ویلنٹائن ڈے کی کہیں حمایت تو کہیں مخالفت لیکن سعودی عرب میں کیا صورتحال ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

ویلنٹائن ڈے کی کہیں حمایت تو کہیں مخالفت لیکن سعودی عرب میں کیا صورتحال ہے؟ ...
ویلنٹائن ڈے کی کہیں حمایت تو کہیں مخالفت لیکن سعودی عرب میں کیا صورتحال ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  



ریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی عرب میں جہاں چودہ فروری کو پھول فروخت کرنا تک ممنوع قرارد ے دیا گیا تھاآج وہاںویلنٹائن ڈے محبت بھرے احساسات کے ساتھ منایا جارہاہے۔ دن کا آغاز ہوتے ہی نہ صرف پھول فروخت کئے جا رہے ہیں بلکہ سرکاری اخبارمیںا س دن کے حوالے سے خصوصی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔دوتین سال پیچھے چلے جائیں توکوئی یہ دن منانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اس دن کو منانے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

تاہم اس دفعہ صورتحال مختلف ہے۔العربیہ کے مطابق رواں ہفتے ایک مقامی اخبار نے ویلنٹائن کے حوالے سے’ فوڈ آف لو‘کے نام خصوصی ڈائننگ گائیڈ جاری کی ہے ، جبکہ پھولوں کی دکانوں پر بھی رش دیکھا جا رہاہے۔العربیہ انگلش سے بات کرتے ہوئے رانیہ حسن نامی سعودی خاتون نے کہا ہے کہ اس دن پر آپ کبھی کسی کو سرخ لباس میں نہیں دیکھتے تھے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی غیرارادی طور پر سرخ کپڑے پہنے تو مذہبی پولیس اسے روک لیتی تھی لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔

عرب نیوز میں چھپے ایک آرٹیکل کے مطابق زیادہ پرانی بات نہیں ہے کوئی تین سال پہلے تک کوئی ویلنٹائن ڈے منانے کا کوئی تصور تک نہیںکر سکتا تھا کیونکہ ہر ایک کو یہ خوف دامنگیر رہا کرتا تھا کہ کہیں سعودی عرب کی کٹر مذہبی پولیس کی نظر نہ پڑ جائے۔اقدار کے فروغ اور انسداد بدی سے متعلق کمیشن کی زد میں آنے کے خوف سے گل فروش اور چاکلیٹوں اور مٹھائیوں کی دکان والے لال گلاب اور دل کی شکل کی چاکلیٹوں کا ذخیرہ چھپا کر فروخت کیا کرتے تھے۔یہاں تک کہ ریستوراں کے مالکان گرفتاری یا بند کر دیے جانے کے ڈر سے 14فروری کو کسی کی سالگرہ تک نہیں منانے دیتے تھے اور انہوں نے اس تاریخ کو اپنے ریستورانوں میں سالگرہ منانے اور کیک کاٹنے پر پابند ی لگا رکھی تھی۔

لیکن یہ پابندی 2018میں اس وقت ٹوٹ گئی جب مکہ کے سابق سی پی وی پی وی صدر شیخ احمد قاسم الغامدی نے اعلان کیا کہ ویلنٹائن ڈے اسلامی تعلیمات اور نظریہ کے منافی نہیں ہے۔محبتیں بانٹنا اور کرنا سبھی کا حق ہے اس پر نہ کسی کی اجارہ داری ہے اور نہ وہ غیر مسلموں تک محدود ہے۔آج سعودی باشند ے قیمتی تحفے تحائف ،پھولوں اور انواع و اقسام کے غباروںکی زبردست خریداری میں مصروف ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی /عرب دنیا