شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

  



پاکستان ہمیں بے شمار قربانیوں او رعظیم جدو جہد کے بعد حاصل ہوا۔ قیام پاکستان کی جدوجہد اوراستحکام و بقاء پاکستان کے پس منظر میں ہمارے اسلاف اور ہزاروں شہدا کی دی گئی قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ آج پاکستان کو خطہ میں اس کی جغرافیائی اور دفاعی حیثیت کی وجہ سے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔پاکستان کے اندرونی و بیرونی دشمن پاکستان کی روز بروز بڑھتی اہمیت اور سی پیک منصوبوں کے تناظر میں مستقبل میں اس کے معاشی قوت بن کر ابھرنے کے امکانات کی وجہ سے بھی خوف کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنوں نے پاکستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے سفر کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے ہمارے پر ُامن شہروں میں دہشت گردی کی بزدلانہ کاروائیاں شروع کر دیں جس کا شکار نا صرف پاک فوج کے غیور جوان بنے بلکہ سکیورٹی اداروں اور پولیس فورس کے علاوہ شہریوں کی ایک بڑی تعدادنے بھی اپنے وطن کے دفاع کے لئے شہیدہو کر قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔محتاط اعدادوشمار کے مطابق ابتک 70ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کی جنگ میں اپنی جان ملک کے لئے قربان کر چکے ہیں۔مستند اعداد و شمار کے مطابق صوبہ خیبر پختواہ میں اب تک پولیس کے1655سے زائد افسرا ن اور جوان اپنی جانوں کے نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پنجاب پولیس نے 1495سے زائد قربانیاں دی ہیں جبکہ لاہور پولیس کے شہید ہونے والے افسران اور جوانوں کی تعداد 314 کے قریب ہے۔لاہور پولیس کے افسران اور جوانوں نے ملک و قوم اور عوام کی جان و مال کی حفاظت میں تاریخ ساز قربانیاں پیش کیں۔ڈی آئی جی ر احمد مبین، ایس ایس پی زاہد محمود گوندل اور لاہور پولیس کے سینکڑوں جوان شہید ہوئے۔ پولیس کے01ڈی آئی جی،01 ایس ایس پی،01 ایس پی،04ڈی ایس پی رینک کے اعلیٰ افسران جبکہ06انسپکٹرز،34سب انسپکٹرز،28اسسٹنٹ سب انسپکٹرز،30ہیڈکانسٹیبل،208کانسٹیبل اور 01ٹریفک وارڈن نے فرض کی راہ میں جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔

ملکی سرحدوں پر پاک فوج، سکیورٹی فورسز ودیگر ادارے نے دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔جبکہ اندرون ملک پولیس فورس کا امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کو شکست دینے میں شاندار کردار رہا ہے۔دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کی پولیس نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس افسران اور جوان ہمارے ماتھے کا جُھومر ہیں۔ شہید کبھی نہیں مرتا اور تا حیات یاد رکھا جاتا ہے۔

پولیس فورس کے افسر اور جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ شہداء پولیس نے اپنے خون سے بہادری اور جرأت کی بے مثال تاریخ رقم کی ہے۔ تمام افسران اور جوانوں کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ پولیسنگ صرف جرائم کی بیخ کنی کے حوالے سے ایک حساس پیشہ ہی نہیں بلکہ ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے ایک مقدس مشن بھی ہے جسے پولیس کے ہر افسر اور جوان نے اپنی آخری سانسوں تک ایمانداری اور بہادری کے ساتھ جاری رکھنا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم بحیثیت باشعورقوم شہداء پولیس کے خاندانوں کے ہرفرد کو یاد رکھیں اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔

آج ہی کے دن 13فروری 2017؁ء کوپنجاب اسمبلی لاہور کے باہر فارماسیوٹیکل مینو فیکچررز کے احتجاجی دھرنے کے دوران 13افراد خود کش حملہ کا ہدف بنے۔اس وقت400 سے زائدافراد دھرنے میں موجود تھے۔ شہید ہونے والوں میں لاہور پولیس کے02سینئر ترین افسران سمیت 06جوان شامل تھے جبکہ دہشت گردی کی اس مذموم اور بزدلانہ کاروائی میں پولیس کے جوانوں سمیت 85شہری زخمی بھی ہوئے تھے۔ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن (ر) احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز لاہور زاہد نواز گوندل جیسے سینئر ترین پولیس افسران شہید ہونے والوں میں شامل تھے۔یہ پولیس افسران اور جوان اس وقت امن کے قیام اور ملکی سلامتی کے لئے فرض کی ادائیگی میں مصروف تھے۔ پولیس کے یہ شہیدافسران اور جوان قوم کے ہیرو ہیں۔ شہادت کا عظیم رتبہ محکمہ پولیس کی عزت اور وقار کو مقدم رکھے اورذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر معاشرے کی مجموعی فلاح و بہبودکو اولیت دیئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتاکیونکہ فرائض کی ذمہ داری سے ادائیگی اور اصولوں کا دفاع ہمیشہ قربانیاں طلب کر تا ہے۔

شہید کی موت و ہ قوم کی حیات ہے۔پولیس کے ہزاروں افسراور جوان دہشت گردی کے حملوں میں اپنے جسمانی اعضاء سے محروم ہو کر ہمیشہ کے لئے معذور ہو چکے ہیں تاہم آج بھی ان کے دل جذبہ شہادت سے سرشار ہیں۔ شہدا ء کی قربانیوں سے پولیس فورس کا مورال بلند ہوتا ہے۔پولیس کے افسر اور جوان آج بھی ملکی سلامتی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے اپنے شہداء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شہادتوں اور قربانیوں کا یہ مقدس اور لازوال سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ملک و قوم کے ان عظیم سپوتوں کے ورثاء کی کفالت اور فلاح و بہبودہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔حکومت پنجاب کی طرف سے مال روڈ چیئرنگ کراس بم دھماکہ کے شہدا ء پولیس افسران اور جوانوں کے لئے امدادی پیکج دیا گیا تھا جس میں شہید ڈی آئی جی کیپٹن (ر) احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز لاہور زاہد نواز گوندل کے لئے50ملین روپے کیش فی کس اور ایک کنال کا گھر مختص کیا گیا۔

شہداء کے ورثاء کو شہیدافسران کی مدت ملازمت کی ریٹائرمنٹ کے اختتام تک پوری تنخواہ اور پینشن بھی ملتی رہے گی۔خاندان کے ایک فرد کو گریڈ 17میں ملازمت بھی دی گئی جبکہ حکومت کی طرف سے شہید پولیس افسران کے بچوں کے اندرون اور بیرون ملک تمام تر تعلیمی اخراجات کی ادائیگی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔شہید ہونے والے کانسٹیبلز کے ہر ورثاء کوفی کس 10مرلے کا گھر دیا گیا ہے جبکہ ان شہداء کے ورثاء اور بچوں کو وہ تمام مراعات اور سہولیات بھی حاصل ہیں جو کہ شہید سینئر پولیس افسران کے بچوں کو دی جا رہی ہیں۔حکومت پنجاب نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس ملازمین کے لئے نظرثانی شدہ بہتر امدادی پیکج کی بھی منظوری دی جس کے تحت وہ پولیس ملازمین جو دہشت گردوں کے خلاف بھرپور مسلح پولیس آپریشن کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، وہ پولیس ملازمین جنہیں فرض کی ادائیگی کے دوران ٹارگٹ کیا جاتا ہے یا ریٹائرمنٹ کے بعد ماضی میں دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کسی کارروائی یا تفتیش کی پاداش میں دہشتگردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے انہیں ایک امدادی پیکج دیا گیا۔جس کے تحت ڈی آئی جی اور اس سے بڑے عہدے کے پولیس افسر کے ورثاء کو 02کروڑ روپے، ایس پی اور ایس ایس پی رینک کے افسر کو 01کروڑ80لاکھ روپے، ڈی ایس پی اور انسپکٹر کو 01کروڑ50لاکھ، سب انسپکٹر اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو 01کروڑ25لاکھ جبکہ شہید ہونے والے ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل کو 01کروڑ روپے کی مالی امداد دی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر شہداء پولیس کے ورثاء کوحکومتی امدادی پیکج کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب شعیب دستگیرکی سربراہی میں سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید کی زیرنگرانی شہداء پولیس کے ورثاء کوامداد اور مراعات کے خصوصی پیکج کی بروقت فراہمی کے تمام نظام کو کمپیوٹرائزڈ کیا جاچکا ہے۔حکومت پنجاب کی طرف سے بم دھماکوں، فسادات، واچ اینڈوارڈ کے فرائض اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا شکار ہونے والے عام شہریوں کے لئے بھی الگ امدادی پیکج دیا گیا ہے۔دہشت گردی کے کسی واقعہ میں شہید ہونے والے ڈی آئی جی اور اس سے اوپر کے عہدے کے افسران کے ورثاء کو فی کس ڈیڑھ کروڑ روپے، ایس ایس پی اور ایس پی کیلئے ایک کروڑ 20 لاکھ روپے، ڈی ایس پی اور انسپکٹر عہدے کے افسر کو 90 لاکھ، سب انسپکٹر اور اے ایس آئی کو 70 لاکھ جبکہ ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل کے ورثاء کو 50 لاکھ روپے امدادی پیکج میں شامل ہیں۔ سرکاری رہائش گاہوں میں قیام پذیر شہید پولیس افسران اور ملازمین کے ورثاء شہداء کی ریٹائرمنٹ کی مدت پوری ہونے تک ان سرکاری رہائش گاہوں میں رہ سکتے ہیں۔ شہید پولیس افسران اور ملازمین کے ورثاء کو گھر خریدنے کے لئے خطیر رقوم پر مشتمل فنڈز بھی مختص کئے گئے ہیں جبکہ ان شہید پولیس افسران اور ملازمین کے ورثاء کو گاڑی اور دیگر مناسب ٹرانسپورٹ سہولیات کی خریداری کے لئے بھی حکومت پنجاب کی طرف سے مناسب فنڈز فراہم کئے جارہے ہیں۔

آج کا دن پنجاب پولیس کے بہادر شہداء سے تجدید عہد کا دن ہے۔ آج ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ جیسے بھی نامساعد حالات ہوں ہمیں اپنے وطن کی حفاظت کے لئے ہر حال میں اپنا فرض نبھانا ہے۔ ہم پرسب سے پہلا حق ہمارے وطن کا ہے۔ ملکی سرحدوں پر افواج پاکستان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہیں تو اندرون ملک ہماری پولیس امن و امان کے قیام کیلئے سرگرم عمل ہے جن کے ساتھ لوگوں کی امیدیں وابستہ ہیں۔ ہماری پولیس وہ فورس ہے جس کی آبیاری میں 14 سو سے زائد شہداء کا خون شامل ہے۔ فرض کی ادائیگی کے دوران فرنٹ لائن سولجرز کا کردار اداکرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے غیور پولیس افسران اور اہلکار پنجاب پولیس کا قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔ امن و امان کے قیام کے لئے جان قربان کردینے والے یہ دلیر جوان راہ حق کے شہید ہیں جو خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ آج ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں پاک افواج، سکیورٹی اداروں اور پولیس کے افسران و جوانوں کی قربانیوں کی وجہ سے قابل قدر کمی آئی ہے۔تا ہم دہشت گردی کی اس جنگ میں آخری فتح کے لئے ہمیں اپنے ذاتی، گروہی، مذہنی و لسانی مفادات اوراختلافات کو پس پشت ڈال کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانا ہو گیا۔آئیے ہم اپنے ملک کی بقاء، استحکام، سلامتی اور تعمیر و ترقی کے لئے مل کر جدوجہد کریں اور ترقی کے اس سفر میں ہمیں تحفظ فراہم کرنے والے اپنی افواج،سکیورٹی اداروں اور محکمہ پولیس کے جوانوں کا ساتھ دیں۔

مزید : رائے /کالم