جادوئی تبدیلی کا مطالبہ کر کون رہا ہے؟

جادوئی تبدیلی کا مطالبہ کر کون رہا ہے؟

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پانچ سال میں جادوئی تبدیلی ناممکن ہے یہ مدت بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لئے کم ہے ایسے منصوبے بنائے جاتے ہیں، جن کے اشتہار دے کر عوام سے ووٹ لئے جا سکیں۔ترقی پالیسیوں کے تسلسل سے ہوتی ہے، پارلیمانی جمہوریت میں ہر پانچ سال میں الیکشن ہوتا ہے،اِس لئے حکومتیں صرف پانچ سال کا سوچتی ہیں تاکہ اگلے الیکشن جیت سکیں۔ انہوں نے کہا ملک میں زیتون کے جنگلات کا خاموش انقلاب آنے والا ہے، ساری قوم کو اس میں شرکت کرنی چاہئے،کیونکہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔دریائے سندھ کے کنارے زیتون کے درخت لگائیں گے، پچاس علاقوں میں نئے جنگلات کی بڑھوتری کو سیٹلائٹ سے مانیٹر کیا جائے گا۔اُن کا کہنا تھا کہ ملک کے بڑے بڑے بزنس مین ٹیکس نہیں دیتے، لیکن عطیہ ضرور دیتے ہیں،انہوں نے یہ باتیں لاہور کے جیلانی پارک میں میاواکی جنگل منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

دُنیا میں اِس وقت حکومتوں اور حکمرانی کے جو بڑے بڑے ماڈل ہیں اُن میں بادشاہتوں یا آمرانہ حکومتوں کو چھوڑ کر چار ماڈل ایسے ہیں، جنہیں سامنے رکھ کر ترقی اور منصوبہ بندی پر بات کی جا سکتی ہے،چین میں حکومت کا ماڈل یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی واحد جماعت ہے، جو انقلاب کے بعد سے اب تک ملک کی حکمران ہے تاہم اِس عرصے میں چین کے اندر بھی حکمرانی کے انداز بدلتے رہے،اِس وقت طریق ِ کار یہ ہے کہ ہمہ مقتدر چینی صدر ”منتخب“  تو پانچ سال کے لئے ہی ہوتا ہے، لیکن اگلے پانچ سال کے لئے بھی اُس کی حکمرانی یقینی ہوتی ہے۔دوسری پانچ سالہ مدت میں صدر کے ساتھ ایک ایسا لیڈر کارِ حکمرانی میں شریک کر دیا جاتا ہے جسے صدر کی دس سالہ مدت کے بعد اقتدار سنبھالنا ہوتا ہے۔دُنیا کے بیشتر ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں، خواہ اُن کا نظام صدارتی ہو یا پارلیمانی، صاحب ِ اقتدار کے عہدے کی مدت پانچ سال ہی ہوتی ہے، البتہ فرانس ایک ایسا ملک ہے، جس کے صدر کا انتخاب سات سال کے لئے کیا جاتا ہے۔امریکہ اِس وقت دُنیا کی واحد سپر طاقت ہے،لیکن اس کا صدر محض چار سال کے لئے منتخب ہوتا ہے، اور زیادہ سے زیادہ دو  ٹرم کے لئے صدر رہ سکتا ہے، کوئی صدر آئینی طور پر دو بار سے زیادہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔دُنیا کے طاقت ور ترین صدر نے جو بھی ”جادوئی کارنامے“ انجام دینے ہوتے ہیں وہ انہی آٹھ برسوں میں انجام دیئے جا سکتے ہیں۔ امریکی قوم بڑی سوچ بچار کے بعد اِس نتیجے پر پہنچی کہ صدر جو کچھ بھی خدمات انجام دینا چاہے انہی آٹھ سال میں دے سکتا ہے،اس کے بعد دوسروں کو موقع ملنا چاہئے۔ایسے صدر بھی ہیں جو چار سال ہی پورے کرتے ہیں جیسے حال ہی میں ٹرمپ ایک ہی مدت پوری کر کے رخصت ہو گئے۔ امریکہ دُنیا کی سپر طاقت ہی نہیں ہے ہر لحاظ سے ایسا ترقی یافتہ ملک ہے کہ بہت کم ملک اس کی ہمسری کا خواب دیکھ سکتے ہیں،کسی امریکی صدر کو  شاید ہی کبھی یہ شکایت پیدا ہوئی ہو کہ اُسے حکمرانی کے لئے زیادہ مدت نہیں ملی ورنہ وہ امریکہ کو کیا سے کیا بنا دیتا،جو بھی صدر بننا چاہتا ہے یا بنتا ہے اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس کم سے کم چار سال اور زیادہ سے زیادہ آٹھ سال ہی ہیں اُسے کچھ کر کے دکھانا ہے تو اِسی مدت میں، بصورتِ دیگر گھر چلے جانا ہے۔ امریکہ میں انتخاب کے مقررہ دن تک میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، ہر چار سال بعد نومبر کے مہینے میں جو پہلا پیر آتا ہے اس کے بعد آنے والے منگل کو الیکشن ہو جاتے ہیں۔

پارلیمانی جمہوری ممالک میں بھی وزیراعظم پانچ سال کے لئے منتخب ہوتا ہے،البتہ اس کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہے تو پانچ سال سے پہلے نئے مینڈیٹ کے لئے عوام سے رجوع کر لے، برطانیہ اور دوسری پارلیمانی جمہوریتوں میں ایسا ہوتا رہتا ہے، جن ممالک میں جمہوریت کے نام پر آمریتیں قائم ہیں وہاں صدر، دس، بیس، تیس سال یا اس سے بھی زیادہ مدت کے لئے برسر اقتدار رہ سکتا ہے،لیکن اس آمر کو بھی ہر پانچ سال کے بعد انتخابات کا ڈھونگ رچانا پڑتا ہے، ایسے ریفرنڈم بھی ہوتے ہیں جن میں مدمقابل کوئی نہیں ہوتا۔ ایسے ممالک میں آمر کی موجودگی میں یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ کسی مخصوص حکمران کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، لیکن جب وہ رخصت ہوتا ہے تو (مولانا مودودیؒ کے الفاظ میں)حیرت ہوتی ہے کہ ملک چل کیسے رہا تھا؟

مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں بادشاہتیں ہیں، شیخوں کی حکومتیں ہیں یا پھر جمہوریت کے نام پر آمریتیں ہیں،اِن درجنوں ممالک کے حصار میں ایک چھوٹا سا ملک اسرائیل کے نام سے قائم ہے یہ ملک جب قائم ہوا تو اس کا رقبہ بہت تھوڑا تھا، اس نے توسیع پسندی کی حکمت ِ عملی اپنائی اور بڑے ہمسایہ عرب ممالک کے علاقے ہتھیا کر اپنا حصہ بنا لئے،ان ممالک میں پانچ دس سال کی حکمرانی کا کوئی تصور نہیں۔اُردن میں بادشاہت ہے، شام میں ایک ہی خاندان کم و بیش پانچ عشروں سے زیادہ عرصے سے حکمران چلا آ رہا ہے، لیکن اسرائیل سے اپنے علاقے واپس نہیں لے سکا۔ مصر میں حسنی مبارک تیس سال سے زیادہ صدر رہے،لیکن ان سب ممالک پر ایک ایسا چھوٹا  سا ملک غالب آ گیا، جس کا وزیراعظم پانچ سال کے لئے منتخب ہوتا ہے، بلکہ اسے یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ پانچ سال بھی پورے کرے گا یا نہیں،اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ اقتدار کی مدت نہیں جو ملکوں کو مضبوط اور طاقت ور بناتی ہے،بلکہ یہ قوموں کی صلاحیت ہے جو اُنہیں بامِ عروج تک پہنچاتی ہے۔ اگر محض اقتدار کی مدت ہی ترقی و خوشحالی یا طاقت  اور مضبوطی کا پیمانہ ہوتی تو امریکہ کبھی سپر طاقت نہ ہوتا،ایسے میں تو اردن شام و مصر یا لیبیا جیسے ممالک کو دُنیا کا حکمران  ہونا چاہئے تھا، کیونکہ ان ممالک میں جو حکمران بھی آتا ہے وہ جانے کے لئے نہیں تاحیات حکمران رہنے کے لئے آتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں کم ترین عرصے کے لئے اقتدار میں رہنے والے حکمران بھی آئے اور ایسے بھی تھے، جنہیں دس گیارہ سال تک اقتدار میں رہنے کا موقع ملا،لیکن وہ پھر بھی یہ خیال کرتے رہے ”کچھ اور چاہئے وسعت مرے بیاں کے لئے“ وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے غیر جمہوری جوڑ توڑ بھی کرتے رہے،لیکن بسا اوقات ایسی تمام چالیس الٹی پڑ جاتی ہیں۔جنرل پرویز مشرف نے طاقت کے زور پر اقتدار سنبھالا، پھر اس تگ و دو میں لگ گئے کہ اقتدار کو طول کیسے دینا ہے،لیکن مواخذے کی تحریک کے ”محض ڈراوے“ نے اُن کے ہاتھ پیر پھلا دیئے اور وہ صدارت کا وہ منصب تیاگ کر رخصت ہو گئے،جس کے لئے انہوں نے بڑے جتن کئے تھے۔ پانچ سال کی مدت اگر بڑے منصوبوں کے لئے کم ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ حکومت اپنے مخالفوں کے ساتھ مل کر ایک ”میثاقِ معیشت“ طے کرے، جس میں طویل المدت منصوبے جاری رکھنے کی ضمانت دی جائے،لیکن جن حکمرانوں سے ایک اورنج ٹرین برداشت نہ ہوتی ہو اور وہ اِس منصوبے کو  معرضِ التوا میں ڈالے رکھنے کے لئے ہر حد سے گذر جانے کے لئے تیار ہوں وہ ایسے کسی میثاق پر کس طرح متفق ہو سکتے ہیں۔پاکستان میں بادشاہت قائم کی جا سکتی ہے، نہ آمریت کی کوئی گنجائش ہے،اِس لئے ہر حکمران کو مقررہ مدت ہی میں کچھ  کر کے دکھانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہئے۔ جادوئی تبدیلی اگر پانچ سال میں ممکن نہیں تو ایسی تبدیلی کا مطالبہ کر کون رہا ہے؟

مزید :

رائے -اداریہ -