اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

  

 اسلام آ باد (آئی این پی) اسلام آباد پولیس نے ہائیکورٹ حملہ کیس کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کی جانب سے ہائیکورٹ حملہ کیس میں جے آئی ٹی بنانے کی تجویز دی گئی تھی جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ پولیس کے سینئر افسر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی۔ معزز چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پروکلا بحالی تحریک کے 90شہدا کا قرض ہے، احتجاج کی ضرورت نہیں تھی،چیف جسٹس بننے کے بعد سے کچہری کیلئے کام کیا۔ جے آئی ٹی بار صدور سے بات کر لے وہ نشاندہی کریں گے۔دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ اس روز جویہاں آئے تھے وہ سب وکیل تھے اور باہرسیکوئی نہیں تھی جبکہ آدھے سے زائدکو میں جانتا ہوں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ سب کوپتا ہے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے یہاں حملہ کیا، میں نے خط لکھاہے اب ریگولیٹرکی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ کیاکرتے ہیں۔ دونوں بارکے صدورکوکہا تھا وہ یہاں آجائیں لیکن وہ یہاں نہیں آئے، جنہوں نے تقاریرکیں، جنہوں نے انہیں ابھارا، ان کی نشاندہی بار کرے۔ 70سال سے کچہری کیلئے کچھ نہیں ہوا اس حکومت نے کچہری کیلئے بہت کچھ کیاہے، اس حکومت نے پی ایس ڈی پی سے کچہری منتقلی فنڈزکی منظوری دی،اب کام شروع ہونے والاہے، ہم توقانون ہی کاراستہ اختیارکرسکتے ہیں، حکومت ڈسٹرکٹ کمپلیکس پرکام کر رہی ہے۔

جے آئی ٹی 

مزید :

صفحہ اول -