ویلنٹائن ڈےکا چورن

ویلنٹائن ڈےکا چورن
ویلنٹائن ڈےکا چورن

  



گزشتہ کچھ دنوں سے میڈیا پہ ویلنٹائن ڈے کے نام کا چورن بیچا جا رھا ہے۔۔ایک طبقہ اسکے حق میں دلائل دے رھا ہے جبکہ دوسرا طبقہ پوری شد و مد سے اسکی مخالفت میں مصروف ہے ۔۔

میڈیا مالکان کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاھی میں ہے۔۔ روزانہ دو ملاں اور دو روشن خیال بیبیاں بٹھا کر انہیں آپس میں لڑوا دیا جاتا ہے ۔۔ریٹنگ بڑھ جاتی ہے ۔۔۔

آجکل ایک دم سے ہمیں اپنی مشرقی اقدار یاد آنے لگی ہیں ۔

کچھ احباب نے مجھ سے پوچھا کہ پیر صاحب آپ کا ویلنٹائن ڈے کے بارے میں کیا موقف ہے ۔۔اس سے پہلے کہ میری خاموشی کو ہاں سمجھ کہ مجھ پہ بھی فتوی تھوپ دیا جائے میں نے سوچا میں بھی اپنی رائے کا اظہار کر دوں ۔

میرے خیال میں اس موضوع پہ بحث کرنا ہی فضول ہے ۔جس ملک میں گدھے ۔کتے۔ سے لے کر ہر مردار حلال کے نام پہ بیچا اور کھایا جاتا ہو۔۔۔۔ پسی ہوئی اینٹوں سے لے کر لکڑی کا برادہ سرخ و کالی مرچ کے نام پہ بیچا جاتا ہو۔۔آلو ابال کر دیسی گھی اور مردہ جانوروں کی ہڈیوں سے کوکنگ آئل بنایا جاتا ہو۔۔پھلوں کو میٹھی سکرین کے ٹیکے لگا کر ان میں مٹھاس بھری جاتی ہو۔۔گوشت کو پانی کے پائپ سے بھر کر وزنی کر کے بیچا جاتا ہو۔۔چنے کے چھلکوں کو چائے کی پتی میں تبدیل کر کے بیچا جاتا ہو۔۔۔پھلوں اور پھولوں کو رنگ کا چھڑکاو کر کے بیچا جاتا ہو۔۔

جس ملک میں ڈاکٹر ہڑتالیں اور وکلا جلاو گھیراو میں مصروف ہوں۔ہسپتالوں میں علاج کے نام پہ گردے نکال کر بیچ دئیے جاتے ہوں ۔۔دوائیاں دو نمبر اور مسیحاوں کی ڈگریاں جعلی ہوں ۔ محافظ ہی راہزن ہوں۔۔تھانوں میں عزتیں لٹتی ہوں ۔۔۔ لیڈر کرپٹ ہوں۔اور عوام بے حس ہوں ۔جہاں عوام پلاو ۔زردہ اور قیمے والے نان کے بدلے میں ووٹ بیچ دیں ۔۔جہاں مسجدوں اور درگاہوں میں بھی عزتیں محفوظ نہ ہوں۔۔شیطانی بھیڑییے مزہبی لبادے اوڑھ کر ہوس کی آگ بجھائیں۔علما سئو اور جعلی پیر لوگوں کو اخوت و محبت کا درس دینے کے بجائے فتنہ و فساد پہ مائل کریں۔

جہاں دو وقت کی روٹی کیلئے عوام محتاج ہو۔جہاں والدین اپنے بچوں کو فاقہ کے ڈر سے زہر دے دیں۔جہاں آدھی ثقافت انگریز سے اور آدھی ہندو سے مستعار لے کر اسے اپنی ثقافت ظاہر کیا جائے۔

۔جہاں شراب خانے اور بازار حسن کو حکومت لائیسنس جاری کرے

۔جہاں امیر وغریب سب حسب استطاعت کرپشن کریں۔۔۔جہاں ۔ چاند رات ۔جشن آزادی اور سال نو کی تقریبات پہ ساری رات رقص و سرور کی محافل سجیں ۔۔

۔جہاں سارا سال حرام کاری ۔سود خوری ۔کرپشن ۔کا کاروبار زوروں پہ ہو ۔وہاں ایک دن سرخ گلاب دینے پہ سیخ پا ہو جانا میری سمجھ سے باہر ہے۔۔۔جنہوں نے ملنا ہے وہ سارا سال ملتے ہیں۔جنہوں نے گلاب دینے ہیں وہ سارا سال دیتے ہیں۔۔۔گلاب اور چاکلیٹ کوئی اچانک ہی نہیں کسی کو تھما دیتا یہ تو کئی مہینے پہلے سے سلسلہ چلا ہوتا ہے کئی ملاقاتیں اور رازو نیاز ہو چکے ہوتے ہیں ۔۔ویلنٹائن ڈے کو آپکی ایک دن کی پابندی سے ان کیا بگڑ جائے گا۔کیا اچانک سے ایک دن کی یہ پابندی لگنے سے وہ سب باز آ جائیں گے ؟؟

صدر مملکت جو علما کرام سے سود کے معاملہ پہ گنجائش کا کہتے رہے ہیں ۔سرخ گلابوں کے دن پہ بالکل گنجائش نہیں نکالنا چاہتے۔۔۔۔

سود کے خلاف آواز اٹھانے اور بینر لگانے پہ عدل کے ایوانوں سے پابندی لگا دینے کا حکم آ جاتا ہے

تھر میں بچے بھوک و بیماری سے بلک بلک کر مر رہے ہیں لیکن آواز نہیں اٹھتی ۔۔۔

دہشت گردی کا شکار ہو کر قیمتی جانیں روزانہ ضائع ہوتی ہیں لیکن دہشت گردوں کی مزمت کیلئے زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں ۔۔

کرپشن کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتا ۔۔

کیونکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔۔

وہاں ویلنٹائن کے خلاف ایک دم ہمارے مزہبی جزبات جاگ جاتے ہیں۔۔۔ لیکن صرف اس معاملے میں ہی کیوں ہمیں اسلام یاد آتا ہے۔۔۔اسلام کی باقی تعلیمات کو ہم نظر انداز کیوں کر دیتے ہیں ؟؟

ہمیں بحثیت قوم منافقت چھوڑ دینی چاہئیے ۔۔۔

اگر ہیر آدھی رات کو رانجھے سے ملنے جائے تو مشرقیت ؟؟

اگر سوہنی کچے گھڑے پہ ماہینوال کو ملنے جائے تو پنجاب کا حسن۔۔

اگر سسی پنوں سے یاری لگائے تو عشق ۔۔

اگر مرزا صاحبہ سے منہ کالا کرے تو لوک داستانیں

مشرقیت اس کا نام ہے اور کیا یہ ہے ہمارا ۔ورثہ ؟؟؟؟؟

ہیر رانجھے کی یاری کو مزہب کا لبادہ اوڑھا کر انکے مزارات تک بنا دئیے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انکا عشق سچا تھا۔۔۔بالکل بکواس یہ سب ایک دوسرے کیلئے نامحرم تھے اور اپنے اپنے وقت میں اپنے اپنے طریقوں سے ملنے کیلئے اظہار محبت کے مختلف طریقے اپناتے رہے ۔

اس بارے میں علما و مشائخ کیوں نہیں بولتے؟؟

کیا اب تک جو ہوتا آیا وہ جائز تھا ؟؟

اسلام میں اسکی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔

وہ بھی سب ایک دوسرے کیلئے نا محرم تھے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

عاشق تو صدیوں سے ملتے چلے آئے کبھی چھپ کر اور کبھی سرعام ۔۔۔ وہ کچے گھڑے پہ راتوں کو تیر کر جاتے تھے۔۔اب وٹس اپ ۔۔ فیس بک ۔۔ ٹوئٹر کا دور ہے۔۔وقت کے ساتھ ساتھ اقدار بدل رہی ہیں ۔۔

اطوار بدل رہے ہیں۔۔۔۔چاہت کے اظہار کا طریقہ بدل رھا ہے۔۔۔ اب گرمیوں کی دوپہروں میں چھت پہ ملاقاتیں نہیں ہوتیں نہ ہی پردوں کے پیچھے سے جھلک دکھلا کر غائب ہونے کا رواج رھا ہے۔۔ اب مروت ختم ہوتی جا رہی ہے۔۔آجکل کی نوجوان نسل منہ پھٹ ہونے کی حد تک صاف گو ہے اور کھل کر اظہار محبت کرنا چاہتی ہے۔۔ اور میں سمجھتا ہوں

میڈیا کا اس میں سب سے بڑا کردار ہے۔۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں منہ مانگے داموں میں میڈیا کو خرید کر عوام پہ اپنا نظریہ مسلط کرتی ہیں۔۔

رمضان ہو ۔عیدین ہوں۔۔جشن آزادی ہو یا ویلنٹائن ڈے ۔۔۔فادر ڈے ۔مدر ڈے۔۔ٹیچر ڈے ۔۔یہ سب سودا بیچنے کے ناٹک ہیں ۔۔

مزہبی تہواروں کے تقدس کو نظر انداز کر کے انہیں بھی میڈیا گلیمرائزڈ کر کے پیش کرتا ہے ۔۔۔۔۔

سجنو !!

سچا عشق صرف اور صرف ایک

عشق حقیقی ۔۔اللہ کا عشق

اور اللہ کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق

اسکے علاوہ سب رشتے عارضی ۔۔ختم ہو جانے والے۔۔۔

بے حیائی کے خاتمہ کیلئے محض سرخ گلابوں پہ پابندی لگا دینے کیا فحاشی کا خاتمہ ہو جائے گا؟؟

آئیے پہلے اس بات کا تعین کریں کہ ہماری اصل ثقافت ہے کونسی؟؟؟

ہمارے شادی بیاہ ۔۔مہندی مایوں سے لے کر سب تہواروں پہ ہندوانہ کلچر کی گہری چھاپ ہے۔۔۔

ہمارے پاس اپنا ہے کیا؟؟؟

بھوک سے بلکتی غربت و افلاس کی ماری قوم کو مزید نہ الجھائیں۔۔پہلے تعین کر لیں کہ ہمیں کس سمت سفر طے کرنا ہے۔۔۔

دورنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا !!!!

حیا کا کلچر عام کرنے کیلئے خود احتسابی کرنی ہو گی۔۔اپنی زندگیوں کو سنت کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔۔اپنے کردار کو صاف رکھنے کیلئے اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دلوں میں بسانا ہو گا۔۔۔۔

حرام کے خاتمے کیلئے حلال کو آسان بنائیں۔زنا کے خاتمے کیلئے نکاح کو آسان بنائیں ۔۔جہیز کی لعنت کے خلاف آواز بلند کریں ۔۔۔اولاد جیسے ہی بلوغت کی عمر پہ پہنچے اسکی شادی میں دیر نہ کریں ۔۔اور شادی کے معاملے میں اولاد کی مرضی کو ملحوظ خاطر رکھیں۔۔۔۔۔ اپنی زندگیوں کو آسان بنائیں فضول دسوم و رواج ۔۔۔زات پات ۔۔طبقات ۔۔برادری کے چکروں سے نکلیں ۔۔۔ ۔ نکاح آسان کرنے سے زنا کا خاتمہ ہوگا۔۔۔

نکاح کر کے حلال طریقہ سے ملیں ۔۔گلاب دیں ۔چاکلیٹ دیں۔۔۔کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔۔۔

اللہ کریم ہم سب کو ھدایت والی زندگی نصیب فرمائیں ۔آمین

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ