’میرا کالم، میری مرضی‘ 

 ’میرا کالم، میری مرضی‘ 
 ’میرا کالم، میری مرضی‘ 

  

 سرکاری طور پہ بزرگ شہری بن جانے کے باوجود ابھی میرا شمار اُن بڈھے بابوں میں نہیں جنہیں نئے زمانے کی ہر چیز بُری لگتی ہو۔ کون کِس سے ملتا ہے؟ فرصت کے مشاغل کیا کیا ہیں؟ عالمانہ توند کے مالک گنجے آدمی کو سالگرہ منانی چاہیے یا نہیں؟ یہ اور اِسی نوع کے کئی اور سوال پرسنل چوائس کا معاملہ ہوا کرتے ہیں۔ اِس وضاحت کے پیشِ نظر آپ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آج ویلنٹائن ڈے ہے اور اِس مقبول تر ہوتے ہوئے تہوار پر کسی کھٹی میٹھی تحریر کی توقع کی جا رہی تھی۔ مَیں ماڈرن لڑکے لڑکیوں کی طرح فَٹ جواب دوں گا کہ ”چُپ رہو، میرا کالم میری مرضی“۔ ویسے سوچ کو سنجیدہ رُخ دینے میں کل شام ایک ہمکار صحافی کی فون کال کو زیادہ دخل ہے جنہوں نے نوجوانوں میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کی اور اِس کا ذمہ دار روز افزوں تعلیمی اخراجات اور بے روزگاری کو ٹھہرایا۔ 

 اگر مَیں ٹاک شو والا دانشور ہوتا تو اِس انکشاف کا غیر جانبداری سے تجزیہ کیے بغیر اپنی نوجوان نسل کے منہ پہ دلائل کے انبار لگا دیتا۔ ’دلائل‘ کا لفظ محض زورِ کلام کی خاطر کہہ دیا، وگرنہ ایسے موقعوں پہ عام طور پر واقعاتی منطق سے کام لیا جاتا ہے اور کوئی غیر متعلقہ کہانی سنا کر آخر میں زور سے یہ سکہ بند جملہ کہ ”وہی حساب آپ کا ہے“۔ جیسے یارِ عزیز، پروفیسر طاہر بخاری کو پبلک سروس کمیشن میں پہنچنے والا ایک صدمہ جب ایم فل کی ڈگری سے مسلح اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے کی ایک امیدوار یہ بتانے سے قاصر رہیں کہ سعودی عرب پاکستان کے لحاظ سے کِس سمت میں واقع ہے۔ واقعہ سُن کر میرے ذہن میں سوال اٹھا کہ آیا یہ گرد و پیش سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے یا سوچ کے مراحل میں گڑبڑ کیونکہ امیدوار کہہ چکی تھیں کہ وہ ہر روز قبلہ رو ہو کر نماز پڑھتی ہیں۔ پھر کیا ہوا؟ یہ ابھی بتاتا ہوں۔

 ہوا یہ کہ مَیں یہ واقعہ اپنے گھر میں سنائے بغیر نہ رہ سکا۔ اُس وقت بیگم کے ساتھ کچھ بھانجیاں اور بھتیجیاں بھی تھیں جو غیر ملکی تعلیم سے آراستہ ہیں۔ ایک کی آواز آئی ”انٹرویو کِس سبجیکٹ کا تھا؟“ ”انگلش کا“۔ ”تو سعودی عرب کا انگلش سے تعلق؟“ وضاحت کی کہ امیدوار نے اپنے مضمون کے بارے میں کسی سوال کا صحیح جواب نہیں دیا تھا، اِسی لئے ممتحن نے روزمرہ زندگی کا ایک نکتہ پوچھ لیا جو آسانی سے بتایا  جا سکے۔ ”یہ کوئی بات نہیں۔ میں پوچھ رہی ہوں کہ اِس سوال کا انگلش سے کیا تعلق ہے، انکل؟“ انکل چُپ کے چُپ رہ گئے۔ پھر ذرا سا وقفہ دے کر محفل میں موجود ہر وِیک اینڈ پہ بذریعہ کار لاہور سے اسلام آباد جانے والے ایک پچاس سالہ دوست سے پوچھ لیا تھا کہ کیا کبھی جی ٹی روڈ سے بھی جانا ہوا۔ جواب ملا ”مجھے تو وہ راستہ آتا ہی نہیں“۔

 دوست کا کہنا اِس لئے درست ہو گا کہ میرے پرائمری اسکول میں جس مضمون کو ضلع سیالکوٹ کا جغرافیہ اور اُس سے اونچی سطح پہ جنرل نالج کہا جاتا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے اُس کا نام پاکستان اسٹڈیز رکھ دیا گیا جس میں اب تاریخ کا مضمون بھی شامل ہے۔ پھر بھی گورنمنٹ کالج لاہور میں میرے رفیقِ کار اور بعدازاں وفاقی سیکرٹری قاضی آفاق حسین پنجاب پبلک سروس کمیشن کی رکنیت کے دنوں کا ایک واقعہ مزے لے کر سناتے ہیں۔ جب یہ واقعہ ہوا اُس روز بھی لیکچرر سے براہِ راست اسسٹنٹ پروفیسر تقرری کے انٹرویو ہو رہے تھے، جس کے لئے ایم فل اور سات سالہ تدر یسی تجربہ کی شرط تھی۔ تو واقعہ سنتے ہیں قاضی صاحب سے جو محکمانہ نمائندے اور بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ دو سینئر پروفیسروں کی موجودگی میں سلکیشن بورڈ کے صدر تھے۔ 

 ”شرعی وضع قطع کے حامل ایک امیدوار سے جن کے بارے میں بتایا گیا کہ اسلامک اسٹڈیز میں گولڈ میڈلسٹ ہیں مَیں نے تین غزوات کے نام پوچھ لئے، یعنی وہ جنگیں جن میں رسول کریمؐ نے خود شرکت فرمائی۔ امیدوار نے غزوہء بدر او ر غزوہء احد کے نام ٹھیک ٹھیک بتا دئے اور خاموش ہو گئے۔ مَیں نے تیسرے نام میں مدد کرنے کے لئے اُس غزوہ کا اشارہ دیا جس میں اللہ کے نبی ؐنے یہ کہہ کر کہ آج جسے عَلَم عطا کروں گا فتح اُس کا مقدر ہو گی، پرچم حضرت علیؓ کے ہاتھ میں دے دیا تھا۔ امیدوار نے کہا ’جنگِ سومنات‘۔ یہ سن کر مجھے لگا کہ یہ طالب علم کے لئے نہیں، ممتحن کے لئے خود کشی کا مقام ہے“۔

 پاکستان سے پہلے دو مشہور و معروف برطانوی یونیورسٹیوں اوکسفرڈ اور کیمبرج میں اِس تعلیمی دباؤ کے مسئلے پر بحث کب سے جاری ہے۔ کوئی پندرہ سال پہلے برطانیہ میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین کے ایک سروے میں یہ انکشاف کیا گیا کہ یونیورسٹی سطح پر دس میں سے ایک طالب علم کسی نہ کسی مرحلے پہ خود کشی کے بارے میں سوچتا ہے اور کیمبرج میں کئی لوگ سالانہ امتحانات کے بعد پہلی اتوار کو طنز کے طور پر ’سوئے سائیڈ سنڈے‘ کہتے ہیں۔ اِس یونیورسٹی میں مشورے یا کونسلنگ کی سہولت سے سال بھر میں اوسطاً چالیس سے بچاس ایسے اسٹوڈنٹس نے فائدہ اٹھایا جن میں مذکورہ رجحان شدید نوعیت کا تھا۔ نفسیاتی و اعصابی موضوعات پہ کام کرنے والے ایک تحقیقی ادارے نے اِس ضمن میں دو بڑے عوامل کی نشاندہی کی ہے۔ ایک ہے کسی شخص کا جینیاتی وجود اور دوسرے اُسے لاحق ہونے والا نا قدری کا احساس۔ تحقیقی رپورٹ میں ایسا کوئی حوالہ نہیں کہ دنیا میں پیدائشی طور پہ ایسی کمزور جینیاتی شخصیات کا تناسب کیا ہے جنہیں تعلیمی میدان میں ناقص کارکردگی کا تجربہ کمزور تر کر دیتا ہے۔ 

 یہاں پہنچ کر قارئینِ آئندہ نسل کی فلاح کی خاطر مجھ سے کسی انقلابی تجویز کی توقع کر رہے ہوں گے۔ میرا حالیہ تدریسی تجربہ زیادہ تر نشریاتی صحافت تک محدود ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں میں، جہاں سعودی عرب کے نامعلوم محل ِ وقوع اور جنگِ سومنات کی تعلیم دی گئی، طالب علم پہ اُتنا دباؤ نہیں ہوتا جتنا اوکسفرڈ اور کیمبرج سے منسوب خیال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ میرے مضمون میں دلچسپی لینے والے طلبہ و طالبات ہر سال ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لئے خبری مواد کی تیاری اور پیشکش کی بابت مجھ سے کچھ نہ کچھ سیکھ ہی لیتے ہیں اور اُن کے خود کشی کرنے کی نوبت بھی عموماً نہیں آتی۔ پھر بھی آپ دل سے پوچھیں کہ اُن کی تعلیم کی نوعیت کیا ہونی چاہئیے تو عرض کروں گا کہ ہائر ایجوکیشن نہیں بلکہ خواندگی کا اعلی معیار۔ مطلب ہے زبان کی سمجھ اور استعمال، تھوڑی سی ریاضی، کمپیوٹر سائنس اور تاریخ و جغرافیہ۔ یہ آخری مضمون اِس حد تک ضرور کہ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان مشرق و مغرب کا فرق جانتے ہوں اور یہ بھی کہ غزوہ کی تعریف کی رو سے سومنات کی لڑائی غزوات میں شمار نہیں ہو سکتی۔

مزید :

رائے -کالم -