کے تخمینوں اور طلب و رسد کو یقینی بنانے کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی غرض سے قائم کیے جانے والے خصوصی سیل کے قیام کا عمل تیز کیا جائے،بلوچستان میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی فعالی میں وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ معاونت فراہم کی جائے۔ وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے جائزے،پرائس کنٹرول، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کی روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہو اجس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور متعلقہ محکموں اور وزارتوں کے سینئر افسران موجود جبکہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ، صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ، صوبہ بلوچستان، صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری صاحبان اور دیگر صوبائی سینئر حکام ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔ صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان نے وزیرِ اعظم کو اپنے متعلقہ صوبوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب، صوبہ خیبر پختونخواہ اور وفاقی دارالحکومت میں مجموعی طور پر آٹے، چینی، چاول و مختلف دیگر اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے اور بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ صوبہ سندھ میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق پاسکو کی جانب سے صوبہ سندھ کو چار لاکھ ٹن گندم کی فراہمی تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔ جبکہ ایک لاکھ ٹن مزید گندم کی فراہمی کی درخواست پر اقتصادی رابطہ کمیٹی اپنے اجلاس میں غور کرے گی۔ وزیرِ اعظم نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کوہدایت کی کہ آٹے کی قیمت پر قابو پانے کے حوالے سے فوری اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کے خلاف انتظامی اقدامات کو موثر بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں اشیائے ضروریہ مثلاً گندم، چینی و دیگر فصلوں کی طلب و رسد کے تخمینوں اور طلب و رسد کو یقینی بنانے کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی غرض سے قائم کیے جانے والے خصوصی سیل کے قیام کا عمل تیز کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وزارتِ نیشنل فوڈ سیکورٹی کی افرادی قوت کے حوالے سے ضروریات کو پورا کیا جائے۔ اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کو بڑے شہروں میں اسلام آباد کی طرز پر اشیاء ضروریہ کی آن لائن ڈیلیوری، قیمتوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی موبائل ایپلیکیشن کے اجراء اور کسانوں کی سہولت کے لئے فارم مارکیٹس کے قیام میں پیش رفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے تمام صوبائی سیکرٹری صاحبان سے بنیادی اشیائے ضروریہ مثلاً دودھ، گھی، تیل، پینے کے پانی، گوشت، مصالحوں، دالوں اور دیگر اشیاء میں ملاوٹ کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ وزیرِ اعظم نے اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ دودھ، گوشت، دالوں جیسی روزمرہ کی اشیا میں ملاوٹ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملاوٹ کی وجہ سے متعدد بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور اس سے ہمارے بچوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملاوٹ کرنے والے عناصر عوام اور خصوصاً ہمارے بچوں،جوکہ ہمارا مستقبل ہیں، کی صحت سے کھیلتے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملاوٹ شدہ اشیا کے استعمال سے بچوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملاوٹ کے خلاف قومی سطح پر ایمرجنسی کانفاذ کرکے اس کا تدارک کیا جائے۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک بھر میں خوردو نوش کی اشیا میں ملاوٹ کے خاتمے کے لئے ایک نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا جائے۔ انہوں نے چیف سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کی کہ آئندہ ایک ہفتے میں ملاوٹ کے خلاف موثر حکمت عملی اور ٹائم لائنز پر مبنی روڈ میپ ترتیب دیا جائے جسکا آئندہ ہفتے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخواہ میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے خلاف انتظامی اقدامات کو سراہا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان میں اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ چیک کرنے کے لئے لیبارٹری غیر فعال ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بلوچستان میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی فعالی میں وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ معاونت فراہم کی جائے۔ وزیراعظم عمران خان سے ایم کیو ایم کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے ملاقات کی جس میں ایم کیو ایم کے تحفظات اور مطالبات پر بات چیت کی گئی۔وزیراعظم کی زیرصدارت سندھ کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس ہوا جس میں ایم کیو ایم کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی سمیت وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور سندھ کے لیے فنڈز کی فراہمی سے متعلق معاملات پر مشاورت کی گئی۔اجلاس میں ایم کیو ایم کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے تحفظات اور مطالبات پر بھی بات چیت کی گئی جب کہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم کی جانب سے بتائے گئے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی کاوشوں سے پاکستان سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بن گیا ہے، پاکستان لامحدود مواقع کی سرزمین ہے اور یہاں مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ترک صدر کا دورہ موجودہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔ جمعرات کو وزیراعظم عمران خان سے جنرل منیجرکوکا کولا آئیسک پاکستان احمد کرسادنے کی ملاقات کی، ملاقات میں پاکستان میں ترکی کے سفیر بھی شریک تھے۔ جنرل منیجرکوکا کولا آئیسک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا موجودہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے باعث متعددترک کمپنیاں پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں جنرل منیجر کوکاکولا احمد کرساد نے بتایا سی سی آئی کے پاکستان میں 6پلانٹس اور 3ہزارسیزیادہ ملازمین ہیں جبکہ کمپنی پاکستان میں 20کروڑ80لاکھ صارفین کوخدمات فراہم کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی سی آئی نے کوکا کولا کمپنی کے ساتھ مل کر پاکستان میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ سی سی آئی نے کوکا کولا کمپنی کیساتھ پاکستان میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول