قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی احسن، جرائم پرکنٹرول، ڈاکوؤں کا محاسبہ بھی ضروری

قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی احسن، جرائم پرکنٹرول، ڈاکوؤں کا محاسبہ بھی ضروری

  

لاہور (تجزیہ، یونس باٹھ) اچھے اور برے لوگ ہر شعبہ میں ہوتے ہیں مگر اچھے لوگ ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیں۔ یاد تو خیر برے لوگ بھی آتے ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے دنیا والے اچھے لوگوں کو اچھے لفظوں میں اور برے لوگوں کو انکے برے کاموں کی وجہ سے یاد کرتے ہیں۔ یہ با ت درست ہے کہ پولیس کے شعبہ میں اکثریت برے اور بد اخلاق لوگوں کی ہے جو ظلم و زیادتی اور کرپشن کو ہی اپنا سب کچھ مانتے ہیں، جہا ں پولیس کے شعبے سے وابستہ کالی بھیڑوں کا برے الفاظ میں ذکر ہوتا ہے وہاں کچھ اچھے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے محکمے کا نہ صرف بہترین تعارف بنے ہوئے ہیں بلکہ عوام ایسے پولیس آفیسر کو سیلیوٹ کیساتھ خراج تحسین سے اکثر نوازتے رہتے ہیں۔ در حقیقت اچھے اور محنتی پو لیس آفیسر کی ترقی اور ایمانداری سے کام کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہاں کا سیاسی کلچر ہے جو ہر اضلاع اور تھانے میں اپنا رول پلے کر رہا ہے۔ایک وقت تھا جب پنجاب میں بہت سارے ایسے آفیسرز تعینات تھے جنہوں نے اپنے سر پر کفن باندھ رکھے تھے۔جو اپنے فر ائض میں کسی قسم کی کوئی غفلت اور کسی کی مداخلت کو برداشت نہیں کرتے تھے،مگر آج آفیسرز تو کجا تھانیدار بھی کمرشل ہو گئے ہیں کوئی کام بھی فیس لیے بغیر کرنا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے، تھانیدار تو جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہتے ہوئے انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور ایمانداری کا دامن تھامے رکھنا اپنا فریضہ سمجھتے تھے۔ حقیقت میں جس ٹیم کا کپتان چاک وچوبند،نیک،مشقت کواپنی عادت اور جہدمسلسل کواپنا اشعا ر بنانے والاہواس ٹیم کے ہرکھلاڑی کے اندر جیتنے کی سپرٹ ضرورموجودہوتی ہے، لیکن جس ٹیم کا کپتان ہی سست وکاہل اور کام چورہووہ  کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں آئی جی پو لیس انعام غنی اور لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمود ڈوگرمحنتی کپتان ہیں دو نو ں کے قول وفعل میں کبھی کوئی تضاد نہیں پایاگیا۔ دونوں دلیر،جراتمند،دانشورمردقلندراور محب وطن آفیسرہیں یہ محکمہ پولیس کو عوامی امنگوں کا ترجمان بنانے کی خاطر شب وروز مصروف عمل نظر بھی آتے ہیں،مگر افسوسناک امر یہ ہے لاہور شہر میں روز بروز جرائم کی شرح میں تشویشنا ک حد تک اضافہ ہو رہاہے،ماڈ ل ٹاؤن، گلبرگ اور ڈیفنس جیسے پوش علاقوں میں صرف ایک ماہ میں  17گھروں میں ڈکیتیوں کے علاوہ 48ڈکیتی راہزنی اور چوری کی بڑی وارداتیں پیش آچکی ہیں، قبضہ گروپو ں کیخلاف کارروائی قابل ستائش ہے،مگر جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنا اور ڈاکوؤں کا محاسبہ بھی ضروری ہے،جرائم کی شرح بڑھنے کے ذمہ دار براہ راست ڈی آئی جی آپریشنز جبکہ ڈاکو ؤں کی گرفتاری کے ذمہ دار ڈی آئی جی انوسٹی گیشن اور ایس ایس پی سی آئی اے ہیں، بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے تینوں کی کام پر توجہ نہیں،دونوں کمانڈر اگرشہر کو امن کا گہوارہ بنانا چا ہتے ہیں تو انہیں ان شعبوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہو گا۔

محاسبہ ضروری

مزید :

صفحہ آخر -