جمعیت دین اسلام کے تحفظ اور ملک وقوم کی قیادت کیلئے سیسہ پلائی دیوار ہے: سینیٹر عطاء الرحمان 

جمعیت دین اسلام کے تحفظ اور ملک وقوم کی قیادت کیلئے سیسہ پلائی دیوار ہے: ...

  

صوابی(بیوروپورٹ)جمعیت علماء اسلام صوبہ خیبر پختونخوا کے امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے کہا ہے کہ جب تک جمعیت کا ایک ورکر زندہ ہو تب تک کوئی بھی پارلیمنٹ میں آئین پاکستان سے اسلامی دفعات اور تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے تر میم یا اسے ختم کرنے کی جر أت نہیں کر سکے گا وہ موضع کالا درہ میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے جس میں ڈاکٹر سلیم اکبر، ڈاکٹر جہانگیر اور حاجی ندیم اکبر نے اپنے خاندانوں اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت جے یو آئی میں شمولیت کا اعلان کیا جب کہ اجتماع سے ضلعی امیر مولانا فضل علی حقانی، جنرل سیکرٹری نور الا سلام، مولانا قمر زمان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں جے یو آئی واحد سیاسی قوت ہے جو دین اسلام کے تحفظ اور ملک و قوم کے قیادت کے لئے سیسہ پلائی ہوئی کر دار ادا کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر اُمت مسلمہ کے خلاف ایک سازش کا آغاز ہو چکا ہے جس کے تحت علماء، مدارس اور مساجد اس کا ہدف ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی بنیاد اکتیس دسمبر 1919کو اکابرعلماء ہند نے رکھی تھی یہ جماعت دین اسلام کے تحفظ اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لئے بنائی گئی جماعت ہے یہ جبر وقتی طور پر اور علاقائی جماعت نہیں ہے آج بھی مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں یہی جماعت دین اسلام کے تٖحفظ اور امت مسلمہ کی رہنمائی کے لئے بھر پور انداز میں کر دار ادا کر رہی ہے اس جماعت کے ساتھ تعاون کرنے والے دونوں جہانوں میں سرخ رو ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت آنے والی نسل اور امت کے لئے ایک بڑی مشکل کا سامنا ہے اس لئے عالمی کفر کا دین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا راستہ روکنا اور مقابلہ کرنا انتہائی مشکل کام ہے لیکن قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے واضح موقف اپنایا ہے کہ اس حوالے سے وہ اکیلے کیوں نہ ہو اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ آج عالمی کفر پریشان حال ہے کہ علماء کا راستہ کس طرح روکا جا سکے۔ ان قوتوں نے علماء کو خریدنے کے لئے ہر قسم کی کوششیں کی لیکن کوئی بھی عالم دین اور نہ ہی جمعیت کی قیادت کو خریدا جا سکا آج ہر طرف علماء کے خلاف پروپیگینڈ ہ جاری ہے جب کہ میڈیا بھی جمعیت کے خلاف ہے اسی طرح میڈیا پر قدغن بھی لگایا جارہا ہے۔اور عالمی قوتیں موجودہ حکومت کے ذریعے بھر پور کوشش کر رہی ہے کہ کس طرح آئین پاکستان سے تحفظ ختم نبوت اور اسلامی دفعات کو ختم کیا جا سکے۔پارلیمنٹ اور ایوان بالا میں جمعیت کے ممبران کے تعداد آٹے میں نمک کے برابر نہیں لیکن اس کے باوجود ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -