قبر کے لئے لاکھوں کی ادائیگی؟

قبر کے لئے لاکھوں کی ادائیگی؟
قبر کے لئے لاکھوں کی ادائیگی؟

  

فیصل ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن لاہور کے ساتھ ایک بہترین رہائشی سکیم ہے،اس کا ایک انوکھا قانون ہے جس پر اظہار خیال کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ ممکن ہے کہ بڑے بڑے دماغ والوں نے اور امیر سے امیر تر ہونے والوں نے اس طرح کے قوانین بنا رکھے ہوں، محمد افضل جو  20 سال سے فیصل ٹاؤن ڈی بلاک کے مہنگے ترین علاقے میں رہائش پذیر تھے، فوت ہو گئے تو ان کے لواحقین فیصل ٹاؤن کوٹھے پنڈ قبرستان میں قبر بنانے کے لئے گئے،لیکن قبرستان کمیٹی نے کسی بھی قیمت پر ان کو قبر کی جگہ دینے سے انکار کر دیا کہ یہ کرایہ دار تھے، اس لئے ان کو قبر کی جگہ نہیں مل سکتی، وہاں کے مالکان اور دوسرے لوگ گئے، لیکن ان لوگوں نے انکار کر دیا، آخر کار محمد افضل کے ایک رشتہ دار نے ٹاؤن شپ کے قبرستان میں قبر کا بندوبست کروایا، اگر خدانخواستہ ٹاؤن شپ والے بھی انکار کر دیتے تو پھر محمد افضل کے لواحقین کہاں جاتے،کیا کرتے؟ یہ بیس سال سے بہترین جگہ پر رہائش پذیر تھے بہترین کاروبار کر رہے تھے، فیصل ٹاؤن کے قبرستان کی کمیٹی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایک مسلمان شریف شہری کی میت کی بے حرمتی ہوئی۔ قبرستان کمیٹی خدا کے خوف سے ڈرے، کس نے کہاں مرنا ہے،کس نے کس طرح مرنا ہے، کس کو کفن نصیب ہوگا کہ نہیں، اپنے مکانوں کی ملکیت، اپنی امارت پر غرور نہ کریں، دنیا اور پاکستان کے بڑے بڑے لوگوں کے مرنے کے حالات کو دیکھیں کس کو کہاں دفن ہونا پڑتا ہے۔

  کسی راہ چلتے مرنے والے کو بھی اپنے قبرستان میں جگہ دیں اور اللہ کا شکر کریں کہ تمہاری خریدی ہوئی جگہ پر کوئی غریب کرایہ دار دفن ہو گیا۔ شنید ہے کہ اس قبرستان میں لاکھوں میں جگہ خرید کر ریزرو رکھی گئی ہیں،  شاید آپ سارا دن دوسرے لوگوں کے خلاف باتیں کرتے رہتے ہوں، کبھی مہنگائی، کبھی حکومتی اقدامات وغیرہ وغیرہ،چیئرمین اور ممبران قبرستان کمیٹی فیصل ٹاؤن لاہور اس قانون پر غور کریں، محمد افضل مرحوم کی روداد لکھنے سے شاید کسی دوسرے کرائے دار کو اس طرح موت کے بعد دھکے نہ کھانے پڑیں۔ جب بھی کسی پاکستانی شہری سے بات ہوتی ہے تو وہ ضرور پوچھتا ہے کہ ہمارے ملک کے حالات کب ٹھیک ہوں گے؟ میرا جواب ہوتا ہے کہ ہماری بد حالی کی اصل وجہ ہم خود ہیں۔ مَیں کسی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتا، کیونکہ قرآن پاک میں سورۃ الرعد آیت نمبر 11 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنا نہ چاہے۔ اس حوالے سے ہمیں کسی پیچیدہ ریسرچ کی ضرورت نہیں، آیئے حالات کے مطابق اپنا جائزہ لیں۔ 

اتحاد، یہ ان تین سنہری اصولوں میں سے ایک ہے جو ہمارے قائد نے ہمیں دیئے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہم بلوچ، پنجابی، پٹھان، سندھی وغیرہ زیادہ اور پاکستانی کم ہیں، ہم لا تعداد فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ایک فعال اور جمہوری حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے اپنے خاندانوں، عزیز و اقارب کی فلاح و بہبود اور انہیں امارت کی سہولتیں  فراہم کرنے کو ملکی ترقی کا نام دے رکھا ہے، ایک وزیر پر سالانہ 16کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوتے ہیں۔ ہزاروں یونٹ بجلی مفت،  45 ہوائی جہاز، ٹکٹ، تقریباً ایک لاکھ موبائل کاخرچہ، قومی اسمبلی کے کیفے ٹیریا میں اشیائے خوردنی کی قیمتیں اتنی کم ہیں کہ اس سے 1950ء کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ سندھ ہو،پنجاب ہو، بلوچستان، کے پی کے یہاں کا کوئی امیر وزیر اعلیٰ،گورنر اس نے آج سے دو سال پہلے تک اپنا علاج پاکستان میں نہیں کرایا بلکہ ملک میں ان کے علاج کے لئے کوئی معیاری ہسپتال نہیں بنوایا گیا، معیاری ہسپتالوں کا فقدان ہے،حکمرانوں نے اپنے علاج اور طبی معائنے کے لئے بیرونی ممالک میں حکومتی خرچے پر جانا ہوتا ہے اور بیماری کے بہانے سیر سپاٹے بھی کر کے آتے تھے۔ یہ ملکی خزانے پر بوجھ اور عوام پر ظلم ہے کہ سرکاری نمائندے عوامی نمائندے تمام اخراجات ملکی خزانے سے کرتے ہیں، ان کو معاوضہ ملتا ہے، تنخواہیں ملتی ہیں، تمام سہولتیں میسر ہوتی ہیں تو سرکاری خزانے پر بوجھ کیوں؟ سارا بجٹ ان اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے ملک نے ترقی کس سرمائے سے کرنی ہے؟ کوئی معاشرہ عدل و انصاف کے بغیر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا، اس حوالے سے ہماری کارکردگی بہت مایوس کن ہے، ہمارے ملک میں قانون پر عمل درآمد کی ذمہ داری غریب اور کمزور پر ہے مالدار اور طاقت ور شخص پر لاگو نہیں ہوتا اس کے پاس تگڑے وکلاء ہوتے ہیں ملک میں بے شمار جرائم ہوتے ہیں جن میں طاقتور لوگ نامزد ہیں کسی کیس کا کچھ فیصلہ نہیں ہوتا۔ غریب نسل در نسل انصاف کے لئے سفر کرتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -