ٹرمپ مواخذہ میں گواہوں کی سینیٹ طلبی کا فیصلہ کثرت رائے سے منظور

ٹرمپ مواخذہ میں گواہوں کی سینیٹ طلبی کا فیصلہ کثرت رائے سے منظور

  

 واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی سینیٹ نے سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے میں گواہوں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہفتے کی صبح جب استغاثہ اور دفاعی ٹیم اپنے ابتدائی دلائل مکمل کر چکے تھے تو ڈیموکریٹس نے گواہوں کو طلب کرنے کیلئے رائے شماری کا مطالبہ کیا جس کے بعد سو ارکان کی سینیٹ میں کل پچاس ڈیمو کریٹس کیساتھ پانچ ریپبلکن ارکان نے بھی انکا ساتھ دیا اور اس طرح 45کے مقابلے پر 55ارکان کے و وٹوں کی بنیاد پر یہ مطالبہ منظور کر لیا گیا۔ کانگریس کی کوریج کرنیوالے خصوصی رپورٹرز کا خیال ہے گواہوں کی پیشی کی وجہ سے مقدمے کے حتمی فیصلے میں تا خیر ہو سکتی ہے۔ قبل ازیں سینیٹ میں ودنوں ڈیمو کریٹک اور ریپبلکن ارکان نے اس امر پر اتفاق کیا تھا کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ ایک ہفتے کے اندر کر دیاجائیگا۔9فروری کو ڈیمو کریٹک پارٹی کے ایوان نمائندگان کے نومنیجر نے سینیٹ میں آ کر استغاثہ کے طور پر اپنے دلائل کا آغاز کیا تھا جسے انہوں نے 11فروری کو مکمل کر لیا تھا۔ ٹرمپ کی دفاعی ٹیم نے 12فروری کو اپنے دلائل پیش کئے اور خلاف توقع اپنے لئے مخصوص 16گھنٹے کے وقت میں سے صر ف دو گھنٹے کے بعد اپنے دلائل ختم کر دیئے۔ اس کے بعد سوالات اور جوابات کا سلسلہ شروع ہوا اور اب گواہوں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے جن کی شہاد تو ں کے بعد دونوں فریقوں کو حتمی دلائل پیش کرنے کا ایک اور موقع دیا جائیگا۔ اس کے بعد سینیٹ ارکان مقدمے کی جیوری کے طور پر اپنا ووٹ ڈالیں گے اور دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی تو ٹرمپ مجرم قرار پائیں گے، استغاثہ کو اتنے ووٹ نہ مل سکے تو ٹرمپ بری ہو جائیں گے۔ سو ارکان کی کل سینیٹ میں ڈیمو کریٹک اور ریپبلکن ارکان کی تعداد برابر یعنی پچاس پچاس ہے اور دو مرحلوں پر پانچ ارکان نے ڈیمو کریٹک ارکان کا ساتھ دیا ہے اگر اسے مدنظر رکھا جائے تو توقع ہے مواخذے کے مقدمے میں استغاثہ کو55کے قریب ووٹ ملیں گے اور67ارکان کا مطالبہ دو تہائی ہدف پورا نہ ہو سکنے کے با عث ٹرمپ بری ہو جائیں گے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی دفاعی ٹیم کا کیس کمزور ہے اور گواہوں کی پیشی کے بعد یہ مزید کمزور ہو جائیگا لیکن پھر بھی ریپبلکن کی اکثریت ٹرمپ کو بچانے کیلئے ووٹ ڈالیں گے۔ سوال وجواب کے سیشن میں دفاعی ٹیم سے سوال کیا گیا اگر کیپٹل بل پر حملے کو ٹرمپ کی حما یت حاصل نہیں تھی تو انہوں نے حملے کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ دفاعی ٹیم لاجواب ہو کر اس سوال کو ٹال گئی۔ ایک سینیٹر نے بتایا انہوں نے حملے کے دوران ٹرمپ کو فون کر کے مدد طلب کی تو ان کا جواب تھا یہ لوگ میری شکست کو تسلیم نہیں کرتے۔

ٹرمپ مواخذہ

مزید :

صفحہ اول -