تبدیلی سرکار کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتی

تبدیلی سرکار کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتی
تبدیلی سرکار کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتی

  

واہ سرکار کیا نقد سودا ہے وزارتِ خزانہ نے ٹھنڈی آہ بھر کے بتایا ہے کہ سرکاری ملازمین کو 25 فیصد ایڈہاک اضافہ دینے پر 40 ارب روپے اضافی خرچ ہوں گے مگر دوسری طرف نیپرا نے بجلی کے جو نرخ بڑھائے ہیں اس سے 200 ارب روپے عوام کی جیبوں سے مزید نکل جائیں گے گویا سرکار پھر بھی 160 ارب روپے کا منافع کمائے گی اسے کہتے ہیں ہنگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ کپتان نے کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئیں کہ گھاٹے کا سودا کریں سرکاری ملازمین نے ماریں کھائیں، آنسو گیس کے شیل برداشت کئے، سردی میں دھرنے دیئے تو 40 ارب روپے بمشکل حاصل کئے، کپتان نے ایک چھکا لگا کر 200 ارب روپے عوام سے نکلوانے کا بندوبست کر دیا اسے کہتے ہیں وژن، اسے کہتے ہیں لیڈر شپ، وہ حاکمِ وقت ہی کیا جو قومی خزانے پر بوجھ آنے دے، اچھا حاکم تو وہ ہوتا ہے جو عوام پر بوجھ ڈالے اور انہیں یہ دلاسہ بھی دے کہ اس بوجھ کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا، بوجھ تو گدھے پر بھی ڈالا جائے تو ہیچوں ہیچوں کرنے لگتا ہے، لیکن عوام یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ کپتان کو برا کیوں کہیں کپتان کو لائے بھی تو خود ہی ہیں۔

اب یہ بات کسی کی سمجھ نہیں آ رہی کہ چند دنوں میں بجلی کے نرخ تین بار بڑھانے کی نوبت کیوں آئی ایک ہی بار رگڑا کیوں نہیں نکالا گیا ارے بھائی عوام کو ایک ہی بار مارنے کی خبر بن جاتی ہے۔ بقول شاکر شجاع آبادی محبوب جب قسطوں میں مارتا ہے تو مرنے کا سواد آ جاتا ہے اس بار تو ظلمِ عظیم یہ بھی ہوا کہ پچاس یونٹس استعمال کرنے والوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ گویا کپتان جو یہ کہتے ہیں کہ ایک پاکستان بنائیں گے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیں گے تو انہوں نے اب اسے غریب دیہاڑی دار افراد تک محیط کر دیا ہے۔ یعنی اب یہ حکومت اس دلیل کو استعمال کرنے سے بھی دستبردار ہو گئی کہ اضافے کا بوجھ عام آدمی پر نہیں پڑے گا۔ بڑی جرأت کی بات ہے، وگرنہ ماضی کی حکومتیں بجلی کی قیمتیں بڑھاتی تھیں اور ساتھ ہی جھوٹ بھی بولتی تھیں کہ اس کا اثر غریب آدمی پر نہیں ہوگا۔ کپتان کی آپ کس کس بات کو جھٹلائیں گے۔ وہ تاریخی کام کر رہے ہیں اور کرتے چلے جا رہے ہیں پہلی بار یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حکومت سیاسی مصلحتوں کے تحت فیصلے نہیں کر رہی۔ اب دیکھیں کہ سینٹ الیکشن سر پر ہیں، اپوزیشن حکومت کے خلاف صف آرا ہے تازہ تازہ سرکاری ملازمین اسلام آباد سے فتح یاب ہو کر لوٹے ہیں مگر حکومت عوام پر بجلی گرانے سے باز نہیں آ رہی، اسے اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ اپوزیشن اس مہنگائی کا فائدہ اٹھا سکتی ہے عوام خود بھی سڑکوں پر آ سکتے ہیں، پس وہ اپنی دھن میں مگن ہے اور وزیر اعظم ”گھبرانا نہیں ہے“ کے چھومنتر سے کام چلا رہے ہیں۔

 بجلی کا جو نیا ٹیرف بنا ہے، اسے فلیٹ ٹیرف کا نام دیا گیا ہے، گویا کم سے کم یونٹس استعمال کرنے والوں پر بھی لاگو ہو گیا ہے۔ یہ ٹیرف تقریباً سترہ روپے فی یونٹ ہے اوپر والا ٹیرف کہاں تک جائے گا اس کا اندازہ اس وقت ہوگا جب نئے ٹیرف کے مطابق بجلی کے بل آئیں گے اور چیخیں نکلوائیں گے۔ ہماری اپوزیشن بھی بس ایک ہی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگی ہوئی ہے اسے صرف وزیر اعظم کا استعفا چاہئے اور کچھ نہیں بس یہ ہلکا پھلکا بیان جاری کر دیتی ہے کہ بجلی یا پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ظالمانہ ہے۔ اسے واپس لیا جائے۔ ایسے فرضی بیانات سے حکومت کی صحت پر کیا اثر ہو سکتا ہے، چاہئے تو یہ کہ اپوزیشن ایسے اضافوں پر ڈھنگ کا احتجاج کرے۔ الیکشن کمشن کے سامنے احتجاج کرنے کا شوق رکھنے والی اپوزیشن کبھی نیپرا، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ پٹرولیم کے سامنے بھی احتجاج کرے کہ تم یہ آئے روز اضافے کس خوشی میں کر رہے ہو، کیا عوام کو زندہ درگور کرنے میں کوئی کسر رہ گئی ہے مگر نہیں صاحب مہنگائی تو عوام کا مسئلہ ہے خواص کے مسائل تو کچھ اور ہیں۔ وہ تو سینٹ انتخابات میں خفیہ اور ظاہر بیلٹ کی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں انہیں تو اس بات سے دلچسپی ہے کہ حکومت پر دباؤ ڈال کر کچھ ریلیف حاصل کیا جائے۔ اربوں روپے کے اثاثوں کو بچانے کے لئے نیب اور عدالتوں کو کمزور کرنا ضروری ہے۔ بجلی کے بل خواص اور اشرافیہ کا مسئلہ ہے ہی نہیں ان کے گھروں پر تو دس دس بجلی کے میٹرز لگے ہوئے ہیں، کس کا بل کتنا آتا ہے اور کس کا آتا ہی نہیں، وہ اس بارے میں نہیں سوچتے یہ سوچ تو صرف سفید پوش اور غریب طبقے کی سردردی ہے۔ جو گھر کے اندر پھینکے گئے بجلی کے بل کو ایسی خوفزدہ نگاہوں سے دیکھتا ہے، جیسے کوئی سانپ گھس آیا ہو۔

رفتہ رفتہ یہ بات ثابت ہوتی جا رہی ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں عوام کو معاشی حوالے سے سکھ کا سانس لینا شاید ہی نصیب ہو۔ اب تو کپتان بھی لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیتے ہیں کہ فی الحال عوام کو ریلیف دینے کے وسائل نہیں جب خزانہ بھر جائے گا تو پھر اس بارے میں سوچیں گے۔ اب دیکھتے ہیں خزانہ بھرنے تک عوام زندہ بھی رہتے ہیں یا نہیں، یہ معاملہ تو کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک جیسا ہے۔ وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ حکومتیں پانچ سال کا سوچتی ہیں، حالانکہ ترقی کے لئے آگے کی سوچ ہونی چاہئے شاید وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ عوام ان کی پانچ سالہ مدت میں کسی اچھی خبر کو بھول جائیں البتہ پانچ سال بعد انہیں اگلی پانچ سالہ مدت کے لئے منتخب کیا گیا تو وہ اچھی اچھی خوشخبریاں سنائیں گے ایک استاد ہونے کے ناطے میرا نوجوانوں سے بڑا قریبی رابطہ ہے۔ بے روز گاری کی صورتِ حال جو میں آج کل دیکھ رہا ہو اسے دیکھ کر خوف آتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان دو، دو سال سے نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں والدین بوڑھے ہو گئے ہیں روز گار کا نیا در کھلا نہیں اوپر سے مہنگائی کا عذاب اور اس کے ساتھ کپتان کا یہ جملہ ”بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے“ عوام کے گھبرانے کا دور تو آ گیا ہے، نجانے حکمرانوں کے گھبرانے کا دور کب آئے گا۔؟

مزید :

رائے -کالم -