سندھ حکومت نے صوبے کو کم بجلی دینے پر وفاق سے احتجاج کا فیصلہ کر لیا 

سندھ حکومت نے صوبے کو کم بجلی دینے پر وفاق سے احتجاج کا فیصلہ کر لیا 

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ سرکار نے صوبے کو کم بجلی دینے پر وفاق سے احتجاج کا فیصلہ کرلیاہے۔اس ضمن میں وزیرزراعت سندھ اسماعیل راہو نے  اپنے بیان میں کہا  ہے کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے ساتھ ایک اور ناقابل معافی ظلم کرتے ہوئے سب سے زیادہ رونیو دینے والے صوبے کو اندھیروں میں ڈبو دیا ہے۔ وفاق نے 14 ماہ میں سندھ کے فقط 756 گوٹھوں کو بجلی فراہم کی،جو صوبے کے ساتھ ناانصا فی ہے۔ اسماعیل راہو نے کہا کہ پنجاب اور کے پی کو سندھ سے کئی گنا زیادہ بجلی فراہم کی گئی۔وفا قی اجلاسوں میں احتجاج کریں گے14 ماہ میں پنجاب کے 3613 گوٹھوں کو بجلی فراہم کی گئی اور خیبرپختونخوا کے 4 ہزار 176 گوٹھوں کو بجلی فراہم کی گئی جبکہ سندھ کو بہت ہی کم بجلی فراہم کی گئی۔ وفاق سندھ کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ،ترقیاتی کاموں، بجلی، گیس اور نوکریوں سمیت اہم معاملات میں زیادتی کررہا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت بتائے کہ سندھ کوکس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو پھر سندھ بھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہم حقوق کیلئے لڑنا جانتے ہیں۔ پی ٹی آئی کا طرز حکمرانی ملکی سالمیت کے لئے خطرناک ہے۔اس طرح وفاقی اکائیوں میں نفاق بڑھ رہا ہے اور ملک کمزور ہوگا۔عمران خان پاکستان کے لئے گورباچوف بن کر آئے ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کی خاموشی قابل مذمت ہے۔پی ٹی آئی کے ساتھ جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کو بھی خاموشی کا حساب دینا پڑے گا۔اسماعیل راہو نے دعویٰ کیا کہ شوکت خانم کے لیے ایک ارب چندا لے کر 55 ارب کا ٹیکس سگریٹ کمپنیوں کو معاف کیا جاتا ہے۔ باقی عوام کے لئے کوئی ریلیف نہیں۔بنی گالا والے سگریٹ کمپنیوں سے ایک ارب چندا لینے کا جواب دیں۔ بنی گالا کی تلاشی لی جائے مہنگائی کے ذمہ داروں کے ثبوت وہیں سے مل جائیں گے۔

مزید : صفحہ اول