پنجاب کم عمر بچیوں اور بچوں کے لیے غیر محفوظ ہو گیا

پنجاب کم عمر بچیوں اور بچوں کے لیے غیر محفوظ ہو گیا

  

لاہور(کر ائم رپو رٹر)  پولیس کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں چھوٹے بچے پولیس کی عدم توجہی کی وجہ سے غیرمحفوظ ہیں، رواں سال کے پہلے مہینے جنوری میں 100 کم عمر بچے اور بچیوں بداخلاقی کا نشانہ بنا دیا گیا، لاہور میں جنوری میں 21 بچے اوربچیاں درندگی کا نشانہ بنے،لاہورمیں 4 جبکہ صوبہ بھرمیں 11 کیسز کو عدم شواہد کی بنیاد پر کینسل کردیا گیا، پولیس نے 61 کیسز میں ڈی این اے سیمپلز لے کرفرانزک لیب کوبھجوائے صرف 7 کیسز کی رپورٹس تاحال پولیس کو واپس بھجوائی گئیں صوبہ بھر  میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں 105 ملزمان کو  نامزد کیا گیا، 19 ملزمان پولیس کی گرفت سے باہر ہیں جبکہ 11کو تفتیش کے بعد معصوم قرار دیاگیا، 5  نے عبوری ضمانت کروا رکھی ہے زینب قتل کیس جیسا کیس ہائی لائٹ ہونے پر آئی جی سمیت تمام متحرک ہوتے ہیں پولیس   اعدادوشمار کے مطابق روزانہ اوسطاً 3 کم عمر بچے اور بچیاں جنسی درندگی کانشانہ بنتے ہیں، لیکن پولیس بچوں کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہے، وزیراعظم کی جانب سے بچوں کے کیسز  میں خصوصی توجہ دینے کہا گیا ہے۔ 

مزید :

علاقائی -