عرب شہری کی ساتھی ملازمہ کو بوسہ دینے کی فرمائش مہنگی پڑ گئی، لیکن دراصل یہ مطالبہ کیوں کیا؟ عدالت میں ایسا دعویٰ کہ ہنسی روکنا مشکل

عرب شہری کی ساتھی ملازمہ کو بوسہ دینے کی فرمائش مہنگی پڑ گئی، لیکن دراصل یہ ...
عرب شہری کی ساتھی ملازمہ کو بوسہ دینے کی فرمائش مہنگی پڑ گئی، لیکن دراصل یہ مطالبہ کیوں کیا؟ عدالت میں ایسا دعویٰ کہ ہنسی روکنا مشکل

  



جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک ) سعودی عرب میں ایک عرب شہری کو خاتون ساتھی ملازمہ سے بوسہ دینے کی فرمائش مہنگی پڑ گئی۔ پکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا تو اپنی حرکت کا ایسا مضحکہ خیز جواز بیان کر دیا کہ سن کر ہنسی آ جائے۔ گلف نیوز کے مطابق یہ شخص خاتون ملازمہ کا سینئر تھا۔ خاتون نے اس کے خلاف شکایت درج کروائی کہ وہ اکثر اسے بوسہ دینے کو کہتا ہے اور اس کے جسم کو نامناسب انداز میں چھونے کی کوشش بھی کرتا ہے۔

خاتون نے بتایا کہ ملزم بوسہ نہ دینے کی صورت میں تنخواہ میں سے کٹوتی کرنے کی دھمکیاں بھی دیتا ہے۔ اس پر پولیس نے ملزم کو پکڑ کر عدالت میں پیش کیا تو اس نے جج کے سامنے بتایا کہ ”میں تو مذاق کے طور پر بوسہ دینے کو کہتا تھا۔“ ملزم نے کہا کہ ”میں حافظ قرآن ہوں اور کسی خاتون کو ہراساں کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔“عدالت نے اس کا جرم ثابت ہونے پراسے 4ہزار ریال جرمانے کی سزا سنا دی۔ اس جرم میں عموماً قید کی سزا ہوتی ہے لیکن عدالت نے مجرم کے حافظ قرآن ہونے کا احترام کرتے ہوئے قید کی سزا سے احتراز برتا اور جرمانے کی سزا پر ہی اکتفا کیا۔

مزید : عرب دنیا