اسلام آباد واقعہ: مختلف شہروں میں وکلاء کی ہڑتال‘ عدالتی بائیکاٹ

 اسلام آباد واقعہ: مختلف شہروں میں وکلاء کی ہڑتال‘ عدالتی بائیکاٹ

  

مظفر گڑھ‘ خان پور‘ جام پور (نامہ نگار‘ نمائندہ پاکستان) پنجاب بار کونسل کی کال پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مظفرگرھ نے اسلام آباد کے وکلا کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے فل ڈے ہڑتال کی،ڈسٹرکٹ بار کے صدر ملک ارشد بھٹی ایڈووکیٹ اور جنرل سیکریٹری ملک شفیق الرحمان ملانہ ایڈووکیٹ نے احتجاج کرنے والے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد کے وکلا (بقیہ نمبر2صفحہ 6پر)

کے خلاف سی ڈی اے کی کاروائی اور بے گناہ وکلا کے خلاف ناجائز مقدمات کے اندراج اور وکلا کے اہلخانہ کے ساتھ ہونے والے نامناسب رویہ کی شدید مزمت کرتے ہوئے بے گناہ وکلا کے خلاف جھوٹے مقدمات فوری طور واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے وکلا نے مقدمات کی پیروی نہیں کی اور عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے دوردراز سے آنے والے سائلان کو نہائت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ میں  وکلاء کے چیمبرز توڑنے اور ان کے احتجاج پر انہیں وکلاء کے خلاف مقدمات کے اندراج کے پیش نظر پنجاب بار کونسل کی ہدایت پر بار ایسوسی ایشن خان پور نیمکمل ہڑتال کی اور کوئی وکیل عدالت میں  پیش نہ ہوا جس کی وجہ سیخان پور کی عدالتوں  میں کسی کیس کی سماعت نہ ہوسکی۔ اس موقع پر صدر بار حافظ میاں سمیع اللہ ایڈووکیٹ،سابق صدر بار عبدالرؤف ایڈووکیٹ، جام اللہ نواز ایڈووکیٹ، سردار اکمل خان ایڈووکیٹ، خورشید خان چانڈیہ ایڈووکیٹ، جام رفیق احمدایڈووکیٹ، دوست محمد کھوسہ ایڈووکیٹ، وسیم غوری ایڈووکیٹ، نعمان نواز ایڈووکیٹ، حنیف مغل ایڈووکیٹ، حسین احمدمدنی ایڈووکیٹ،زبیر احمد سبحانی ایڈووکیٹ  ودیگر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے وکلاء سے یکجہتی اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واقعہ پر وکلاء کے خلاف درج مقدمہ کے اخراج کے لیے اور وکلاء سے اظہار یک جہتی کے لیے راجن پور اور جام پور بار ایسویسی ایشنوں کی ہڑتال کی گئی جس کے تحت کوئی وکیل عدالتوں میں پیش نہ ہوئے۔ سائلین ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے مایوس گھروں کو لوٹ گئے۔ تفصیل کے مطابق  اسلام اباد میں وکلاء کی طرف سے توڑ پھوڑکرنے کے معاملہ میں وکلاء کے خلاف درج مقدمہ اور گرفتاریوں کے خلا ف احتجاج۔ اور وکلا ء سے یک جہتی کے لیے پنجاب کے دیگر اضلاع کی طرح راجن پور اور جام پور میں وکلاء کی مکمل ہڑتال کی گئی۔ کوئی وکیل عدالتوں میں پیش نہ ہوے۔ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ کرکے لوگ واپس مایوس لوٹ گئے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -