ایس ایس پی مفخر عدیل کہاں گئے، پولیس بند گلی میں پھنس گئی، گاڑی گھر کے قریب سے برآمد 

ایس ایس پی مفخر عدیل کہاں گئے، پولیس بند گلی میں پھنس گئی، گاڑی گھر کے قریب ...

  



لاہور(خبرنگار) ایس ایس پی مخفر عدیل کے مبینہ اغواء یا گمشدگی پر پراسراریت کی دبیز تہہ چھا گئی۔ آٹھ رکنی اعلیٰ سطحی مشترکہ تفتیشی ٹیم بھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی کہ آیا یہ اغواء کا واقعہ ہے، خود ساختہ گمشدگی کی کہانی یا کسی بڑے سانحہ کا پیش خیمہ ہے، تاہم ایس ایس پی کی سرکاری پولیس جیپ گھر کے قریب سے ہی ایک شوروم کے باہر کھڑی مل گئی ہے۔گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی کے حکم پر تشکیل دی گئی 8 رکنی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم نے ایس ایس پی مفخر عدیل کے گھر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر مشترکہ تفتیشی ٹیم کے ایک رکن اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ ایس ایس پی مفخر عدیل اور شہباز تتلہ دونوں غائب ہیں اور دونوں کے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے یا اغواء کامعاملہ آپس میں جڑا ہوا ہے جبکہ ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ نے کہا ہے کہ شواہد کے مطابق ایس ایس پی مفخر عدیل کو کس نے اغواء نہیں کیا بلکہ وہ خود کہیں روپوش ہیں، تاہم اس کے باوجود نئے سرے سے فرانزنک لیب کے ذریعے شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں، جبکہ حساس اداروں کی خدمت بھی حاصل کر لی گئی ہیں جس کے بعد حساس اداروں کی ایک ٹیم نے بھی گزشتہ روز جائے وقوعہ کا معائنہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس کی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش تاحال ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکی ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہباز تتلہ کے اغوا اور ایس ایس پی مفخر عدیل کی پراسرار گمشدگی کے بارے فی الحال کوئی بھی بات کہنا قبل از وقت ہے۔ اس سلسلہ میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد لی جا رہی ہے اور اگلے 24 گھنٹوں میں اصل صورتحال سامنے آ جائے گی۔ دوسری جانب ایس ایس پی مفخر عدیل کے اغواء یا پراسرار لاپتہ ہونے پر اہل خانہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس حوالے سے تفتیشی ٹیم کے ایک رکن اعلیٰ افسرنے کہا ہے کہ فی الحال اصل محرکات سامنے نہیں آ سکے ہیں اور بازیابی کے لئے شہباز تتلہ اور ایس ایس پی کے موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے جبکہ دونوں کے دوستوں اور عزیزوں سے بھی پوچھ گجھ کی جا رہی ہے جس میں اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں اصل صورتحال سامنے آ جائے گی۔

مفخر عدیل

مزید : صفحہ اول